”شہید ِ جہادِ افغانستان“ جنرل محمد ضیاء الحق

”شہید ِ جہادِ افغانستان“ جنرل محمد ضیاء الحق

  

آج میرے والد جنرل ضیاء الحق شہید کی 32 ویں برسی منائی جا رہی ہے، انہیں ہم سے جدا ہوئے عرصہ بیت گیا لیکن آج بھی ان کی زندگی کے مختلف پہلو ہمارے ذہن پر نقش ہیں، بالخصوص پاکستان، اہل پاکستان، اہل کشمیر اور جہاد افغانستان کے لئے ان کی جدوجہد کا ایک ایک دن ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ افغانستان کے لئے ان کی شبانہ روز محنت کا ایک ایک پل یادگار ہے، اگر ماضی کے اوراق پلٹے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ 1845ء میں 16ہزار برطانوی افواج افغان جنگ میں افغان سرزمین پر شکست سے دوچار ہوئیں۔جری افغانوں کے حملوں میں 16 ہزار برطانوی فوج کا ایک بھی سپاہی زندہ نہ بچا۔ گھمسان کی جنگ نے برطانیہ کو افغانیوں کے مقابل گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ ایک برطانوی ڈاکٹر کو زندہ رکھا گیا، تاکہ وہ اس جنگ کے احوال تاجِ برطانیہ کے سامنے بیان کر سکے۔ اس ڈاکٹر نے سارے احوال اپنے آقاؤں کے سامنے بیان کئے، جس سے برطانوی افواج نے ایسا سبق سیکھا کہ اس کو پھر کبھی سرزمین افغانستان پر قدم رکھنے کی ہمت نہ ہوئی۔ اس لئے امریکی افواج کی مشکلات سمجھ میں آتی ہیں۔ امریکی افواج کو اپنی قوت پر بڑا مان رہا ہے، لیکن افغانستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں گویا ان کی تمام حربی صلاحیتیں جامد ہو چکی ہیں۔ ہرنشانہ اپنے ہدف پر لگنے کے باوجود میدان میں اسے کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو رہی ہے۔ سینکڑوں نہیں، ہزاروں امریکی فوجی اس میدان جنگ میں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ امریکہ افغانستان سے محفوظ اور باعزت واپسی کا خواہاں ہے۔ اور اس میں اس کی مدد صرف اور صرف پاکستان ہی کر سکتا ہے۔ اس بارے میں بھارت کا کردار کسی جگہ بھی نظر نہیں آتا، کیونکہ افغانوں کے ساتھ جو محبت کا رشتہ جنرل محمد ضیاء الحق شہید نے بڑی محنت سے استوار کیا تھا اسے بھارت اپنی ریشہ دوانیوں سے کبھی ختم نہیں کر سکتا۔ افغان جہاد کے دوران دو قومیں ایک ہوئیں۔ کلمہ طیبہ کا رشتہ خون کے رشتہ سے زیادہ مضبوط ثابت ہوا۔ پاکستانی قوم افغانیوں کے لئے دیدہ و دل فرشِ راہ کئے ہوئے ہیں۔ کوئی بھی وقتی چال اس جذبہ کو ماند نہیں کر سکتی۔ افغانستان میں بالا دستی کا بھارتی خواب کبھی شرمندہِ تعبیر نہیں ہو گا۔ آج بھارت افغانستان کی سرزمین کو استعمال کر کے پاکستان میں عدمِ استحکام پیدا کرنے کی سازشیں کر رہا ہے۔ یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ افغان جہاد کو ابتداً کسی دوسرے ملک کی عملی حمایت حاصل نہیں رہی۔

روس گرم پانیوں تک پہنچنے کے لئے افغانستان کی سرزمین پر قبضہ کرنا چاہتا تھا۔ اس کی منزل بہرحال پاکستان تھی جس کے خلاف جذبہ جہاد سے سرشار افغانستان کی کابل یونیوسٹی کے جوانوں نے بند ھ باندھے رکھا۔ اس جہاد کا آغاز 1979 میں ہوا۔ دو سال تک افغان تن تنہا روس کا مقابلہ کرتے رہے۔ 1981میں امریکہ آگے آیا اور روس کے خلاف افغانوں کی فوجی امداد کا آغاز کیا۔ افغان جہاد کو روس اور امریکہ کی جنگ قرار دینے والے حقائق آشنا نہیں۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ افغان جنگ میں مجاہدین نے اللہ کی نصرت سے کامیابی حاصل کی۔ اور اس کے ثمرات مملکتِ خداداد پاکستان نے سمیٹے۔ یہ دفاع پاکستان کی ایک ایسی جنگ تھی، جس میں پاک فوج کا ایک جوان بھی شہید نہیں ہوا، لیکن پوری دنیا میں افغان جنگ کی فتح کا سہرا پاکستان کے سر سجا۔ جنرل ضیاء الحق کی شہادت پر انہیں مجاہدین نے ”شہیدِ جہادِ افغانستان“ کا خطاب عطا کیا۔ افغان جہاد کی کامیابی سے مسلمانوں میں بیداری کی ایک نئی لہر ابھری، جس کے نتیجہ میں روس اپنے وجود کو بھی برقرار نہ رکھ سکا وسطی ایشیائی ریاستوں میں آزادی کا سورج طلوع ہوا۔ ازبکستان، ترکمانستان، تاجکستان،آذر بائیجان اور قازقستان ایسی ریاستیں تھیں جہاں مسلمان آباد تھے، لیکن کمیونزم کے جبر کی وجہ سے اپنی مذہبی تعلیمات اور اس کی بنیادی اقدار سے نا آشنا تھے۔ روس سے آزادی کے بعد وہاں مساجد میں اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوئیں۔ اور عوام نے دیوانہ وار مساجد کا رخ کیا۔ کسی نے پہلی بار کلمہء طیبہ با آواز بلند پڑھا اور کسی نے کتاب اللہ کی آیات پہلی بار تلاوت کیں۔ یہ افغان جہاد کے ثمرات ہی تھے جس نے وسطی ایشیاء کی ریاستوں کو ان کی پہچان اور شناخت دی اور افغان جہاد کے ثمرات وسطی یورپ میں بھی نظر آئے۔ بو سنیا کی مساجد سے اذان کی آواز بلند ہوئی۔ ظلم و جبر کے پہاڑ ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ جرمن عوام نے خونی لکیر کو عبور کیا۔ دیوارِ برلن قصہ پارنیہ بن گئی۔ مصدقہ ذرائع کی خبر ہے کہ دیوارِ برلن کے انہدام کا آغاز جس اینٹ سے ہوا تھا وہ اینٹ آج ہماری ا فواج کے پاس محفوظ ہے۔

ایک دفعہ دورہ پشاور کے دوران صدر ضیاء  الحق نے کہا تھا کہ روسی افواج کے انخلاء کے بعد میں کلِ چرخی کی جامع مسجد میں دو رکعت نوافل شکرانہ ادا کرنا چاہوں گا۔ افسوس کہ اجل نے اْن کو محلت نہ دی، لیکن جب میں 1991 ئمیں احمد شاہ مسعود اور گلدبدین حکمت یار کے درمیان صلح کرنے کے لئے افغانستان گیا تو میں نے کلِ چرخی کی جامع مسجد میں اْن کی طرف سے شکرانے کے نوافل ادا کئے اس وقت عجیب منظر تھا ہزاروں مرد خواتین اور بچے آنکھوں میں آنسو لئے صدر ضیاء الحق کی مغفرت کے لیا دعا گو تھے۔

افغان جہاد نے خالصتان کی تحریک کو بھی جلا بخشی۔ سکھ عوام بیدار ہوئے۔ اور انہوں نے بھارت کے خلاف علمِ بغاوت بلند کیا۔ بد قسمتی سے بعض نا عاقبت اندیش حکمرانوں نے آزادی کے متوالے سکھوں کی فہرست بھارتی حکومت کے حوالے کر دی تھی۔ جس کے نتیجہ میں خالصتان تحریک کو تہ تیغ کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن خالصتان تحریک اب بھی زندہ ہے۔ بھارت سمیت دنیا بھر میں بسنے والے سکھوں کی منزل خالصتان ہے۔ وہ بھند رانولہ اور خالصتان تحریک کے دوران بہنے والے خون کو بھولے نہیں۔

میرا یقینِ کامل ہے کہ کسی بھی حق پرست تحریک کو دبایا نہیں جا سکتا۔ افغانستان میں افغان طالبان کی حکومت کے خاتمہ کے بعدیہ تصور کیا جانے لگا ہے کہ اب شاید ہی کوئی افغان طالبان کا نام لے سکے، لیکن نہ جانے کیوں افغان طالبان کی حکومت کے خاتمہ کے بعد چھٹی حس یہ کہہ رہی تھی کہ ایک نہ ایک روز امریکہ کو اپنی غلطی کا احساس ہو گا اور اسے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنا ہوں گے۔ پھر چشمِ فلک نے دیکھا کہ امریکی زعما ملا عبدالسلام ضعیف کی قیادت میں افغان طالبان سے مذاکرات کرنے پر مجبور ہوئے۔ تاریخ کے بے رحم دھارے نے کا یا پلٹ دی۔ گوانتا نامو بے کے مجرم سے امن کی بھیک مانگی گئی۔ شاید یہ سمجھا جاتا رہا کہ افغان سرزمین کا خمیر بدل گیا ہے، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ ”افغان باقی کو ہسار باقی“ اور الحکم للہ۔ 15 لاکھ افغان مجاہدین کے خون سے افغان سرزمین سیراب ہوئی اور اس کی فتح کا خواب دیکھنے والے سمجھ گئے کہ عزت اس میں ہے کہ اپنا دامن کسی نہ کسی طرح بچا لیا جائے۔ اس دلدل سے کسی نہ کسی طرح نکلا جائے اور اس کا راستہ افغان طالبان سے مذکرات کے ذریعہ سے ہی نکالا جا سکتا ہے۔ انجیر گلبدین حکمت یار پاکستان تشریف لائے۔ انکی پاکستان سے محبت اور شہیدِ جہاد افغانستان جنرل محمد ضیاء الحق سے والہانہ عقیدت کا جذبہ آج بھی اسی طرح بر قرار ہے جس طرح آج سے 30 سال قبل تھا۔ ان سے ہونے والی گفتگو آیندہ کسی تحریر میں زیبِ قرطاس کروں گا، لیکن اس نشت میں اتنا ضرور بیان کروں گا کہ وقت کا تیز دھار آلہ افغان اسلامی قیادت کی مملکتِ خداد پا کستان سے والہانہ عقیدت ختم نہیں کرسکتا۔

کشمیری عوام کی بے بسی دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ جنرل محمد ضیاء الحق کی کشمیر پالیسی نے بھارت کو اندرونی خلفشار میں اتنا الجھا دیا تھا کہ تحریک آزادی کشمیر کا سورج طلوع ہوا ہی چاہتا تھا۔ جہاد افغانستان اور جہادِ کشمیر سے جنرل محمد ضیاء الحق شہید کی عقیدت اور وابستگی کا یہ عالم تھا کہ کئی بار خود میدانِ جہاد میں پہنچ جا تے۔ پروفیسر حافظ محمد سعید چند سال پہلے لاہور میں منعقدہ سیمنار میں خطاب کرتے ہوئے بتا رہے تھے کہ افغان جہاد کے دوران جلال آباد کا ایک پل روسی بمباری سے تباہ ہو گیا۔ یہ پل جلال آباد اور افغانستان کے دیگر علاقوں میں رابطہ کا اہم ذریعہ تھا۔ حافظ سعید نے بتایا کہ میں یہ خبر سنتے ہی وہاں پہنچا اور جب پل کی حالت دیکھی تو پریشانی کے عالم میں پوچھا کہ اب کیا ہو گا۔ مجاہدین یک زبان ہو کر بولے کہ فکر کی کوئی بات نہیں۔ جنرل محمد ضیاء الحق کل یہاں خود آئے تھے اور اس پل کی دوبارہ تعمیر کے احکامات اور بندوبست کر کے گئے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ یہ سب آزمائشیں ہیں جس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ ان شاء اللہ فتح محب مجاہدین کی ہو گی۔

جنرل محمد ضیاء الحق کی جلائی ہوئی شمعیں روشن رہیں گی۔ ملک کو ایٹمی قوت بنانے میں جنرل محمد ضیاء الحق کا کردار بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ وہ پاکستان کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے لئے بے چین رہتے تھے۔ ان ہی کی کاوشوں کے باعث 13مارچ 1983ئمیں (Kiran) کیران پہاڑ سرگودھا کے پہاڑی سلسلے میں ایٹمی صلاحیت کے کولڈ ٹیسٹ (Cold Test) کا کامیاب تجربہ ہوا۔ پھر ان ہی خطور پر چلتے ہوئے 1998ء  میں ایٹمی تجربات کئے گئے۔

ہم میں سے بہت کم پاکستانیوں کو علم ہو گا کہ چاغی بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں میں بڑی جان فشانی سے تعمیر کی گئی سرنگ ((Tunnel 1983 میں ہی مکمل کر لی گئی تھی۔ تاہم باوجوہ باقی فیصلہ موخر کر دیا گیا۔ یہ ایٹمی میدان میں ہماری بتدریج کامیابیوں کا ہی اثر اور ثمر تھا کہ صدر جنرل محمد ضیاء الحق شہید نے بھارتی سرزمین پر کھڑے ہو کر راجیو گاندھی کو وہ تاریخی کلمات کہے تھے جسے سن کر راجیو گاندھی سمیت بھارتی سورماؤں کے پسینے چھوٹ گئے تھے۔ اور بھارتی افواج دوسرے ہی دن ہماری سرحدوں سے دور بھاگتی نظر آئیں۔ امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات میں ایٹمی تنازعہ ہمیشہ وجہ عناد بنا رہا۔ مختلف اوقات میں مختلف نشیب و فراز آتے رہے۔ امریکہ کو یقین تھا کہ پاکستان ایٹمی پیش رفت پر پوری سنجیدگی اور مستعدی سے عمل پیرا ہے لہذا وہ مختلف حیلے اور حربے استعمال کر کے رکاوٹیں پیش کرتا رہا۔ کبھی آئینی ترامیم کے ذریعے کبھی تادیبی کاروائیوں اور دھمکیوں کے ذریعے۔ ایک مرتبہ امریکی سنیٹرز کا ایسا ہی ایک بھاری بھر کم وفد پاکستان پہنچا اور صدر ضیاء الحق سے ملاقات کی۔ اس وقت پاکستان کے لئے امریکی امداد کو امریکی صدر کی سرٹیفیکشن Certification))سے مشروط کر دیا گیا تھا۔ وفد نے اس بات پر زور دیا کہ ہمارے سنیٹرز پاکستان کے نقطہ نظر سے مطمئن نہیں ہیں۔ آپ اور آپ کے ایٹمی سائنسدان ان سنیٹرز کو مطمئن کریں اور اپنے ایٹمی پروگرام کا معائنہ کرنے دیں ورنہ آپ کی امداد بند کر دی جائے گی۔ ضیاء الحق نے جواب دیا کہ میں پاکستان کا صدر ہوں میرے الفاظ آپ کو مطمئن کرنے کے لئے کافی ہونے چاہیں۔ ان سنیٹرز کو مطمئن کرنا میرا نہیں آپ کا اپنا کام ہے۔ ہم لوگ آپ کی اندرونی الجھنوں (Internal Machinations) کے ذمہ دار نہیں۔ جوں یہ وفد ناکام واپس چلا گیا مگر پھر بھی پاکستان کو امریکی صدر کی طرف سے استثناء مل گیا۔

.جنرل محمد ضیاء الحق شہید نے مسئلہ کشمیر کو ہر عالمی فورم اور ہر ہر سطح پر پوری جرات اور شدت کے ساتھ دکھایا۔ بھارت کے خلاف ان کی جارحانہ پالیسی کے نتیجہ میں کشمیری مجاہدین نے آزادی کا علم بلند کیا۔ آج جموں و کشمیر میں جرات و بہادری کی داستان رقم کرنے والے مجاہدین و غازیوں میں بیشتر جنرل محمد ضیاء الحق کو اپنا ہیرو مانتے ہیں۔ یہ صدر جنرل محمد ضیاء الحق کا دورِ حکومت تھاجب کشمیری مجاہدین سنگلاخ چٹانوں کا سینہ چیرتے ہوئے اور جسم و جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے تحریکِ آزادی کشمیر کے بیس کیمپ آزاد جموں و کشمیر پہنچے۔ حال ہی میں بزرگ حریت راہنماء سید علی گیلانی نے بھارت کے بارے میں جن خدشات کا اظہار کیا ہے اس کو معمولی نہ سمجھا جائے۔ جموں و کشمیر کی آزادی پاکستان پر قرض ہے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے جموں و کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ یہ ناممکن ہے کہ ہماری شہ رگ دشمن کے قبضہ میں رہے اور ہم زندہ رہ سکیں۔ یہ وقت کشمیر بارے میں صرف بیانات اور سفارتی حمائت کا اعادہ کرنے کا نہیں بلکہ ہمیں اپنے کشمیری بھائیوں کو باور کرانا ہو گا کہ ہم ان کے شانہ بشانہ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔

ادغامِ کشمیر کی موجودہ بھارتی کوشش نے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی امن کو شدید خطرات سے دو چار کر دیا ہے۔ دو ایٹمی ممالک کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ عالمی قوتوں کو اس شدید خطرے کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے فور ی اور موثر کاروائی سے اس صورتِ حال کو سنجیدگی سے سنبھالا دینا چاہے۔ اقوام متحدہ کے سیکٹری جنرل کا حالیہ بیان حوصلہ افزا ہے۔ ہمیں جرات مندانہ اور موثر سفارت کاری کے ذریعے صورتِ حال کو بدلنے میں مستعدی لانی چاہیے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -