شہید کی ماں ہونے پر فخر ہے!

شہید کی ماں ہونے پر فخر ہے!

  

اللہ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے مجھے فرمانبردار اولاد عطا فرمائی، بیٹے اور بیٹیاں سب ایسے ہیں کہ ان کی والدہ ہونے پر مجھے فخر ہے اور میں شکر بھی ادا کرتی ہوں۔ ضیاء میری ساری اولاد میں سے الگ تھا۔ اسے ایسے بھاگ لگے کہ کسی کو نہیں لگے۔ میں خطا کار ہوں، عاجز ہوں، لیکن اللہ تعالیٰ کے بھید نرالے ہیں۔ وہی جانتا ہے کہ اس نے مجھے اس انعام کا مستحق کیوں جانا۔ میں تو سا پر اس کے حضور شکر ہی ادا کر سکتی ہوں۔ضیاء کی عادتیں بچپن ہی سے اچھی تھیں۔ لڑنا نہ جھگڑنا، مارنا نہ مار کھانا، بہن بھائیوں سے محبت سے پیش آنا اور ان کی عزت کرنا۔ وہ لڑکپن ہی سے بڑا بڑا سا لگتا تھا۔ اس کی عادتیں بزرگوں جیسی تھیں۔ میرے تو وہ اشاروں پر چلتا رہا۔ میرے چہرے سے میری طبیعت کا پتہ لگا لیتا تھا۔ والد کی فرمانبرداری بھی خوب کی۔

میرے شوہر محمد کبر علی شملہ میں ملازم تھے، آرمی ہیڈ کوارٹرز میں کام کرتے تھے، ہماری رہائش جالندھر میں تھی۔ جالندھر شہر کے قریب بستی شیخ درویش میں ہمارا گھر تھا، ہماری شادی 1918ء یا 1919ء کے دسمبر میں ہوئی۔ ضیاء الحق 1924 میں پیدا ہوا، بستی شیخ ہی میں۔ اس دن عاشورہ تھا۔ امام حسینؓ کا یوم شہادت شاید اسی دن کی مناسبت سے اس کی تقدیر میں بھی شہادت لکھ دی گئی تھی۔ اس نے بھی سچ کے راستے پر چلتے ہوئے جان دی۔ انگریزی مہینے اگست کی اس دن 12 تاریخ تھی۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے چار بیٹے اور تین بیٹیاں عطا کیں۔ ایک بیٹی کا سولہ سال کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ لڑکوں میں ضیاء سب سے بڑا تھا۔ ایک بیٹی رضیہ اس سے دو سال بڑی ہے جبکہ باقی سب بھائی بہن اس سے چھوٹے تھے۔ ضیاء کو پڑھائی کا بہت شوق تھا۔ کتابوں میں اس کا جی بہت لگتا تھا۔ نہ اس کو سکول زبردستی بھیجنا پڑتا تھا اور نہ ہی مار پیٹ کر پڑھانا پڑتا تھا۔ وہ پوری ذمے داری سے اپنا کام کرتا۔ ہمیشہ اپنی جماعت میں اول یا دوم آتا۔ چھٹی جماعت میں اسے (ٹاپ بوائے) بہترین لڑکے کا بیج ملا، سکول میں سکاؤٹ بنا بہن بھائیوں سے ہمیشہ محبت کا سلوک کیا۔

فوج میں بھرتی ہونے کا اس کو خود ہی شوق تھا، معلوم نہیں یہ شوق اس کے دل میں کیوں پیدا ہوا لیکن یہ بہر حال معلوم ہے کہ وہ فوج میں بھرتی ہونا چاہتا تھا۔ اس کے والد مولوی اکبر علی کی بھی یہی رائے تھی وہ اسے فوج میں بھیجنا چاہتے تھے لیکن اس کے لئے انہوں نے کوئی دباؤ نہیں ڈالا، یہ فیصلہ ضیاء نے اپنی مرضی سے کیا۔

ہمارے گھر کا ماحول اور تربیت ایسی تھی کہ مذہب کی بہت پابندی تھی۔ ضیاء بھی ابتداء ہی سے نماز روزے کا پابند تھا۔ اس کے دل میں ابتداء ہی سے اسلام کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری گئی تھی۔ بچپن ہو یا لڑکپن یا بڑھاپا، میں نے اس میں کوئی بری عادت نہیں دیکھی۔ نہ اس نے جھوٹ بولا، نہ کسی کا دل دکھایا، نہ کسی کا حق مارا۔ شادی ہوئی تو بھی ویسے کا ویسے رہا، بچے پیدا ہوئے تو پھر بھی ویسا ہی تھا۔ اپنے بچپن سے لے کر بڑھاپے تک اس کے پورے چونسٹھ سال میرے سامنے ہیں، میں نے ساری عمر اسے پاک صاف دیکھا ہے۔ شملہ سے تھوڑی دور ایک بستی ٹوٹی کنڈی ہے، جس کے پرائمری سکول میں ضیاء نے پرائمری تعلیم حاصل کی، وہ اپنی جماعت کا مانیٹر تھا۔ اس کا خط بہت اچھا تھا کیونکہ اس زمانے میں بچے تخلی پر لکھنا سیکھتے تھے، ماسٹر لوگ بھی اس طرف بڑی توجہ کرتے تھے۔ ضیاء کا خط بھی تختی پر لکھ لکھ کر بہت اچھا ہو گیا تھا۔ ضیاء محلے کے بچوں کو جمع کر کے نماز پڑھاتا۔ امامت کرتا تھا، نماز پڑھنے کے لئے گھر کے ایک کمرے کو مخصوص کر رکھا تھا۔ گورنمنٹ ہائی سکول شملہ میں بھی تعلیم حاصل کی۔ وہ اور امین الحق اس سکول میں پڑھتے تھے جو اس سے دو سال چھوٹا ہے۔

سینٹ سٹیفن کالج، دہلی میں اس نے داخلہ لیا اور وہاں سے بی اے کر رہا تھا کہ فوج میں بھرتی ہو گیا، دوسری عالمی جنگ چھڑی ہوئی تھی، فوج کی نوکری بڑے خطرے کی بات سمجھی جاتی تھی، لوگ اس کے والد صاحب سے پوچھتے تھے کہ آپ نے یہ کیا کیا؟ ان دنوں میں اپنے بیٹے کو فوج میں کیوں بھیج دیا؟ وہ وہی جواب دیتے جو ہر مسلمان دیتا ہے:

”زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے۔“

پاکستان قائم ہوا تو ہم لوگ جالندھر سے ہجرت کر کے لاہور پہنچے۔ کئی دن کیمپ میں گزارے۔ یہ سفر خدا خدا کر کے کٹا لاہور سے ہم ضیاء کے پاس نوشہرہ چلے گئے۔ اس کے والد پشاور میں ایک مکان الاٹ کرانے میں کامیاب ہو گئے تو میں بچوں کے ساتھ پشاور آ گئی۔ ہماری رہائش پشاور میں تھی تو اس کی شادی ہوئی، شادی کے بعد بیوی وہیں رہتی تھی۔ وہ ہر ہفتے نوشہرہ سے آیا کرتا تھا۔ میں نے اس کو کبھی روزے چھوڑتے نہیں دیکھا، شدید گرمیوں میں بھی وہ صبر اور شکر کا بندہ بنا رہتا۔

کھانے کی چیزوں میں نقص نکالنے کی اسے عادت نہیں تھی۔ اللہ تعالیٰ کے رزق کو اللہ کا شکر ادا کر کے کھاتا۔ جو چیز بھی پکا کر سامنے رکھ دی جاتی، کسی غصے اور گلے کے بغیر اس سے پیٹ بھر لیتا۔ ویسے وہ کھاتا ہی کیا تھا، چند لقمے، تھوڑی سی روٹی، پیٹو وہ کبھی نہ تھا۔ ٹھونس ٹھونس کر کھانے کی کبھی کوشش نہیں کی، بھوک رکھ کر کھاتا اور شکر الحمد للہ کہہ کر دستر خوان سے اٹھ جاتا۔

آخری ملاقات اس سے 16 اگست کی رات کو ہوئی، وہ مجھ سے ملنے میرے کمرے میں آیا مجھے دیکھے بغیر اسے چین نہیں آتا تھا اور میں بھی اسے دیکھے بغیر رہ نہیں سکتی تھی۔ مجھے کیا خبر تھی کہ وہ آخری بار مجھ سے ملنے آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے زندگی میں بھی سرخرو کیا اور شہادت کی موت بھی نصیب فرمائی۔ اس کی صورت ہر وقت میری آنکھوں کے سامنے رہتی ہے، لیکن شکر ہے میرے مولا کہ تو نے مجھے شہید کی ماں بنایا، میرے بیٹے نے اپنے ملک اور اپنے دین کے لئے زندگی گزاری اور اسی کے لئے جان دے دی شکر ہے میرے مولا، تیری رضا پر میں راضی ہوں۔!!!

(بشکریہ: قومی ڈائجسٹ)

مزید :

ایڈیشن 1 -