محمد ضیاء الحق اور ان کا عہد!

 محمد ضیاء الحق اور ان کا عہد!

  

جنرل محمد ضیاء الحق کے مداح بھی بہت ہیں اور نقادوں کی بھی کمی نہیں۔ ان کے شدید ترین حامی بھی موجود ہیں اور شدید ترین مخالف بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان کے دور حکومت پر مختلف حوالوں سے تنقید بھی کی جا سکتی ہے اور مختلف حوالوں سے اس کی تعریف بھی کی جا سکتی ہے۔ جنرل صاحب کے دور کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ بھٹو صاحب کے دور خرابی کا نتیجہ تھا۔ اسے گزشتہ عہد کے ساتھ پیوستہسمجھ کر دیکھا جائے تو رات کے بعد دن کا سماں بندھ جاتا ہے۔ اس جمہوریت میں مارشل لاء جیسی رعونتیں موجود تھیں اور اس مارشل لاء میں جمہوریت جیسی رواداری اور وسیع ظرفی موجود تھی۔ بھٹو صاحب کے اقتدار کا سورج ڈوبا، تو مارشل لا کی رات نے ڈیرے ڈال لئے، لیکن اس کو ضیاء الحق کے چاند نے خوش گوار بنا دیا۔ ظلمتوں کے احساس کو چاندنی نے دبا سا لیا۔

جنرل ضیاء الحق کا مارشل لاء اگر کسی اور وقت آتا تو شاید اس کی طوالت کو ممکن نہ بنایا جا سکتا، لیکن نام نہاد جمہوریت کے ساتھ ساتھ اس کا منظر سامنے آنے کی وجہ سے اسے بھی نام نہاد مارشل لاء سمجھا جانے لگا۔یہ مارشل لا اس لحاظ سے بھی خوش نصیب ثابت ہوا کہ اس نے سیاسی عمل کا دروازہ کھولنے کی کامیاب کوشش کی اور جنرل ضیاء الحق اس طرح اس جہاں سے رخصت ہوئے کہ دستور نافذ تھا، انتخابات کی تاریخ کا اعلان کیا جا چکا تھا، تمام سیاسی عناصر میدان میں تھے اور عدالتوں کو فیصلے کرنے کے مواقع میسر تھے۔

کسی عام انسان کے لئے ممکن نہیں کہ اپنی زندگی کا ہر ہر لمحہ، دوسروں کے لئے مثال بنا کر دکھا دے۔ یہ پیغمبروں کی صفت ہے کہ ان کا لمحہ لمحہ مثالی ہے، وہ کسی لغزش پر قائم نہیں رہ سکتے، اللہ تعالیٰ کی براہ راست نگرانی میں ان کی زندگی کا سفر طے ہوتا اور روشن چراغ بن جاتا ہے۔ جنرل صاحب سب کچھ ہونے کے باوجود ایک انسان تھے اور انسانوں کی کمزوریاں ان میں بھی تھیں۔ ان کی خواہشات ان کے دل میں بھی ہوں گی، لیکن ان کی بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ عام آدمی تھے۔ صدر بن کر بھی انہوں نے خود کو آدمی ہی سمجھا، خدا نہیں بنایا۔ ان کی زندگی کے مختلف واقعات سے قطع نظر، ان کی عاجزی، انکساری اور ملنساری سے قطع نظر، انہوں نے افغانستان کی جنگ کے حوالے سے جو کچھ کر دکھایا، مجاہدین کی جس طرح پشت پناہی کی اور مہاجرین کو جس طرح پاکستان میں پناہ دی، اس نے ان کو ایک نرالی شان اور نرالی آن بان عطا کر دی۔ ہماری قومی آزادی کو محفوظ بنانے کا شان دار کارنامہ انہوں نے سر انجام دیا اور ان کی یہ کامیابی اتنی بھاری، اتنی وزرنی اور اتنی بڑی ہے کہ بہت کچھ اس کے نیچے دب جاتا ہے۔ وہ ایک ایسی شخصیت کے طور پر ابھرتے ہیں کہ تاریخ جس کو سلام کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتی۔

وہ آٹھ سال تک روس کو کابل سے پیچھے دھکیلنے میں مصروف رہے۔ ایسا نہ کیا جاتا تو آج اسلام آباد سے کراچی تک نقشہ مختلف ہو سکتا تھا۔ ایسا نقشہ جس میں نہ سپریم کورٹ ہوتی، نہ سیاسی جماعتیں، نہ آزاد اخبارات نام کی کوئی شے، غلامی کے اندھرے میں کوئی ستارہ کہاں چمک پاتا ہے؟ آج جو بحثیں چھیڑی جاتی ہیں اور جو نکتے اٹھائے جاتے ہیں، آزادی کی نعمت کا شکر ادا کرنے کے بجائے اور اس کی حفاظت کے لئے کی جانے والی آٹھ سالہ جدوجہد کا اعتراف کرنے کے بجائے، طرح طرح کے افسانے سن کر اور سنا کر لطف اٹھایا جاتا ہے، یہ سب اسی لئے ممکن ہوا ہے کہ روس کے قدم آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

مکان کو محفوظ رکھنے والے اور اس کے سازو سامان کرنے والے سے یہ نہیں پوچھا جاتا کہ تم نے قورمہ پکا کر باورچی خانے میں کیوں نہیں رکھا؟ ڈرائنگ روم میں چارپائیاں کیوں بچھا دی ہیں اور بیڈ روم میں کھانے کا دستر خوان کیوں لگایا ہے۔؟

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -