سی پیک کے تحت تعمیر ہائیڈ رو پاور منصوبوں سے 3415میگاواٹ بجلی ملے گی

سی پیک کے تحت تعمیر ہائیڈ رو پاور منصوبوں سے 3415میگاواٹ بجلی ملے گی

  

  اسلام آباد (اے پی پی) چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت 7.603 ارب ڈالر کی لاگت سے پاکستان میں ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے ذریعے 3415 میگاواٹ گرین انرجی پر تیزی سے کام جاری ہے جبکہ 16 ہزار 750 پاکستانیوں کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔سی پیک منصوبہ کے تحت کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ سے 720 میگا واٹ بجلی حاصل کی جائے گی، جو 1.74 ارب ڈالر سے تعمیر کیا جا رہا ہے جس کی تکمیل سے0 5 لاکھ کی آبادی کو کلین اینڈ گرین انرجی کی فراہمی یقینی ہو جائے گی۔اس منصوبے سے تقریباً 4500 لوگوں کو روزگار کے موقع ملے ہیں۔پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت آزاد جموں و کشمیر میں 1124 میگاواٹ کے کوہالہ پن بجلی سہ فریقی منصوبے پر کامیابی کے ساتھ دستخط ہوگئے ہیں۔ اس منصوبے سے 5ہزار لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں گے۔2 ارب 40 کروڑ ڈالرز کی یہ سرمایہ کاری پاکستان اور آزاد کشمیر میں آئی پی پیز کے کسی بھی منصوبے میں سب سے بڑی سرمایہ کاری ہے۔کوہالہ اور آزاد پتن میں توانائی کے منصوبوں کے تحت جہاں ملک بھر میں 4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے لئے راہ ہموار ہوئی ہے وہیں ملک بھر میں روزگار کے نئے مواقع بھی میسر آئیں گے۔مذکورہ توانائی منصوبوں کے ذریعے 1800 میگا واٹ بجلی پید ا ہونے کاامکان ہے جبکہ ملک بھر میں 8 ہزار روزگار کے نئے مواقع میسر آئیں گے۔آزاد پتن پن بجلی منصوبہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا حصہ ہے جس پر ڈیڑھ ارب ڈالر کی لاگت آئے گی اور اس سے 7 سو میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا ہو گی۔یہ منصوبہ دریائے جہلم پر واقع اور 2026ء میں مکمل ہونے کی توقع ہے۔خیبر پختونخوا میں 847 میگاواٹ کے سکھی کیناری پن بجلی منصوبے کا 50 فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ 1.963 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے دریائے کنہار پر تعمیر کئے جانے والے اس منصوبے سے چار ہزار 250 ملازمتیں پیدا ہوں گی۔شیڈول کے مطابق سکھی کناری پن بجلی گھر کی تعمیر کو 2022ء کے اختتام تک پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے۔

 ہائیڈروپاور

مزید :

صفحہ آخر -