تعمیراتی پیکیج کافی نہیں، رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو صنعت کا درجہ دیا جائے: نواز غنی

تعمیراتی پیکیج کافی نہیں، رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو صنعت کا درجہ دیا جائے: نواز غنی

  

لاہور (انٹرویو:میاں اشفاق انجم، تصاویر: ایوب بشیر) تعمیراتی پیکیج کافی نہیں رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو صنعت کا درجہ دیا جائے، گھر بنانے کے لئے31دسمبر2021ء تک ایمنسٹی میں توسیع کی جائے، ڈی ایچ اے لاہور کے کمرشل پلاٹوں میں سرمایہ کاری کا اچھا موقع ہے۔ ڈی ایچ اے اسٹیٹ ایجنٹس ایسوسی ایشن لاہور کی دو سالہ کارکردگی مایوس کن رہی ہے رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے بحران کے خاتمے کے لئے الخدمت گروپ کی قربانیاں لازوال ہیں، ہمارے قائد میاں طلعت احمد نے ڈی ایچ اے کی برادری کی خدمت کے لئے اپنے آپ کو وقف کر رکھا ہے۔ایل ڈی اے میں گھروں اور پلازوں کے نقشوں کی منظوری کے لئے خواری جاری ہے، ٹرانسفر فیسوں میں کمی کی جائے، زمین ڈاٹ کام کے خلاف احتجاجی تحریک کی آڑ میں حاصل کئے گئے مفادات سے برادری آگاہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار ڈی ایچ اے لاہور کے سینئر ترین رئیل اسٹیٹ ایجنٹ اور غنی اسٹیٹ کے چیف ایگزیکٹو نواز غنی نے روزنامہ ”پاکستان“ سے خصوصی انٹرویو میں کیا۔ انہوں نے کہا ڈی ایچ اے اسٹیٹ ایجنٹ ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم کو ذاتی کاروبار اور ڈیٹا کے حصول کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ریلٹرز گروپ کو ووٹ دینے والے مایوسی کا شکار ہیں، دو سالہ کارکردگی فوٹو سیشن تک محدود ہے۔ نواز غنی نے بتایا2016ء سے اب تک الخدمت گروپ نے پراپرٹی بحران کے حل کے لئے طویل جدوجہد کی ہے۔ الخدمت گروپ کے قائد میاں طلعت احمد دُکھ درد میں شریک ہونے والے سب کے دوست اور ساتھی ہیں۔انہوں نے کہا ہماری ایسوسی ایشن نے زمین ڈاٹ کام کے خلاف پہلے تحریک چلائی اور پھر ساز باز کر لی، برادری کے ساتھ ہاتھ کرنے والوں کو جلد بے نقاب کریں گے۔ نواز غنی نے کہ وزیراعظم کا تعمیراتی پیکیج خوش آئند، رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو صنعت کا درجہ دے کر بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا وزیراعظم نے گھر بنانے کے لئے31دسمبر2020ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔ ایل ڈی اے میں نقشہ کی منظوری کے لئے دو دو ماہ لگ رہے ہیں۔2021ء تک توسیع ضروری ہے۔ سیمینٹ اور سٹیل کی قیمتوں میں مزید کمی کی جائے، ڈی ایچ اے ٹرانسفر فیسوں میں کمی کرے۔ ٹیکسز کی وصولی کا فرینڈلی نظام قائم کیا جائے۔ نواز غنی نے سی پیک اور گوادر کا محفوظ اورروشن مستقبل قرار دیا ہے۔

نواز غنی

مزید :

صفحہ آخر -