آئی پی پیز رعایتیں دینے، آپریشنل، مینٹی ننس اخراجات کم کرنے پر متفق

آئی پی پیز رعایتیں دینے، آپریشنل، مینٹی ننس اخراجات کم کرنے پر متفق

  

 اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں)  حکومت اور آئی پی پیز کے درمیان ایم او یو طے پا گیا جس کے تحت آئی پی پیز نے قرض کی ادئیگی کی مدت پانچ سال بڑھانے پر اتفا ق کیا ہے، اس اقدام سے صارفین کو اربوں روپے کا ریلیف ملے گا۔نجی ٹی وی نیوز چینل اور خبررساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق آئی پی پیز وسیع تر قومی مفاد میں رعایتیں دینے پر متفق ہو گئی ہیں، آئی پی پیز اپنے آپریشنل اور مینٹی ننس اخراجات 20 تا 25 فیصد کم کرنے پر متفق ہیں۔دستاویز کے مطابق آئی پی پیز اپنے اثاثوں سے بنکوں سے قرض لیں گے، آئی پی پیز پراجیکٹس کیلئے حکومتی بیلنس شیٹ استعمال نہیں ہوگی، پراجیکٹس کے قرض کی مدت بڑھانے سے ٹیرف میں نمایاں کمی ہوگی، ونڈ پاور پلانٹس کو سولر پاور پلانٹ بھی لگانے کی اجازت دینے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ لیٹ پیمنٹ سرچارج ساڑھے 4فیصد سے کم کرکے 2فیصد تک کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ واجبات کی ادائیگی کیلئے آئی پی پیز پاور پر چیزر اور حکومت مل کرلائحہ عمل مرتب کریں گے۔ فیول ایفیشنسی پرزائدمنافع حکومت کیساتھ تقسیم ہوگا۔ پاورپلانٹس کی اخراجات میں بچت حکومت کیساتھ چالیس فیصد تک تقسیم ہوگی۔ آئی پی پیز اور حکومت کے مابین دستخط ہونے والے ایم او یو کی تفصیلات کے مطابق نئی شرائط میں اس امر پر اتفاق کیا گیا ہے کہ حکومت پاور پلانٹس کی صلاحیت کی جانچ پڑتال کیلئے ہیٹ ریٹ ٹیسٹ کرے گی جس میں نجی بجلی گھر حکومت کیساتھ مکمل تعاون کریں گے۔ دونوں طرف سے اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ براہ را ست صارفین کو منتقل کیا جائیگا۔کھاتوں کے جائزے کے بعد واجبات کی ادائیگی یا وصولیوں کی صورت میں نیپرا مجاز اتھارٹی ہو گی۔

آئی پی پیز متفق

مزید :

صفحہ اول -