جندول‘ حکومت کی واضح پابندی کے باوجود بیشتر نجی تعلیمی کھل گئے

جندول‘ حکومت کی واضح پابندی کے باوجود بیشتر نجی تعلیمی کھل گئے

  

جندول() جندول صوبائی حکومت و محکمہ تعلیم کی جانب سے واضح پابندی کے باوجود بیشتر نجی تعلیمی کھل گئیں۔حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کا ڈپٹی کمشنر نے سخت نوٹس لیتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنرز کو کاروائیوں کیلئے احکامات جاری کر دیں۔نجی تعلیمی اداروں کے تنظیم کی جانب سے پندرہ اگست کو نجی تعلیمی اداروں کو کھولنے کے فیصلہ کو عملی جامہ پہناتے ہوئے گذشتہ روز بیشتر نجی تعلیمی ادارے کھول دیئے گئیں اور وہاں تدریسی سرگرمیاں بھی بحال کر دی گئی۔نجی تعلیمی اداروں کے نگران و پرنسپل صاحبان کے مطابق نجی سکول سرکاری ایس او پیز کے تحت کھول دیئے گئیں ہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر تعلیمی ادارے نہ کھولتے تو بچوں کا قیمتی سال ضائع ہونے کے واضح خدشات تھے۔دوسری جانب ڈپٹی کمشنر ضلع دیر پائین سعادت حسن نے واضح حکومتی پابندی کے باوجود نجی تعلیمی اداریں کھولنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے تمام تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز کو کاروائی کیلئے ہدایات جاری کئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر کے ہدایات کی روشنی میں اسسٹنٹ کمشنر جندول ثمرباغ فقیر حسین نے کاروائیوں کا آغاز کرتے ہوئے مختلف نجی تعلیمی اداروں کا دورہ کرتے ہوئے سکول انتظامیہ کو فوری طور پر سکول بند کرنے اور حکومت کے اعلان کے بغیر سکول دوبارہ نہ کھولنے کے احکامات جاری کر دی ہے۔اسسٹنٹ کمشنر جندول فقیر حسین کے مطابق انہوں نے نجی اداروں کے انتظامیہ پر واضح کردیا ہے کہ حکومت تمام کام عوامی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کرتے ہیں اس لئے حکومتی احکامات پر من و عن عمل کیا جائے ان کا کہنا تھا کہ اگر نجی تعلیمی اداروں نے حکومتی احکامات کو نظر انداز کیا تو ان نجی تعلیمی اداروں کے خلاف کاروائی کی جائے گی۔۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -