پوری دنیا مظلوم فلسطینیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے‘ عزیز اللہ

پوری دنیا مظلوم فلسطینیوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے‘ عزیز اللہ

  

سرائے نورنگ(نمائندہ اپاکستان)جماعت اسلامی پاکستان کے امیرسراج الحق کی کال پرجماعت اسلامی لکی مروت کے ضلعی مقامی قائدین نے متحدہ عرب امارات کی امریکہ کی ایماء پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی شدید الفاظ میں مزمت کی انہون نے کہاکہ پوری دنیا مظلوم فلسطینوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہے ان خیالات کااظہار گزشتہ جماعت اسلامی لکی مروت کے ضلعی امیر حاجی عزیزاللہ خان نے اپنی رہائش گاہ واقع نورنگ میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پرضلعی سنیئرنائب امیرحاجی عبدالصمدخان،ضلعی جنرل سیکرٹری عبدالغفارفریادی الخدمت فاونڈیشن کے ضلعی رفیع اللہ خان، الخدمت فاونڈیشن کے سابق ضلعی صدرعبدالرزاق،مولانا حافظ زاھداللہ سمیت دیگرموجودتھے۔انہوں نے کہاکہ عرب امارات کے حکمرانوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایما پر اسرائیل جیسے دہشت گرد ملک کو تسلیم کرکے اپنے پاوں پر کلہاڑی ماردی انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے پر متحدہ عرب امارات کے اس فیصلے کی مذمت کرتی ہے اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کا اپنے وطن کا دفاع کرنے پر نہ صرف حمایت کرتیہیں بلکہ اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فلسطینی علاقوں سے اسرائیلی فوج کو نکال باہر کیا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ وائٹ ہاؤس میں جس طرح متحدہ عرب امارات بحرین اور عمان کے سفیروں نے کھل کر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے ڈیل آف دی سینچری کی حمایت کی وہ شرم ناک ہے جبکہ سعودی عرب اور مصر نے وائٹ ہاوس میں موجود نہ ہوتے ہوئیان کی تائید کی تھی دریائے اردن کے مغربی کنارے پر جو چار لاکھ غیر قانونی یہودی آباد ہیں انہیں قانونی حثیت دی جائے گی۔غیر منقسم بیت المقدس اسرائیل کا دارالحکومت بن جائے گا۔جبکہ فلسطینیوں کے ساتھ ایک ایسا وعدہ کیا جائے گا جو عملا موجود بھی نہیں ھوگا۔جن کے سرحدات کی نگرانی اسرائیل کے ہاتھ میں ہوگی۔ یعنی مسلمانوں کو سرنڈر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے اس سلسلے میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے پہلے ہی سینٹ آف پاکستان سے ڈیل آف دی سینچری کو کثرت رائے سے مسترد کروایا تھا انہوں نے کہا کہ بیت المقدس کی آزادی کی جنگ مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کی آزادی کی جنگ ہیں اگر خدانخواستہ ہم فلسطین اور بیت المقدس کو نہ بچا سکے تو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ بھی خطرے میں ہیں.اور یہ معاہدہ اس کی طرف پہلا قدم ہے اس لئے مسلم امہ کو چاہئے کہ اتفاق و اتحاد دامن تھام کر ان کے خلاف میدان میں کھڑے ہوجائے۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -