شدید گرمی، حبس میں بجلی بھی غائب، شہریوں کا شدید احتجاج 

شدید گرمی، حبس میں بجلی بھی غائب، شہریوں کا شدید احتجاج 

  

 ڈیرہ غازیخان، رحیم یارخان، بوریوالا (ڈسٹرکٹ بیورو رپورٹ، سٹی رپورٹر، بیورو رپورٹ، تحصیل رپورٹر)جنوبی پنجاب کے مختلف شہروں میں بجلی کی بندش سے صارفین اذیت کا شکار ہوگئے ہیں جبکہ ٹرپنگ اور کم وولٹیج کی وجہ سے الیکٹرونکس اشیاء کا جلنا معمول بن گیا جس پر ڈیرہ غازیخان میں شہریوں نے میپکوحکام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور نعرے بازی بھی کی تفصیل کے مطابق   شکورآباد کالونی کے درجنوں (بقیہ نمبر38صفحہ7پر)

مکینوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ واپڈا اہلکاروں نے شکور آباد کالونی کے ٹرانسفارمر سے بھاری رشوت کے عوض دوسری کالونی کوغیر قانونی طور پرلگ بھگ 200 کے قریب کنیکشن دے رکھے ہیں جس کے باعث بجلی ٹرپنگ معمول بن چکی ہے جس سے مکینوں کی لاکھوں روپے مالیت کی قیمتی الیکٹرانک اشیا جل جاتی ہیں مظاہرین کے مطابق شکور آباد کالونی کی آبادی تیس ہزار نفوس سے زائد ہے جسے واپڈا اہلکاروں نے اذیت میں مبتلا کررکھاہے غیرالانیہ طور پر6/6 گھنٹے بجلی بند کردی جاتی ہے شدید گرمی سے کئی علاقع مکین بے ہوش ہوجاتے ہیں کہ واپڈا اہلکاروں کی جانب سے لگائے گئیے درجنوں غیرقانونی کنیکشنز کے باعث لوڈ بڑھ جاتا ہے جس سے آئے روز ٹراسفارمر جل جاتے ہیں شکایات درج کروانے کے باوجو د کئی کئی دن ٹرانسفارمرتبدیل یامرمت نہیں کروائے جاتے شکورآباد کالونی کے مکینوں سید استقلال حسین شاہ،فداحسین جڑھ،محمداسلم پتافی،ملک محمدحسین جڑھ،محمد بلال پتافی شفیع محمدپتافی،میاں احسان کریم،غلام فرید جڑھ،محمدریاض پتافی، محمدعنصرپتافی،محمداکرم پتافی،محمدارشادجڑھ،حاجی عبدالعزیز،طالب حسین،واحد بخش پٹواری اورمحمدامین ملکانی وغیرہ نے کہاکہ اگرشکورآباد سے دوسری آبادی کو دیئے جانے والے بجلی کے غیر قانونی کنیکشن ہٹا دئیے جائیں تو آئے روز ٹرانسفارمر کے جل جانے اور بجلی کی ٹرپنگ سے بچا جاسکتا ہے   بجلی کی تویل غیراعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور ٹرپنگ سے ناصرف اہل علاقع اذیت میں مبتلا ہیں بلکہ لاکھوں روپے مالیت کی گھریلوالیکٹرانک اشیابھی جل چکی ہیں اہل علاقع نے الزام عائد کیا کہ واپڈا اہلکاروں نے شکورآباد کالونی سے دوسری آبادی کو غیر قانونی کنیکشن دینے کے عوض ماہانہ منتھلی طے کر رکھی ہے جس کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑتا ہے مظاہرین نے کہا کہ شکور آباد میں نصب ٹرانسفارمر جس پراس سے قبل تھری فیز بجلی چل رہی تھی اس میں خرابی کی وجہ سے واپڈا اہلکاروں نے اسے 2 فیز کردیا ہے اب ٹرانسفارمرمیں ٹیکنیکل خرابی کے باعث ہائی وولٹیج  بجلی آجاتی ہے جس سے گھریلو وائرنگ میں بھی آگ لگ جاتی ہے اورجانی نقصان کابھی اندیشہ رہتاہے مظاہرین نے کہا کہ اس حوالے سے مقامی ایم پی اے مشیرصحت محمدحنیف خان پتافی اورایم این اے زرتاج گل کوبھی متعدد بارآگاہ کرچکے ہیں مظاہرین نے وزیراعلی پنجاب سردارعثمان احمدخان بزدار،چیئرمین میپکو اورکمشنرڈیرہ ساجد ظفر ڈال سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شکور آباد کالونی سے دوسری آبادی کودیئے گیئے درجنوں غیرکنیکشن فی الفورہٹائے جائیں۔ ادھرضلع رحیم یارخان اور نواحی علاقوں میں گرمی کی شدت میں اضافہ‘ حبس سے عوام کا برا حال‘ ایک طرف گرمی کی شدت میں اضافہ ہوگیا ہے تو دوسری طرف واپڈا نے بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کر کے عوام کا جینا محال کر دیا ہے‘لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے جہاں شہریوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے وہاں کاروباری زندگی بھی مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں‘ واپڈا کی طرف سے ضلع بھر میں بجلی کی آنکھ مچولی جاری ہے اور وولٹیج میں کم بیشی کی وجہ سے الیکٹرونکس اشیا کے جلنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ عوامی سماجی حلقوں نے واپڈا کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے سابق ممبر میونسپل کمیٹی میاں بشیر یوسف اور معروف قانون دان چوہدری محمد آصف سعید ایڈووکیٹ نے کہا کہ ایک طرف بجلی کے بلوں میں اضافہ ہوگیا ہے تو دوسری طرف بجلی کی لوڈشیڈنگ بھی ہو رہی ہے جس کی وجہ سے عوام کی مشکلات بڑھ چکی ہیں‘انہوں نے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کی جاے اور حکومت کی طرف سے سستی بجلی فراہم کرنے کا معاہدہ ہوا ہے اسے جلد پایہ تکمیل تک پہنچایا جاے اور بجلی کے بلوں میں نمایاں کمی لائی جاے۔ جبکہ ایس ڈی او حاجی شیرسب ڈویژن ساجد شاہ کی نااہلی اور مسلسل ہٹ دھرمی کی وجہ سیساہوکا گریڈ اسٹیشن سے منسلک جملیرا فیڈرپر غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ مزید بڑھا دیا گیا، کئی گھنٹوں کی بندش معمول بن گئی ہے،وولٹیج میں شدید کمی کردی جاتی ہے۔ 100وولٹ سے بھی کم فراہمی سے آلات جل گئے ہیں،زرعی ٹیوب ویل بند رہنے کی وجہ سیفصلیں تباہ ہو رہی ہیں۔جملیرا فیڈر پر ایس ڈی او ساجد شاہ کی ہٹ دھرمی اور نااہلی کی وجہ سے  بجلی کی غیر اعلانیہ کئی کئی گھنٹے بندش اور وولٹیج 100سے بھی کم ہونا معمول بن چکا ہے جبکہ ساہوکا گریڈ سے منسلک باقی  فیڈرساہوکا،دیوان وصاحب،العباس ودیگر پر 200کے قریب وولٹ فراہم کئے جارہے ہیں   شہریوں. نے الزام عائد کیا کہ جملیرا فیڈرپر  بجلی چوری کرواکر پھر اس نقصان کو پورا کرنے کیلئے ایک لائن کی ڈی اتار دی جاتی ہے،جس سے بندش اور وولٹیج میں کمی سے شہری شدید گرمی اور حبس کے اس موسم میں پانی کی بوند بوند کو ترس کر رہ گئے ہیں اور گزشتہ کئی روز سے ایک گھنٹہ بھی پوری بجلی فراہم نہیں کی جاسکی۔مساجد میں نمازی پریشان ہیں،گھر میں شہری،کاروباری افراد،تاجر،مویشی پال سب شدید اذیت مبتلا ہیں شہریوں سابق چیئرمین یونین کونسل جملیرا میاں رمضان خان جملیرا،صید علی،محمد یار،مستنصر جملیرا،غضنفر خان،حاجی زاہد،علی محمد جملیرا،میاں فاروق پنوار،محمد لطیف شاکر ودیگر نے وزیراعظم پاکستان عمران خان،وزیر پانی و بجلی عمر ایوب،چیف میپکو ملتان،ایس سی وہاڑی سے اس جانب توجہ کی اپیل کی ہے۔اس بارے میں ایس ڈی او ساجد شاہ نے اپنے موقف میں کہاکہ ملک میں اگست ستمبر ایسے ہی گزرے گا آپ لوگ صبر سے کام لیں گزشتہ ایک ماہ سے محکمہ سوئی گیس کی جانب سے مبینہ طور پر گیس چوری اور لائن لاسسز پورے کرنے کے لئے بورے والا اور گگومنڈی کے علاقوں کودی جانے والی گیس کے پریشر اور سپلائی میں 60 سے 70 فیصد تک کمی کر کے شہریوں کو عذاب میں مبتلا کر رکھا ہے اکثر علاقوں میں رات 9 بجے گیس مکمل بند کر کے صبح 5 بجے کے بعد سپلائی دی جاتی ہے جبکہ دن کے اوقات میں بھی کم پریشر اور گیس کی جگہ ہواآنے کی وجہ سے گھریلو معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوکر رہ گئے ہیں جس کے متعلق شہریوں نے محکمہ سوئی گیس حکام کو مختلف ذرائع سے شکایات بھی درج کروائیں لیکن محکمہ سوئی گیس ٹس سے مس نہ ہوا اس حوالہ سے محکمہ سوئی گیس کے ذمہ داران سے جب بھی رابطہ کیا جاتا ہے ان کا موقف ہوتا ہے کہ دو یا تین دن میں مسئلہ حل ہوجائے گا اس صورتحال پرشہریوں، چوہدری عبدالروف، چوہدری اصغر علی جاوید۔انجمن تاجران جنوبی پنجاب کے راہنماء چوہدری شوکت علی۔شہزاد مصطفی،چوہدری محمد عاطف،شیخ محمد اعظم،محمد عرفان گجر،رانا محمد خان، مرزا اسلم و دیگر نمائندہ شہریوں نے اعلی حکام سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

بجلی بندش

مزید :

ملتان صفحہ آخر -