کرپشن الزامات پر لیڈی سب انسپکٹر بحال، اہلکاروں میں تشویش

   کرپشن الزامات پر لیڈی سب انسپکٹر بحال، اہلکاروں میں تشویش

  

  ملتان (وقائع نگار)ضلعی پولیس کی انوکھی منطق۔۔سی پی او آفس کے شعبہ ایم ٹی او برانچ میں لاکھوں  روپے کی کرپشن کے الزامات پر معطل ہونے والی لیڈی سب انسپکٹر کو بحالی کے بعد  پولیس پمپ کی رکھوالی پر لگا دیا۔جس کی تعیناتی سے پولیس اہلکاروں میں تشویش پائی جاتی ہے۔پولیس ملازمین کا کہنا ہے کہ لیڈی سب انسپکٹر مریم فیض بطور ایم ٹی او  انچارج پٹرول سمیت دیگر اشیاء کی خریداری میں لاکھوں روپے کے گھپلے کرنے پر سابق و موجودہ ایس ایس پی آپریشنز نے انکوائری کی۔ایس پی ربنواز تلہ نے اپنی انکوائری میں کسی سب انسپکٹر مریم فیض کو (بقیہ نمبر5صفحہ6پر)

قصور وار قرار دیا۔جس پر لیڈی سب انسپکٹر مریم فیض اور نائب ایم ٹی او کو معطل کردیا گیا۔لیکن ایک اعلی پولیس افسر کی مداخلت پر مریم فیص کو فورا بحال کردیا گیا۔جو اس وقت پولیس کے سرکاری پٹرول پمپ پر بطور انچارج کام کر رہی ہیں۔ذرائع نے اس بات کا بھی انکشاف کیا ہے کہ مریم فیص نے جان بوجھ کر پولیس کی سرکاری گاڑیوں میں پٹرول ڈلوانے کیلئے آنے والے پولیس  ڈرائیور حضرات کو تنگ کرنا معمول بنا لیا ہے۔تاکہ من پسند خواہشات کی تکمیل میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نا ہوسکے۔پولیس ذرائع کا مزید کہنا ہے مریم فیض پر اینٹی کرپشن میں بھی انکوائری چل رہی ہے۔اتنی اہم سیٹ پر کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنے والی مذکورہ لیڈی سب انسپکٹر کو لگانا کئی تنقید سے بھرے سوالات نے جنم لے لیا ہے.اس بارے میں جب پولیس پٹرول پمپ کی انچارج مریم فیض سے انکو موبائل فون پر رابط کیا گیا ہے۔تو انہوں نے کہا ہے کہ مجھے نہیں پتہ کہ میرے خلاف ہونے والی  انکوائری کا کیا بنا۔اینٹی کرپشن میں میرے خلاف کوئی انکوائری نہیں ہے۔میں کسی ڈرائیور کو تنگ نہیں کر رہی۔میرا ڈرائیوروں سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہوتا  ہے۔یہ ایم ٹی او کا کام ہے۔جس کو میرے خلاف شکایت ہو وہ انکوائری کروالے۔مزید میں اپکو کوئی بات بتانے کی پابند نہیں ہوں۔

بحال

مزید :

ملتان صفحہ آخر -