سندھ میں گورنرراج نہ ایمرجنسی کا نفاذ، وفاق کی پیپلز پارٹی کی حکومت کو یقین دہانی، وزیراعلی مراد علی شاہ کا بھی مل کر چلنے کا عزم 

سندھ میں گورنرراج نہ ایمرجنسی کا نفاذ، وفاق کی پیپلز پارٹی کی حکومت کو یقین ...

  

 کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک)ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کی ترقی اور خوشحالی کیلئے وفاق اور سندھ حکومت کے مابین اہم پیش رفت سامنے آ گئی، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان نے ملاقات کر کے صوبہ میں گورنر راج یا ایمرجنسی نافذ نہ کرنے صوبہ اور بالخصوص شہر قائد کی تعمیر و ترقی کیلئے متحد ہو کر کام کرنے کی یقین دہانی کرادی جبکہ وزیراعلیٰ سندھ نے بھی صوبے اور شہر کی ترقی و خوشخالی کیلئے وفاق کی جانب سے مل کر چلنے کو خوش آئندہ قرار دیتے ہوئے مکمل تعاون کرنے کا عزم کیا۔قبل از یں شہر کی 3 بڑی اسٹیک ہولڈر جماعتوں پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) پاکستان تحریک انصا ف (پی ٹی آئی) اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے در میا ن اتحاد پر اتفاق کے بعد ایک کوآرڈینیشن کمیٹی بھی قائم کردی گئی ہے، جس کی تصدیق صوبائی وزیربلدیات مرتضیٰ وہاب اور پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر و رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان  نے بھی کردی۔ تینوں جماعتوں نے شہر کی ترقی کیلئے ایک پیج پر آتے ہوئے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے جبکہ مزید معاملات پر عملدرآمد کیلئے ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے،جبکہ ذرائع کے مطابق مئیر کراچی کی مدت ختم ہونے کے بعد متفقہ ایڈمنسٹریٹر لانے کا پلان بنا لیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق آئندہ بلدیاتی انتخابات سے پہلے ڈی لیمٹیشن ہوگی، بااختیار میئر لانے کیلئے سندھ اسمبلی میں بل پیش کیا جائیگا۔پی ٹی آئی رہنما خرم شیر زمان نے کہا ہے کہ کراچی نے ہمیں بڑا مینڈیٹ دیا، اسلئے وفاقی حکومت پر بہت دباؤ ہے۔ پیپلز پارٹی کو ایک آخری موقع دینے اور سندھ حکومت کیساتھ مل بیٹھنے کو تیار ہیں، اگر اب بھی کام نہ کیا تو ڈنڈے کا آپشن رہ جائیگا۔دوسری جانب کراچی سمیت سندھ بھر کے مسائل حل کرنے کیلئے وفاقی اور سندھ حکومت ایک پیج پر آ گئی ہے۔ مسائل کے حل کیلئے مشاورتی کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے۔ کمیٹی کی تشکیل کے حوالے سے ترجمان سندھ حکومت مرتضیٰ وہاب نے بھی تصدیق کر دی ہے۔کمیٹی میں وفاق اور سندھ حکومت کے تین تین نمائندے شامل ہوں گے۔ وفاق کی جانب سے وفاقی وزرا اسد عمر، علی زیدی اور امین الحق شامل ہو ں گے جبکہ سندھ کی جانب سے صوبائی وزراء ناصر شاہ اور سعید غنی شامل ہوں گے۔ کمیٹی کے چیئرمین وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ہوں گے۔اس حوالے سے ترجمان سندھ حکومت مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ کراچی سمیت سندھ کے مسائل کے حل کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومت کے مذاکرات کے دو دور ہو چکے ہیں۔ تمام حکومتیں مل کر کام کریں گی تو مسائل حل ہوں گے۔ سندھ حکومت صوبے کی ترقی کیلئے مل کر کام کرنے کو ہمیشہ سے تیار ہے۔ کمیٹی صوبے کے ترقیاتی کاموں میں حائل رکاوٹیں کو دور کرے گی۔کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے شہر کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کی اسلام آباد اور کراچی میں دو اہم ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ملاقات میں پیپلز پارٹی کی طرف سے وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، سعید غنی اور ناصر شاہ شامل تھے جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے گورنر سندھ عمران اسماعیل، وفاقی وزراء اسد عمر اور علی زیدی نے شرکت کی، میئر کراچی وسیم اختر بھی ملاقات میں شریک ہو ئے۔ملاقات میں چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل بھی شریک تھے جبکہ ملاقات کا ایجنڈا کراچی میں انفرا اسٹرکچر کی بہتری کے کاموں کو آگے بڑھانا تھا۔ادھر سند ھ کے وزیر اطلاعات ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی وزراء سے ملاقات صوبے کی بہتری کیلئے کی، اجلاس میں ترقیاتی کاموں اور  مسائل کے حل سے متعلق بات ہوئی، کراچی کی بہتری اورپورے صوے کیلئے سندھ حکومت کام کررہی ہے۔اس متعلق سے ایم کیوایم پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ مقامی افراد کو مکمل اختیار دیے بغیر کراچی کے مسائل کا حل ممکن نہیں۔ کراچی سمیت ملک بھر میں نئے صوبوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔ پاکستان تحریک انصاف کراچی کے صدر و رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان کا کہنا تھا کراچی کی ترقی کیلئے تمام جماعتوں کو سر جوڑ کر بیٹھنا ضروری ہے، مشاورتی کمیٹی کی تشکیل کراچی کے عوام کے مفاد میں ہے۔ سندھ حکومت کے پاس موقع ہے کہ وہ کراچی کے حالات بدلے، اگر سندھ حکومت نے کراچی کے حالات نہ بدلے تو پی ٹی آئی ہر وہ راستہ اختیار کرے گی جو عوام کے مفاد میں ہوگا۔ نالوں کی صفائی ہویا سڑکوں کی مرمت کراچی کے عوام نے بہت سال برداشت کیا، امید کرتے ہیں کمیٹی ممبران کراچی کے حق میں بہترین فیصلے کریں گے۔واضح رہے اس حوالے سے 13 اگست کو اسلام آباد میں وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے کے دو وزرا کے ہمراہ، ایک اہم شخصیت اور تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں سے ملاقات کی تھی، جس کے بعد فیصلوں کی منظوری پر مشا و ر ت کیلئے وقت مانگا گیا تھا۔ذرائع کے مطابق بعد ازاں پیپلزپارٹی کی قیادت کی منظوری کے بعد تینوں جماعتوں کے درمیان ملاقات کا دوسرا دور کراچی میں ہوا اور اس میں اتحاد پر ا تفاق ہوگیا اور معاہدے پر دستخط بھی ہوئے۔ادھر سندھ کے وزیر بلدیات و اطلاعات اس اتحاد و اتفاق کی تصدیق کی اور کہا کہ پیپلز پارٹی، پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم کا کراچی کی تعمیر و ترقی کے لیے اتحاد و اتفاق خوش آئند ہے۔ تینوں جماعتوں کا کراچی کی ترقی کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم عوام کیلئے خوش خبری ہے، پیپلزپارٹی، تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کا اتحاد کراچی کی تعمیر و ترقی میں سنگ میل ثابت ہوگا۔ کراچی دشمن عناصر کو یہ اتحاد ایک آنکھ نہ بھائے گا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں صوبہ سندھ بالخصوص کراچی نے ریکارڈ ترقی کی ہے جبکہ حکومت سندھ ہر اس جماعت یا فرد کو خوش آمدید کہے گی جو کراچی کی ترقی میں کردار ادا کرے گا۔یاد رہے کہ ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی اس وقت مختلف مسائل کا سامنا کر رہا ہے اور حالیہ بارشوں کے بعد شہر میں نالوں اور علاقوں کی صفائی نہ ہونے کے بعد صورتحال انتہائی خراب ہوگئی تھی۔ تاہم کراچی کے معاملے پر اتفاق ایسے وقت میں سامنے آیا جب رواں ہفتے ہی سپریم کورٹ نے کراچی رجسٹری میں کیس کی سماعت کرتے ہوئے شہریوں کی مدد کیلئے وفاقی کے آنے کو سندھ حکومت کی ناکامی قرار دیا تھا۔یہی نہیں بلکہ ایک طویل عرصے سے کراچی کے معاملات پر یہ تینوں جماعتیں ایک دوسرے پر شہر کے لیے کچھ نہ کرنے کا الزام لگاتی آر ہی تھیں۔اگر ان تینوں جماعتوں کی بات کریں تو کراچی سے 14 نشستیں جیتنے والی تحریک انصاف اس وقت وفاقی حکومت میں ہے جبکہ سندھ کی حکومت پیپلزپارٹی کے پاس ہے جبکہ کراچی کے بلدیاتی نمائندے اور میئر متحدہ قومی موومنٹ سے تعلق رکھتے ہیں۔یہاں یہ بھی واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران ہی وفاق کی نمائندگی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان نے کہا تھا کہ انہوں نے کراچی کے مختلف شہری اور دیگر مسائل پر وزیراعظم عمران خان سے بات کی ہے اور وفاقی حکومت کا صوبائی حکومت کے معاملات میں مداخلت کا کوئی ادارہ نہیں۔تاہم انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ صوبائی دارالحکومت کی خراب صورتحال کے تناظر میں وفاقی حکومت ان مسائل کو حل کرنے کیلئے تمام دستیاب قانونی اور آئینی آپشنز پر غور کر رہی ہے، کراچی میٹرو پولیٹن شہر ہے، کوئی بھی ملک اپنے میٹروپولیٹن شہر کو تباہ ہوتے نہیں دیکھ سکتا۔ کراچی کے معاملے پر سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں، اس حوالے سے کوئی حتمی بات نہیں کر سکتا لیکن جلد فیصلہ ہوگا۔بعد ازاں 13 اگست کو وزیراعظم عمران خان سے گورنر سندھ عمران اسمٰعیل اور وزیر قانون فروغ نسیم نے بھی ملاقات کی تھی۔جس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ کراچی کے عوام کی مشکلات کا مکمل احساس ہے، کراچی کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

سندھ گورنر راج 

مزید :

صفحہ اول -