پن بجلی کے وسائل کے بہتر استعمال کیلئے مربوط حکمت کے تحت کام کیا جا رہاہے: محمود خان

      پن بجلی کے وسائل کے بہتر استعمال کیلئے مربوط حکمت کے تحت کام کیا جا ...

  

 پشاور (سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت صوبے میں موجود پن بجلی کے وسائل کے بہتر استعمال کیلئے مربوط حکمت عملی کے تحت کام کر رہی ہے، صوبے میں جاری پن بجلی منصوبوں کی تکمیل سے نہ صرف ملک میں جاری توانائی کے بحران سے نمٹنے میں مدد ملے گی بلکہ مقامی صنعتوں کو سستی اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی بھی ممکن ہو گی جس سے یہاں روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔انہوں نے محکمہ توانائی و بجلی کے حکام کو ہدایت کی ہے کہ محکمے کے تحت توانائی کے تمام جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اور نئے منصوبوں پر دیے گئے ٹائم لائینز کے مطابق عملی پیش رفت کو یقینی بنانے کے ضروری اقدامات اٹھائے جائیں۔ وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں ہائیڈل ڈویلپمنٹ فنڈ بورڈ کے چودھویں اجلاس کی صدارت کررہے تھے۔ صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا، وزیراعلیٰ کے مشیر برائے توانائی حمایت اللہ خان، چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز، ایڈیشنل چیف سیکرٹری شکیل قادر کے علاوہ سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری انرجی اینڈ پاور، چیف ایگزیکٹیو آفیسر پیڈو، منیجنگ ڈائریکٹر بینک آف خیبر اور بورڈ کے دیگر ممبران نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں بورڈ کے گزشتہ اجلاس میں کئے گئے فیصلوں پر عملدرآمد کی صورتحال کا جائزہ لینے کے علاوہ ہائیڈل ڈویلپمنٹ فنڈکے لئے نظر ثانی شدہ بجٹ برائے مالی سال2019-20 اور بجٹ تخمینہ جات برائے مالی سال2020-21کی بھی منظوری دی گئی اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے دوران 21 جاری سکیموں کیلئے 11652ملین روپے جبکہ 19 نئی سکیموں کیلئے 1281 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ملاکنڈ تھری اور پیہور ہائیڈرو پاور سٹیشن سے مجموعی طور پر 31.194 ارب روپے ریونیو پیدا کیا گیا ہے جبکہ مالی سال2019-20 میں تقریباً2800 ملین روپے صوبائی خزانے میں جمع کئے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں ہائیڈل ڈویلپمنٹ فنڈ کے سالانہ اکاؤنٹس سے بھی گزشتہ مالی سال کے دوران1725 ملین روپے منافع حاصل کیا گیا ہے جو خیبرپختونخوا فنڈ مینجمنٹ کی بہتر کارکردگی کا نتیجہ ہے۔ اجلاس کو صوبے میں جاری توانائی کے مختلف منصوبوں پر پیشرفت کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ جبوڑی ہائیڈرو پاور پراجیکٹ مانسہرہ پر عملی کام کی مجموعی پیشرفت 94 فیصد ہے، یہ منصوبہ 10.2 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی استعداد رکھتا ہے۔11.80 میگاواٹ کے حامل کرورا ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ضلع شانگلہ کا منصوبہ بھی تکمیل کے مراحل میں ہے۔ منصوبے کی مجموعی پیشرفت 88 فیصد ہے۔40.8 میگاواٹ کے حامل ہائیڈرو پاور پراجیکٹ دیر لوئر پر بھی 83 فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ صوبے میں 302 منی مائیکرو ہائیڈرو پاور پراجیکٹس مکمل کر لئے گئے ہیں جن میں سے 264 منصوبوں کی ہینڈنگ/ ٹیکنگ اوور کاکام بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔ اجلاس کو صوبے میں سولرائزیشن کے مختلف منصوبوں پر پیشرفت سے بھی آگاہ کیا گیا اور بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ، وزیراعلیٰ ہاؤس اور سول سیکرٹریٹ پشاو رکی سولرائزیشن کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وسطی اور جنوبی اضلاع کے 100 دیہات کو بجلی کے متبادل ذریعہ کی فراہمی کے منصوبے کے تحت سولر سسٹم کی تنصیب بھی مکمل کر لی گئی ہے۔ ضم شدہ اضلاع کی 300 مساجد اور اقلیتی برادری کی عبادت گاہوں کی سولرائزیشن کا منصوبہ بھی مکمل ہے جس پر تقریباً183 ملین روپے لاگت آئی ہے۔ مزید برآں خیبرپختونخوا میں 4000 مساجد کی سولرائزیشن کیلئے آلات کی خریداری شروع ہے۔ آئندہ ماہ ستمبر سے آلات کی تنصیب کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔ اسی طرح صوبے کے 8000 سکولوں اور 187 بنیادی مراکز صحت کی سولرائزیشن کے منصوبے پر بھی پیشرفت جاری ہے۔ وزیراعلیٰ نے صوبے میں جاری توانائی کے منصوبوں کی بروقت تکمیل کو صوبائی حکومت کی اہم ترجیحات کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ کورونا کی وجہ سے مجموعی ترقیاتی عمل متاثر ہو اہے تاہم حکومت اس کے باوجود پیداواری شعبوں میں اپنے اہداف کے حصول کیلئے پر عزم ہے۔ 

مزید :

صفحہ اول -