قائداعظم کے نیشنل مسلم گارڈز سپہ سالار لاہور کا بیٹا اپنے ”حق“ کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور

قائداعظم کے نیشنل مسلم گارڈز سپہ سالار لاہور کا بیٹا اپنے ”حق“ کیلئے ...
قائداعظم کے نیشنل مسلم گارڈز سپہ سالار لاہور کا بیٹا اپنے ”حق“ کیلئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور

  

لاہور (جنرل رپورٹر) سول سیکرٹریٹ کے ڈرائیور کو مدت ملازمت  پوری کرکے ریٹائرمنٹ لینے کے 10سال بعد بھی حق نہ مل سکا۔ ”حق“ کیلئے دربدر ٹھوکریں کھانے والا ظفراقبال قاضی ملک کے نامور انگریزی اخبار کے معروف کارٹونسٹ اور تحریک پاکستان کے متحرک ممتاز کارکن قائداعظم محمد علی جناحؒ کی حفاظت کیلئے مامور تنظیم نیشنل مسلم گارڈز لاہور کے سپہ سالاراسلم اقبال خان (مرحوم) کے فرزند ہیں اور سول سیکرٹریٹ میں ڈرائیور کے طور پر 60سال کی عمر تک فرائض سرانجام دیتے رہے۔ اس حوالے سے گزشتہ روز ”پاکستان“ کے دفتر میں گفتگو کرتے ہوئے ظفر اقبال نے بتایا کہ وہ حصول انصاف کیلئے 10برسوں میں پنجاب کے مختلف چیف سیکرٹریز کو 70 درخواستیں دے چکے ہیں مگر ہر درخواست سیکرٹریٹ کے ویلفیئر اور ایس اینڈ جی اے ڈی کے ایم ٹی او ٹو نے ایک سازش کے تحت ردی کی ٹوکری کی نذر کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ گریڈ 6 میں سول سیکرٹریٹ کے ٹرانسپورٹ ونگ میں بطور بس ڈرائیور فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ 31جنوری 2013ء کو 150 ڈرائیوروں کو گریڈ 7میں ترقی دی گئی جس میں سنیارٹی لسٹ کے مطابق اپ گریڈیشن کی گئی اس میں ان کا نمبر 74واں تھا۔ مگر اس وقت کے ایم ٹی او iiشاہد محمود نے ان کی جگہ اپنے عزیز کا نام ڈال کر اسے ترقی کروادی مگر انہیں اس سیٹ سے ڈراپ کر دیا گیا۔ حالانکہ اپ گریڈیشن کی فہرست میں ان کا نام سنیارٹی لسٹ میں 74 ویں نمبر پر تھا۔ ظفر اقبال نے کہا کہ اس زیادتی کو سابق ایڈیشنل سیکرٹری ویلفیئر مجاہد شیر دل نے تسلیم کیا اور انکوائری میں لکھا کہ ظفر اقبال خان سے زیادتی ہوئی ہے مگر ان کے تبدیل ہونے پر فائل پھر دبا دی گئی۔

انہوں نے کہاکہ میرے والد کی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے حکومت پاکستان نے انہیں تحریک پاکستان گولڈ میڈل دیا جو انہوں نے وصول کیا مگر تحریک پاکستان کے لئے قربانیاں دینے والے اور قائداعظم کی حفاظت کے دستے نیشنل مسلم گارڈز سپہ سالار لاہور کے بیٹے کو باقی مراعات تو درکنار اس کا حق نہیں مل رہا۔ ویلفیئر ونگ اور ایس اینڈ جی زیادتی نہ کرتا تو آج ان کی ماہوار پنشن 8ہزار کی بجائے 16 ہزار ہوتی اور مراعات بھی زیادہ ہوتیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی اور چیف سیکرٹری پنجاب ڈاکٹر کامران علی افضل سے اپیل کی ہے کہ انہیں ان کا حق دلایا جائے اور زیادتی کرنیوالے افسروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

مزید :

رپورٹر پاکستان -علاقائی -پنجاب -لاہور -