سی این جی کی قیمت بڑھانے کی درخواست مسترد، پرانے نرخ برقرار، سبسڈی کا دس سالہ ریکارڈ طلب ، تیس روپے کی گیس 92روپے بیچی جارہی ہے: سپریم کورٹ

سی این جی کی قیمت بڑھانے کی درخواست مسترد، پرانے نرخ برقرار، سبسڈی کا دس ...
سی این جی کی قیمت بڑھانے کی درخواست مسترد، پرانے نرخ برقرار، سبسڈی کا دس سالہ ریکارڈ طلب ، تیس روپے کی گیس 92روپے بیچی جارہی ہے: سپریم کورٹ

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ نے سی این جی  کی قیمت بڑھانے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے  نرخ  برقرار رکھنے کا حکم دیا ہے اورآئندہ سماعت پر مشیر پٹرولیم سے اوسط قیمت اورسبسڈی کا دس سالہ ریکارڈ طلب کرلیاہے ۔عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہاکہ منافع صارفین کی جیب سے سی این جی سٹیشن مالکان کی جیب میں گیا، قومی خزانے میں جاتاتوبات اور تھی ۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ سی این جی کی قیمتوں سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔دوران سماعت اوگرا نے مذاکرات کی رپورٹ پیش کی ۔سیکرٹری پٹرولیم کے مطابق ای سی سی کے گیارہ دسمبر کو ہونیوالے اجلاس میں مشیرپٹرولیم موجود نہیں تھے او راب آئندہ اجلاس 18دسمبر کو ہوگاجہاں مجوزہ قیمتیں پیش کی جائیں گی اور گائیڈ لائن لیں گے۔عدالت نے کہاکہ ای سی سی کب مسئلہ حل کرے گی ، بیس سے تیس روپے والی سی این جی 92روپے فروخت کی جارہی ہے۔ اوگرانے عدالت سے فیصلہ ہونے تک عبور ی قیمتیں مقررکرنے کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس چیف جسٹس نے کہاکہ رپورٹ کے مطابق ریجن ون میں سی این جی کی قیمت 31روپے اور ریجن ٹو میں 28روپے ہے ۔اوگراکے وکیل نے کہاکہ مذاکرات میں گیس کی قیمت 31روپے آٹھ پیسے سامنے آئی جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے استفسار کیاکہ یہ آپ کیاکہہ رہے ہیں ، گیس کی قیمت تو بیس روپے بنتی ہے ۔ سلمان اکرم راجہ نے بتایاکہ اِس میں کراس سبسڈی بھی شامل ہے ۔ عدالت نے کہاکہ کاسٹ کے حوالے سے آپ کے موقف میں تضاد ہے اور اوگراکے وکیل سلمان اکرم راجہ کو قیمتوں سے متعلق دلائل دینے کی ہدایت کردی ۔اوگرا کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہاکہ سی این جی کی ریجن ون میں قیمت73 روپے 96پیسے سامنے آئی جبکہ ریجن ٹو میں 65روپے 50پیسے مقرر کرنے پر اتفا ق ہوا ۔ایڈوکیٹ خالد انور نے کہاکہ گھریلو صارفین کو ترجیحاً گیس فراہم کی جائے ، وسیم سجاد نے قیمتیں تبدیل کرنے کی استدعا کی جسے مسترد کرتے ہوئے عدالت نے کہاکہ فارمولادیکھنے تک عدالت قیمتیں تبدیل نہیں کرسکتی ، اوگراسے قیمتوں کا فارمولامانگاہے ۔ جسٹس جواد نے کہاکہ اوگرا اتنا پارسا نہیں کہ اِس پر یقین کیاجائئے ، سی این جی صارفین جو خمیازہ بھگت رہے ہیں ، وہ سب اوگراکا کیادھراہے ۔ عدالت نے کہاکہ سی این جی کا معاملہ اہم ہے ، اِس کو باریک بینی سے دیکھنے کی ضرورت ہے اور مزید سماعت ملتوی کردی۔

مزید : بزنس