بلائنڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان کی بھارت میں”مہمان نوازی“

بلائنڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان کی بھارت میں”مہمان نوازی“
بلائنڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان کی بھارت میں”مہمان نوازی“

  

بھارت کے دورے پرگئی ہوئی پاکستان کی بلائنڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان ذیشان عباسی کو ناشتے کے دوران ایک ایسا محلول پلا دیا گیا، جس سے اُن کی طبیعت خراب ہو گئی اور انہیں ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔ یہ ناخوشگوار واقعہ پاکستان کی بلائنڈ کرکٹ ٹیم کے ہاتھوں بھارتی بلائنڈ کرکٹ ٹیم کی شکست کے ٹھیک ایک روز بعد پیش آیا۔ مہمان ٹیم کو ایک ہوٹل میں ٹھہرایا گیا تھا اور غیرملکی مہمانوں کے لئے کھانے پینے کی ہر چیز ٹیسٹ ہو کر پیش کی جانی چاہئے۔ ویسے بھی مذکورہ ہوٹل کوئی عام ہوٹل تو تھا نہیں، جہاں جس کا جی چاہے منہ اُٹھا کر پھرتا پھرے۔ اس ہوٹل میں غیر ملکی کھلاڑی تھے، یقینا اس کی سیکیورٹی کا خیال بھی رکھا گیا ہو گا۔ پھر یہ کیسے ہو گیا کہ مہمان ٹیم کے کپتان کے آگے ہی تیزاب، فنائل یا پھر صابن ملا پانی رکھ دیا جائے۔ کیا بھارتی بھارتی کرکٹ کے کرتا دھرتا ابھی تک اتنے میچور بھی نہیں ہوئے کہ وہ مہمان کھلاڑیوں کے تحفظ کا خیال کر سکیں.... یقینا یہ سب کچھ بھارتی حکومت کے ایماءپر نہیں ہوا ہو گا، لیکن پھر بھی وہ کون سے عناصر ہیں، جو یہ حرکت کر کے دُنیا بھر میں بھارت کی جگ ہنسائی کا موجب بنے۔ کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی تو بلائنڈ تھے، لیکن اُن کے میزبان تو بلائنڈ نہیں تھے یا پھر ہو سکتا ہے کہ کچھ عناصر نے اُنہیں اس سازش سے بلائنڈ رکھا ہو۔

 اگر یہ سب اس لئے ہوا کہ پاکستان ٹیم نے ایک روز قبل بھارتی ٹیم کی درگت بنائی تھی، تو پھر بھارت کی سپورٹس مین سپرٹ کو ”سلام“ کرنے کو جی چاہتا ہے۔ بھارت کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ عوامی سطح کی تنگ نظری ، قومی سطح کی تنگ نظری میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ بھارتی کھلاڑیوں اور آفیشلز میں ویسے سپورٹس مین شپ کا کوئی معاملہ ہے تو سہی۔ کچھ عرصہ قبل پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی بھارتی کبڈی ٹیم کو جب اپنی ہار یقینی دکھائی دینے لگی تو اس کے ایک آفیشل نے گراﺅنڈ میں آ کر مداخلت شروع کر دی۔ انہیں ریفری کی جانب سے گرین کارڈ دکھایا گیا تو اس کو بہانہ بنا کر واضح سکور سے ہارتی ہوئی بھارتی کبڈی ٹیم نے چند منٹ کے باقی کھیل کا بائیکاٹ کر دیا۔ ریفری نے قوانین کے مطابق پاکستانی کبڈی ٹیم کو فاتح قرار دے دیا۔ شائد بھارتی بلائنڈ کرکٹ ٹیم کے کسی آفیشل یا پھر اُن کے کسی ہمدرد نے ذاتی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نابینا پاکستان کی پانی کی بوتل کو کسی محلول سے تبدیل کر کے ٹیم کا بھارت کے خلاف جیت کا مزہ کرکرا کرنے کی کوشش کی ہو۔ ایک بات تو بہرحال واضح ہے کہ اس حادثے کی بدولت بھارت کی عزت میں کسی قسم کا کوئی اضافہ نہیں ہوا۔

بھارتی میڈیا جو چھوٹی سے چھوٹی بات کو بنیاد بنا کر ٹکر ٹکر چلاتا ہے، دن بھر ذیشان عباسی کو زہریلا محلول پلانے کے حوالے سے خاموش تماشائی بنا رہا۔ اُن کی جگہ پاکستان کا آزاد میڈیا ہوتا تو نابینا کپتان کو محلول پلانے والے ”ویٹر“ کے گاﺅں تک پہنچ جاتا اور بریکنگ نیوز جاری کر دیتا کہ یہ اس ویٹر کا گاﺅں کا ہے، جس پر پاکستانی ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے بھارتی بلائنڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان کو پانی کی جگہ مضر صحت محلول پلانے کا الزام ہے۔

بہرکیف ہمیں بھارتی میڈیا پر افسوس نہیں ہے کہ اس نے اس خبر کو کیوں نہیں اچھالا۔ یقینا بھارتی میڈیا نے سوچا ہو گا کہ قمیض اُٹھانے سے اپنا ہی پیٹ ننگا ہو گا، لہٰذا چپ ہی بھلی۔ بہر طور اللہ کی اس زمین پر ”بھلی او بھلی“ دُنیا ہے۔ بھارتی ہوٹل میں ویٹروں کے روپ میں ہو سکتا ہے، کسی بھارتی خفیہ ایجنسی کا اہلکار ہو، جس نے پاکستان بلائنڈ کرکٹ ٹیم کے دورہ¿ بھارت کو سبوتاژ کرنے کی سازش کی ہو۔ صد شکر کہ عباسی کی جان بچ گئی، وگرنہ پاک بھارت کرکٹ کھٹائی میں پڑ سکتی تھی۔ بھارت میں ایسے عناصر بہرکیف پائے جاتے ہیں، جو دونوں ممالک کے مابین کھیل سمیت کسی بھی میدان میں حالات کو سدھرتا نہیں دیکھنا چاہتے۔

2007ءمیں جب اُس وقت کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اگلے روز بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لئے بھارت روانہ ہونے والے تھے، پاکستان آنے والی سمجھوتہ ایکسپریس کو دھماکے سے اُڑا دیا گیا اور طے شدہ پروگرام کے تحت آئی ایس آئی پر الزام لگا کر معاملے کو ہوا دی گئی۔ پاکستانی وزیر خارجہ بھارت نہ جا سکے اور دونوںممالک کے تعلقات کشیدہ ہو گئے۔ یہ تو سمجھوتہ ایکسپریس کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے بھانڈا پھوڑا کر سمجھوتہ ایکسپریس آئی ایس آئی نے نہیں، بلکہ بھارتی فوج کے ایک حاضر سروس کرنل پروہیت کی سازش کا پیش خیمہ تھا، جس نے بھارتی انتہا پسندوں کو پھٹنے والے بارود کا بھرا ہوا بریف کیس فراہم کیا اور ناحق انسانوں کی جانوں کے ضیاع کا باعث بنا۔ بھارت نے اس کے بعد ہونے والے بمبئی حادثے کے ملزم اجمل قصاب کو تو پاکستانی قرار دے کر پھانسی لگا دی، لیکن اس نے کبھی سمجھوتہ ایکسپریس کے مسافروں کے بھارتی قاتلوں کو پھانسی لگانے کی بات نہیںکی۔ اب اس کے کچھ عناصر نابینا کھلاڑیوں کو مضر صحت محلول پلا کر جو کارہائے نمایاں سرانجام دینا چاہ رہے ہیں، وہ بھی بھارت کو کہیں کا نہیںچھوڑیں گے۔ بھارت کو چاہئے کہ ایسے عناصر کو منظر عام پر لائے اور ذیشان عباسی کو زہریلا محلول پلانے والے کا میڈیا ٹرائل کرتے ہوئے اسے قرار واقعی سزا دلوائے۔ ٭

مزید : کالم