انصاف کے بغیر امن؟

انصاف کے بغیر امن؟
انصاف کے بغیر امن؟

  

جب دوطرفہ تعلقات میں بہتری پاکستان کے وزیر ِ داخلہ کے پیش ِ نظر نہ تھی تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ بھارت کیوں آئے ؟ اس دورے کی کوئی تو وجہ ہونی چاہیے؟ شاید ایک وجہ سیاحت ہو، کیونکہ تاج محل ، جو محبت کی لازوال علامت ہے، ہمارے مغرب میں واقع ہمسایوں کے لئے اُس وقت بھی نہایت پرکشش رہتاہے جب پاکستان اور انڈیا کے تعلقات دوستانہ نہیں بھی ہوتے ایسے مواقع پر دل سے حسرت بھری آہ نکلتی ہے کہ یہ ممالک نزدیک ہوکر بھی کتنے دور ہیں۔ بہرحال آپ ایک وزیر کو مورد ِ الزام نہیں ٹھہرا سکتے کہ وہ محض سیاحت کی غرض سے بھارت آئے، کیونکہ چند ماہ بعد پاکستان میں تازہ انتخابات ہونے جارہے ہیں، ا س کا مطلب ہے کہ ملک صاحب کی وزارت اب صرف چند دن کی بات ہے، پھر ان کو بطور وزیر سیکیورٹی اور مراعات حاصل نہیں رہیںگی۔

 پاکستانیوںکوکچھ مقدس مقامات کی زیارت بھی بھارت کھینچ لاتی ہے ، جیسا کہ صدر آصف علی زرداری بھارت آئے اور دہلی میں حضرت نظام الدین اولیا ؒ اور اجمیر میں خواجہ معین الدین چشتی ؒ ، جو انسانی قدروں اور روحانی عظمت کی علامت بن کر دونوں ممالک کے عوام کے لئے کشش رکھتے ہیں، کے مزارات پر حاضری دی۔ افسوس کی بات ہے کہ مقدس مقامات کی زیارت کی شق موجودہ ویزہ اصلاحات میں شامل نہیں کی گئی ، حالانکہ لاکھوں لوگ سرحد کے دونوں طرف مقدس مقامات کی زیارت کے لئے جانا چاہتے ہیں۔ 1965 ءکی جنگ کے پانچ دھائیوں کے بعد سرحدوں پر کشیدگی کی وجہ سے دونوںممالک میں قیام پذیر رشتے دار آپس میں مل نہ پائے، مگر اب برف کچھ پگھل رہی ہے، اگرچہ دونوںممالک کے درمیان بہت سی جذباتی اور نفسیاتی الجھنیںحائل ہیں، لیکن عظیم درگاہیں ایک مشترکہ ماضی کی علامت بن کر بہت سے زخموںپر مرہم رکھ سکتی ہیں۔

اس پس ِ منظر میں ایسا لگتا ہے کہ مسٹر رحمان ملک صرف ویزے میں آسانی فراہم کرنے والے مسودے پر دستخط کرنے ہی نہیں آئے تھے کم از کم بھارتی افسر شاہی کا یہی خیال ہے۔ ہونے والے اس معاہدے کے تحت ویزہ سہولت سے صرف وہ لوگ ہی مستفید ہو سکیں گے جو اکیلے سفر نہیںکرسکتے بارہ سال سے کم عمر بچے اور 65 سال سے بڑی عمر کے معمر افراد۔ ان دونوں کو کسی جواں سال کے ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے اور اُس جوان کے لئے کوئی سہولت نہیںہے، کیونکہ اُس نے ویزہ حاصل کرنے کے روایتی عمل سے ہی گزرنا ہوتا ہے۔ میرا اب بھی یہی خیا ل ہے مسٹر ملک بھارت میں ویزے وغیرہ کے مسئلے پربات کرنے نہیں آئے تھے.... تو پھر اُن کے تشریف لانے کی غرض کیا تھی؟ کیا وہ صرف تاج محل جاکر مغلیہ شاہکار کی قدردانی چاہتے تھے یا بھارتیوںکو یہ بتانا چاہتے تھے کہ وہ قلم سے دستخط کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ ایسا نہیں ہے میرا خیا ل ہے کہ مَیں اس سوال کا جواب جانتا ہوں۔ ملک صاحب کے بھارت آنے کی وجہ پاکستان میں آنے والے انتخابات میں اپنی کامیابی کا دروازہ کھولنا تھا۔ ان کی دہلی میںکی جانے والی پہلی پریس کانفرنس میں مخاطب سامنے بیٹھے ہوئے بھارتی نہیں، بلکہ اپنے حلقہ ءانتخاب میںموجود ووٹر تھے۔

رحمان ملک واضح اور غیر جذباتی بات کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ بہت سے شکوک و شبہات کا بھی شکار نہیںہوتے۔ اس موقع پر ایسا لگا کہ ان کے لئے مہمان نوازی کے آداب سے زیادہ سیاست کی اہمیت ہے۔ روایتی اخلاق کا تقاضاہے کہ مہمان کو میزبان کے ساتھ گستاخانہ رویہ اختیار نہیںکرنا چاہیے، لیکن اس دور ے کے دوران ملک صاحب ضمیر، جو اخلاقیات کاغیر ضروری بوجھ برداشت کرتا ہے، کو سلا کر آئے تھے۔ بھارت آنے والے کسی سرکاری مہمان نے انڈیا کے لئے اتنا جارحانہ رویہ کبھی نہیں اپنایا ،جس کا مظاہرہ دہلی پہنچنے کے چند گھنٹوں کے اندر ملک صاحب کی طرف سے دیکھنے میں آیا۔

شاید اس رویے کی وجہ یہ ہے کہ رحمان ملک اور دیگر پاکستانی احباب یہ سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہیںکہ بھارت کے لئے ممبئی حملوں کی کیا اہمیت ہے۔ اُس وقت تمام انڈیا دم بخود ہو کر اُس خونی ڈرامے کو دیکھ رہا تھا اور بھارتیوںنے قاتلوں اور ان کے پاکستان میں موجود سرپرستوں(لشکر ِ طیبہ) کی گفتگو بھی سنی تھی ۔ نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر مسٹر سلمان بشیر کو بھارتی وزیر ِ داخلہ مسٹر چدم برم نے جو ثبوت دئیے وہ اُنہوںنے ”محض کاغذی کارروائی“ کہہ کر مسترد کر دئیے، جبکہ ملک صاحب کا کہنا ہے کہ فراہم کئے گئے مزید ثبوت ”محض معلومات“ ہیں۔ سلمان بشیر اور رحمان ملک کی زبان دانی کی صلاحیتیں مختلف ہیں، لیکن ان کا مفہوم کم و بیش ایک ہی ہے۔

رحمان ملک صاحب نے فرمایا کہ اجمل قصاب کے حوالے سے لشکر اور اس کے قائد حافظ سعید کے خلاف پیش کئے گئے بھارتی ثبوتوں کو”مزید چھان بین “ کی ضرورت ہے۔ ملک صاحب معذرت کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اُس واقعے میںملوث تمام افراد یا تو بھارت میں ہلاک ہو چکے ہیں یا پاکستان میں زندہ ہیں۔اب مسئلہ یہ ہے کہ مرحومین سے گفتگو ناممکن ہے، لیکن زندہ افراد سے تو ہو سکتی ہے۔ ملک صاحب کا کہنا ہے کہ پاکستانی عدالتیں حافظ سعید کو بے گناہ قرار دے چکی ہیں ، لیکن ملک صاحب! کوئی بھی عدالت اُسی گواہی کے مطابق فیصلہ کرتی ہے جو اُس کے سامنے پیش کی جائے۔ اگر پولیس کمزور کیس تیار کرے ، یاکوئی کیس سرے سے پیش ہی نہ کیا جائے ، تو فیصلہ اس کے مطابق ہی آئے گا۔

جو چیز مجھے پریشان کرتی ہے وہ یہ ہے کہ بھارت نے اسلام آباد سے ممبئی حملوںکے حوالے سے کبھی اس کے خفیہ اداروں کے ملوث ہونے کی بات نہیںکی۔ صرف قصاب ہی نہیں، ڈیوڈ ہیڈلے نے بھی بڑی وضاحت سے بتایا تھا کہ کس طرح پاکستان کے خفیہ اداروںنے اس کارروائی کے لئے معلومات اور معاونت فراہم کی۔ ہیڈلے بھارتی نہیں، بلکہ امریکی جیل میںہے۔ کیا ڈاکٹر من موہن سنگھ اور سونیا گاندھی یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ اب وقت آگیا ہے کہ بھارت، جیسا کہ رحمان ملک نے انڈیا پر زور دیا ہے، ممبئی حادثہ بھول کر آگے بڑھے ؟میرا خیال ہے کہ پاکستانی وزیر ِ داخلہ کی طرف سے حافظ سعید کو بے گناہ یا صورابا کالیا(بھارتی فوج کا کپٹن جو کارگل لڑائی میں ہلاک ہوا)کی ہلاکت میں پاک فوج کی بجائے ”موسم“ کا عمل دخل قرار دئیے جانے پر ہمارے سیاسی رہنما و¿ں کو کوئی تکلیف نہیں ہوئی ہے ۔ شاید وہ یہ سوچ رہے ہیں کہ کرکٹ کاجنون تمام نقصانات کا ازالہ کر دے گا۔ اس کے علاوہ اُنہوںنے ایک اور نظریہ ایجاد کر لیا ہے وہ جو احتساب چاہتے ہیں وہ جنونی ہیں اور وہ جو اس معاملے سے پہلو تہی کرنا چاہتے، وہ پُرامن فاختائیںہیں۔

ضرور پڑھیں: بے ادب بے مراد

حقیقت یہ ہے کہ انڈیا ”شکروں یا فاختاﺅں “ میں منقسم نہیںہے،بلکہ زیادہ تر انڈین پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں تاہم وہ امن انصاف کے ساتھ چاہتے ہیں۔ بھارتی یہ بھی جانتے ہیں کہ ہوسکتا ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ممبئی حملے یادداشت سے اتر جائیں، لیکن وہ یہ بھی جانتے ہیںکہ یہ خطرہ ختم نہیںہوگا۔ اس ضمن میں فیصلہ کن کردار پاکستان نے ادا کرنا ہے۔ پاکستان کو اس بات کو یقینی بناناہے کہ بھارتیوںکے دل جلانے کے لئے ممبئی حملوںکے ماسٹر مائنڈ اس کی سرزمین پر قہقہے نہ لگاتے پھریں۔ کیا ڈاکٹر من موہن صاحب سے یہی سوال کیا جا سکتا ہے؟

نوٹ: اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں ری پروڈکشن کی اجازت نہیں ہے۔ ٭

مزید : کالم