جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کی علامہ اقبال انٹرنیشنل کانفرنس

جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کی علامہ اقبال انٹرنیشنل کانفرنس
جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کی علامہ اقبال انٹرنیشنل کانفرنس

  

جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں شعبہ اُردو میں ڈاکٹر طاہر تونسوی کی تعیناتی غنیمت ہے جو اکیسویں صدی کے آغاز میں ریٹائرڈہوئے۔ ایچ ای سی نے ان کی خدمات جی سی یونیورسٹی فیصل آباد کے لئے حاصل کیں۔ پچھلے دنوں انہوں نے جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں علامہ اقبال انٹرنیشنل کانفرنس منعقد کر کے اچھا ڈول ڈالا۔ یہ کانفرنس انتس تا تیس نومبر کو دو روز جاری رہی۔ اس کانفرنس میں ملک کے نامور اہل قلم شریک ہوئے، بلکہ چند مقالہ نگار پڑوسی ملک ہندوستان سے بھی تشریف لائے ہوئے تھے۔ ہندوستان کے علاوہ مصر، ترکی اور ایران کے اہل علم نے بھی کانفرنس میں حصہ لیا۔ کانفرنس کے چار اجلاس ہوئے، جن میں بڑے دقیع مقالات پڑھے گئے۔ بعض حضرات نے زبانی تقاریر بھی کیں، اس کے علاوہ ایک محفل مشاعرہ بھی کانفرنس کا حصہ تھی۔ افتتاحی اجلاس کے مہمان خصوصی فرزند اقبال ڈاکٹر جاوید اقبال تھے۔ علامہ اقبال ؒ کے پوتے ولید اقبال نے بھی اظہار خیال کیا۔ ان کے خیالات سن کر احساس ہوا کہ خانوادہ¿ اقبال میں اقبال کی روایت زندہ ہی نہیں، بلکہ پروان چڑھ رہی ہے۔

یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کانفرنس کے انتظامات شاید جلد بازی میں طے ہوئے، جو اس قسم کی کانفرنس میں عموماً دیکھے جاتے ہیں۔ مناسب تشہیر اور دعوت ناموں کی بروقت ترسیل نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے شائقین علم محروم شرکت ہی رہے۔ خصوصاً اسی یونیورسٹی سے ریٹائر ہونے والے بیشتر اساتذہ علمی تقاریر اور مقالہ جات سے محروم رہنے پر شکوہ کرتے نظر آئے۔

اقبال فیروز اہل علم ہیں، صاحب قلم و قرطاس بھی ہیں۔ کسی زمانے میں میدان صحافت کے شہسوار آغا شورش کاشمیری کے ساتھ ہفت روزہ چٹان کے نائب مدیر بھی رہے۔ انہوں نے محروم سماعت رہنے والوں کے لئے اپنے دولت خانہ پر محدود علمی نشست منعقد کی ۔ ہندوستان سے تشریف لانے والے حضرات کو بطور خاص مدعو کیا گیا، جن میں دہلی یونیورسٹی سے تشریف لانے والے ڈاکٹر عبدالحق اور ڈاکٹر معین الدین جینا شامل تھے۔ شہر کے جن چیدہ حضرات نے اس علمی مجلس میں شرکت کی ، ان میں ڈاکٹر ریاض مجید، مولانا مجاہد الحسینی، ڈاکٹر انور محمود خالد، احمد فیروز، ملک محی الدین اور راقم الحروف شامل تھے۔ شرکاءنے سوال و جواب کی اس محفل میں اظہار خیال کیا۔

اس محفل میں چونکہ سبھی اہل علم تھے۔ سوال و جواب کی فراوانی میں، علمی مباحث میں سیلابی ریلے کی سی روانی تھی، جن کو فوری ضبط تحریر میں لانا ممکن نہیں تھا۔ لوح ذہن پر جو گفتگو باقی رہی ،وہ سپرد قرطاس ہے۔ شروع میں اقبال فیروز نے ہندی مسلمانوں کی خدمات کو سراہا اور کہا کہ پاکستان اصلاً آپ لوگوںکی مساعی کا نتیجہ ہے۔ مہمان حضرت نے اس عزت افزائی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے لئے پاکستان کا وجود بڑا سہارا تھا، لیکنانیس سو انتہر میں سقوط ڈھاکہ نے ہم سے یہ سہارا چھین لیا۔ اب ہندوستان کے مسلمانوں نے فیصلہ کیا ہے کہ ہمیں اپنے بل بوتے پر ہی جینا ہے اور ہر قسم کے حالات کا مقابلہ اپنی ہی قوت بازو سے کرنا ہے۔ 1971ءکے واقعے نے ہمارے اندر خود اعتمادی پیدا کی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ یہ بات شک و شبہ سے بالا ہے کہ پاکستان بننے کی سزا ہندوستان کے مسلمانوں کو اب تک مل رہی ہے۔ بقیہ سوال جواب اس طرح تھے:

سوال: ہندوستان میں بڑا علمی کام ہو رہا ہے۔کیا پاک و ہندکی سرحدوں پر کوئی ایسی صورت ہو سکتی ہے کہ صرف کتب کا تبادلہ ہو سکے تاکہ دونوں ملکوں کے اہل علم تحریری سرمائے سے فیض یاب ہوں؟

جواب: یہ دونوں حکومتوں کا کام ہے، دونوں کی اپنی مصلحتیں ہیں، لیکن پاکستان کی نسبت ہندوستان میں علمی کام کے لئے آسانیاں زیادہ ہیں۔

سوال: ہندوستان میں قادیانی نظریات کا کیا عالم ہے؟

جواب: وہاں ان نظریات کے حامل زیادہ نہیں، البتہ گلبرگہ میں کچھ موجود ہیں، لیکن زیادہ مسلمان ان نظریات کے حامل نہیں۔

سوال: ڈاکٹر ذاکر نائیک جو ہندوستان میں کام کر رہے ہیں، آپ کی اُن کے بارے میں کیا رائے ہے؟

جواب: ڈاکٹر ذاکر نائیک بہت اہم علمی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ انہوں نے اچھے تعلیمی ادارے قائم کئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ میرا مقصد داعی پیدا کرنا ہے اور مَیں بحمد اللہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوں۔

سوال: ڈاکٹر ذاکر نائیک کو مالی وسائل کہاں سے حاصل ہو رہے ہیں؟

جواب: اس بات کا حتمی علم تو ہمیں نہیں، تاہم ان کے اداروں کی فیس کافی زیادہ ہے۔ ممکن ہے کچھ مالی امداد دیگر مسلمانوں سے بھی حاصل ہوتی ہو۔ بہرحال ان کا کام بہت قابل عمل اور قابل تقلید ہے۔ ان کو اللہ نے کافی صلاحیتیں عطا کر رکھی ہیں۔ بہت سے ہندو بھی ان کی مساعی سے متاثر ہیں۔

سوال: ڈاکٹر نائیک کے اداروں سے تعلیم حاصل کر کے فارغ ہونے والے طلباءکے علمی معیار سے آپ مطمئن ہیں؟

جواب: صرف مطمئن نہیں، بہت زیادہ مطمئن ہیں۔ مَیں نے خود اپنے بچوں کو انہی کے اداروں میں داخل کرایا ہے۔ وہاں سے جو بچے فارغ ہوتے ہیں: انہیں عربی اور انگریزی لکھنے اور بولنے پر پوری قدرت ہوتی ہے اور دیگر علوم میں بھی وہ گہری واقفیت رکھتے ہیں۔ اگر یہ صورت حال برقرار رہی تو یہ ادارے اچھے مسلمان پیدا کریں گے۔

سوال: ہندوستان میں جمعیت العلمائے ہند کی سیاسی صورت حال کیا ہے؟

جواب: جمعیت العلمائے ہند کسی زمانے میں بہتر کام کر رہی تھی، اب تو خود سیاست کی نذر ہو چکی ہے۔ اقتدار کی لڑائی ہے، چچا بھتیجے باہم دست و گریبان ہیں، جس کی وجہ سے بہتری کی توقع کم ہے۔

سوال: ہندوستان میں اُردو زبان کی صورت حال کیا ہے؟

جواب: اُردو زبان کے فروغ کے لئے کچھ ادارے گراں قدر خدمات سرانجام دے رہے ہیں، جن میں رسائل ہیں، کچھ اخبارات بھی ہیں۔ تعلیمی اداروں میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کے قائم کردہ تعلیمی ادارے تو بہت زیادہ خدمات سرانجام دے رہے ہیں، بلکہ بعض غیر مسلم بھی اپنے بچوں کو ان اداروں میں بھیج رہے ہیں، کیونکہ یہاں پر اُن کی تعلیم مفت ہے، اس لئے مفلس لوگ اپنے بچوں کو ادھر بھیج دیتے ہیں۔ اس طرح ان بچوں میں اسلامی شعائر، اسلامی تعلیم کا بیج پروان چڑھنے کے امکانات روشن ہیں۔

سوال: ہندوستان میں اُردو اخبارات کون کون سے ہیں:

جواب: دو اخبارات بہت اہم ہیں۔ راشٹر سہارا، دوسرے نقلاب۔ یہ اُردو میں چھپتے ہیں۔ اُردو زبان ان سے زندہ ہے۔

سوال: ان اخبارات کی طباعتی تعداد کتنی ہے؟

جواب: یہ کچھ یقین سے نہیں کہا جا سکتا، کیونکہ ہر اخبار اپنی تعداد کو بڑھا کر ہی بیان کرتا ہے۔ ہماری دانست میں انقلاب تو کافی تعدار میں چھپتا ہے، تاہم راشٹر سہارا کی تعداد کم ہے، ان کے علاوہ سہ روزہ دعوت بھی کافی تعدار میں شائع ہوتا ہے،جسے اکثر مسلمان پڑھتے ہیں۔

یہ مجلس تقریباً دو گھنٹے جاری رہی۔ برخاستگی کے وقت صاحب خانہ اقبال فیروز نے ڈاکٹر عبدالحق سے الوداعی مصافحہ کرتے ہوئے دعائیہ انداز میں کہا کہ ہم آپ کے لئے امن، سکون،اطمینان، فارغ البالی کی دُعا کرتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالحق نے جواب میں کہا: ہمارا اطمینان، سکون اور قوت پاکستان کی طاقت، قوت کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس طرح جانبین اور جملہ شرکاءنے اپنے ہم وطنوں کو ڈبڈبائی آنکھوں سے رخصت کیا۔  ٭

مزید : کالم