پشاور ایئر پورٹ پر راکٹ حملے

پشاور ایئر پورٹ پر راکٹ حملے

پشاور ایئر پورٹ پر بارود سے بھری گاڑی دیوار سے ٹکرانے سے پانچ شہری جاں بحق اورپانچ دہشت گرد ہلاک ہوگئے، جبکہ 40 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ہفتہ کے روز ساڑھے آٹھ بجے کے قریب شروع ہونے والی دہشت گردوں کی اِس کارروائی میں ائیرپورٹ، سیکنڈری بورڈ پشاور ، اور بڈھ بیر پشاور ایئر بیس پر راکٹ فائر کئے گئے ۔ ایئر پورٹ کے قریب گرنے والے راکٹ سے ایک گیسٹ ہاﺅس کی عمارت کو نقصان پہنچا۔ یونیورسٹی سے ائیر پورٹ جانے والے راستے پر پہلی چیک پوسٹ پر بھی حملہ کیا گیا۔ راکٹ درے کے علاقے سے داغے گئے تھے۔ تاہم اس حملے میں ایئرپورٹ کا عملہ اور سیکیورٹی فورس کے لوگ محفوظ رہے، جنہوں نے پانچ دہشت گردوں کو فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک اور ایک کو زندہ گرفتار کرکے بارود سے بھری ایک گاڑی اور خود کش حملے کی جیکٹیں قبضے میں لے لی ہیں۔تاہم بارود سے بھری ایک گاڑی ایئر پورٹ ایریا میں داخل ہونے کی کوشش میں دیوار سے ٹکرا کر پھٹ گئی جس سے جانی نقصان ہوا۔ اس دوران پشاور کی تمام پروازیں منسوخ کر دی گئیں اور ارد گرد کے علاقے میں خوف و ہراس پھیلا رہا۔ تاہم سیکیورٹی عملے کی مستعدی اورفرض شناسی کی بدولت ائیر پورٹ تنصیبات کو بچالیا گیااور بڑے پیمانے پر جانی نقصان بھی نہ ہوسکا۔

دشمن کے دوسرے بڑے دہشت گردی کے حملوں کی طرح یہ بھی ایک بڑا حملہ تھا جس کی کامیابی کی صورت میں خوفناک حد تک زیادہ جانی اور مالی نقصان ہو سکتا تھا، لیکن ایئر پورٹ پر کئے جانے والے بہتر حفاظتی انتظامات اور عملے کی فرض شناسی سے ایسا نہ ہو سکا جس پر پورا عملہ خراج تحسین کا مستحق ہے۔ صدر اور وزیراعظم سمیت وزائے اعلیٰ ، گورنروں اور تمام بڑی شخصیات نے اس واقعہ کی مذمت کی ہے اور مرنے اور زخمی ہونے والوں کے لواحقین کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد جہاں ہم اپنی سیکیورٹی فورسز کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرسکتے ہیں وہاں دشمن کی طرف سے مسلسل خود پر ایک سے بڑھ کر ایک وار کئے جانے پر قوم کو تشویش بھی لاحق ہے۔ اس وقت افغانستان اور امریکہ کے ساتھ پاکستان کے مذاکرات شروع ہیں، ہم افغانستان سے اتحادی افواج کے جانے کے بعد وہاں پائیدار امن کے لئے بھرپور کوششیں کر رہے ہیں ۔ پاکستان میں قید طالبان کے رہنماﺅں کو بھی رہا کیا جارہا ہے ۔ بندوق اُٹھانے والے دہشت گردوں کے لئے عام معافی کا اعلان کرنے کے علاوہ انہیں باعزت زندگی گزارنے کے لئے ان کی مدد کی پیشکش بھی کی گئی ہے ۔بھارت کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لئے بھی تیزی سے پیش رفت ہو رہی ہے۔ ایسے حالات میں طالبانِ پاکستان کی طرف سے آخر ایسے حملوں کا کیا جواز ہے۔؟   

طالبانِ پاکستان آخر کون لوگ ہیں ؟ اگر یہ مسلمان ہیں تو مسلمانوں کے سب سے مضبوط اور بڑے ملک سے اُنہیں کیا پرخاش ہے ؟ اگر یہ پاکستان میں موجود ہیں تو اُنہیں یہاں کن لوگوں کی حمایت اور پناہ حاصل ہے ؟اُن کے سرپرستوں سے پاکستان کیا معاملہ کرسکتا ہے؟ اب تک کیا کِیا جا سکا ہے اور اِس راستے میں کیا مشکلات درپیش ہیں۔ کون لوگ پاکستان سے منافقت کررہے ہیں؟ یہ سب پاکستان کے عوام کو بتایا جانا چاہئے، تاکہ اُن پر واضح ہو سکے کہ وہ طالبان جنہوں نے کبھی پاکستان کی حمایت اور تعاون سے افغانستان میں حکومت قائم کی تھی اور اِس وقت بھی جو افغانستان کی آزادی کے لئے برسر پیکار ہیں ، وہ پاکستان میں آکر ہمارے بے گناہ شہریوں ،معصوم بچوں اور خواتین کی جان کیوں لے رہے ہیں ؟ اُن کا جو ترجمان ذمہ داری قبول کرتا ہے کیا وہ یہ نہیں بتا سکتا کہ ِان بہیمانہ کارروائیوں کے پیچھے اِن لوگوں کے کیا مقاصد ہیں؟ ایک مسلمان تو ایک بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل سمجھتا ہے۔ یہ ہمارے کیسے مسلمان بھائی ہیں ، جو بے گناہ مسلمانوں کا مسلسل خون کرنے اور مسلمانوں کے سب سے مضبوط قلعے کی دیواریں گرانے کی کوشش میں ہیں؟ احتجاج یا ناراضگی کا اظہار ایک آدھ کارروائی کے ساتھ ہوتا ہے ، یہ تو پاکستان اور اس کے عوام کے ساتھ ایک مسلسل جنگ کی جارہی ہے جس کا واضح مقصد ہماری بربادی ہے۔ اگر ایسے لوگوں کو پاکستان ، اسلام یا پاکستان کے عوام سے کوئی تعلق اور نسبت ہوتی تو وہ آئندہ کے عام انتخابات میں صحیح لوگوں کی تائید و حمایت کے ذریعے حکومت کو بدلنے کی سوچ سکتے تھے، لیکن اگر اُنہوں نے جنگ ہی کا راستہ اپنایا ہے تو اُن پر واضح رہنا چاہئے کہ اِس وقت پاکستان میں جیتا جاگتا آئین اورقانون موجود ہے ۔ اب پاکستانی قوم جمہوریت کے سوا کوئی دوسرا نظام کسی بھی صورت قبول کرنے کو تیار نہیں ، کسی کو بھی اپنی خواہش اور مرضی یا نظریہ عوام پر زبردستی ٹھونسنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ عوم کے ساتھ افواج پاکستان، جمہوری ادارے اور عدالت عظمیٰ ہر سطح پر پاکستان کے آئین کے تحفط کی بھر پور خواہش موجود ہے۔ اِس کے لئے قوم کسی بھی بڑے سے بڑے چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہے۔ اِس قوم نے دشمن کے سامنے نہ جھکنا سیکھا ہے نہ کبھی جھکے گی۔ اپنی آزادی اور خودمختاری کو برقرار رکھنے کے لئے ہم ہر سطح پر دشمن کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اِس کے لئے ہمارے بگڑے ہوئے حالات بھی ہمارے ارادوں کو کمزور کرنے کے بجائے ہمارے عزم و حوصلہ کو بڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔ یہ اللہ کی اس قوم پر خاص عنایت ہے۔ یہ حقیقت ہمارے دشمن جتنی جلد سمجھ لیں ، اتنا ہی بہتر ہے۔

 گرفتار کئے جانے والے دہشت گرد سے پوچھ گچھ کے ذریعے یقینا دہشت گردی کے اِس واقعے کے پیچھے کارفرما ہاتھوں کی نشاندہی ہو سکے گی۔ تاہم حسب روایت بغیر کسی تاخیر کے اِس حملے کی ذمہ داری طالبان پاکستان نے قبول کر لی ہے۔ اُن کے ترجمان نے بتایا ہے کہ اِس حملے میں دس افراد نے حصہ لیا اور بارود سے بھری ہوئی دو گاڑیاں استعمال کی گئیں۔ اگر طالبان پاکستان کا واقعی کوئی وجود ہے ،اُن کا ترجمان محض افسانوی نہیں حقیقی آدمی ہے، تو پانچ دہشت گردوں کے مارے جانے اور چھٹے کے گرفتار ہونے کا مطلب یہ ہے کہ باقی دہشت گرد موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ بارود سے بھری دو گاڑیوں میں سے ایک ایئر پورٹ ایریا میں داخل ہونے کی کوشش میں دیوار سے ٹکرا کر تباہ ہوگئی اور دوسری بارود اور خود کش جیکٹوں سمیت پکڑی گئی، اِس کارکردگی کے لئے سیکیورٹی سٹاف لائق تحسین ہے۔اس اعلیٰ کارکردگی کو جاری رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس طرح کے تمام واقعات سے حاصل ہونے والی معلومات اور سبق سیکیورٹی سے وابستہ تمام متعلقہ افراد تک پہنچاتے رہیں۔ دہشت گردی کو روکنے کے لئے میسر جدید تکنیکس میں ان کی تربیت کا انتظام کریں ، اور تمام ضروری آلات سیکیورٹی افراد کو مہیا کئے جاتے رہیں۔

اِن سب کارروائیوں کے بعد ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ ہمارے دشمنوں نے مسلسل دہشت گردی کی طویل جنگ ہم پر ٹھونس دی ہے۔ اب اِس جنگ کے لئے ہمیں تمام تر تیاریاں مکمل رکھنی چاہئیں ۔ اِس کے ساتھ ہی ساتھ ملک کے اندر موجود دشمن کے تمام لنکس کو بھی بے رحمی سے کاٹ ڈالنے کی ضرورت ہے، لیکن اِس سلسلے میںمحب وطن حلقوں کے اِس مسلسل دہرائے جانے والے شبے کو بھی پورا پورا وزن دیا جانا چاہئے جس کے مطابق یہ کہاجاتا ہے کہ طالبان پاکستان نام کی کوئی تنظیم پاکستان میں نہیں ہے ، بلکہ وطن دشمنوں کی دہشت گردی کی کارروائیوں کو محض پاکستان میں اسلامی نظام چاہنے والوںکو بدنام کرنے کے لئے طالبان پاکستان کے نام لگا دیا جاتا ہے۔

پوری پاکستانی قوم کو ایسے ہر واقعے پر ، اپنے ہر بے گناہ شہری ، معصوم بچوں اور خواتین کے جاں بحق ہونے پر گہر ا رنج اور صدمہ ہوتا ہے، لیکن یہ اللہ کی اِس قوم پر مہربانی ہے کہ ایسے صدموں سے ہم نڈھال نہیں، بلکہ آزمائش کی بھٹی سے کندن بن کر نکلتے ہیں۔ ہمارے ایک آزاد اور خود مختار قوم کی حیثیت سے زندہ رہنے اور نظریہ پاکستان پر یقین و اعتمادمیں اور زیادہ اضافہ ہوتا ہے۔ ہماری قوم مصیبتوںکی پالی ہوئی قوم ہے ، آزمائشوں سے گھبرانے والی نہیں۔ صبر اور استقلال کی نعمت سے قدرت نے ہمیں نوازا اور زمانے کے تقاضوں نے دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کا سبق ہمیں دیا ہے۔ اگر ہمارے بد خواہ معصوم نوجوانوں کوگمراہ کرکے اُنہیں اپنا سب سے بڑا ہتھیار بنارہے ہیں ، تو اِس دوران ہم نے بھی اپنی قوم کے نوجوانوں کو جمہوریت ، آئین و قانون کی پاسداری اور آزادی کے لئے سب کچھ قربان کردینے کا سبق سکھا دیا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں آگے بڑھتے اور علم سے اپنے اذہان کو روشن کرتے ہوئے اِن نوجوانوں کے شعور کی طرح اِن کے ایمان اور عزائم بھی زیاد ہ پختہ ہو چکے ہیں ۔ آخر کب تک ہمارا دشمن ہمیں آزماتا رہے گا۔ کب تک ؟  ٭

٭٭٭٭٭

مزید : اداریہ