لال رنگ، سرد موسم، استعفوں کا ذکر، تعلیمی پابندی۔۔۔ پنجاب اسمبلی کو ”ٹھنڈ“ لگ گئی

لال رنگ، سرد موسم، استعفوں کا ذکر، تعلیمی پابندی۔۔۔ پنجاب اسمبلی کو ”ٹھنڈ“ ...
لال رنگ، سرد موسم، استعفوں کا ذکر، تعلیمی پابندی۔۔۔ پنجاب اسمبلی کو ”ٹھنڈ“ لگ گئی

  

پنجاب اسمبلی پریس گیلری(نواز طاہر سے) پنجاب اسمبلی پر سرد رُت غالب ہے، ایوان کے اندر و باہر کی کارروائی اور پریس گیلری بھی ٹھنڈی ٹھندی ہوکر رہ گئی ۔ حالانکہ خیال کیا جارہا تھا کہ یہ سیشن بڑا دھماکہ خیز ہوگا اور آخری دنوں کی اس اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن میں بھر پور جوڑ پڑے گا لیکن معلوم نہیں کہ انہیں آخری دنوں میں افہام و تفہیم نے کس طرح گھیر لیا ہے۔ اب تک تین سیشن ہوئے ہیں جن میں فیصل آباد کے گھنٹہ گھر کی سریلی، لطیف اور ذو معنی گفتگو کرنے والے تینوں کریکٹر اپوزیشن لیڈر اور راجہ ریاض، ق لیگ کے پارلیمانی لیڈر چودھری ظہیرالدین اور وزیر قانون رانا ثناءاللہ میں کیا خفیہ ڈیل ہوئی ہے کہ پنجاب اسمبلی میں بیٹھ کر کسی پرائی جگہ کا احساس ہونے لگا ہے اور یہ احساس پریس گیلری میں ایک طرح سے تشویش کا باعث بن گیا ہے۔ تین دن کی کارروائی میں فیصل آباد شہر اور ضلع کی سابقہ پر جوش گفتگو ختم ہو گئی ہے البتہ اسی دورآبادی کے اعتبار سے جوان ہوکر فیصل آباد سے رخصتی والی تحصیل چنیوٹ (اب ضلع) سے تعلق رکھنے والے سید حسن مرتضیٰ نے اپنا وجود برقرار رکھا جنہوں نے آج بھی واک آﺅٹ کیا جبکہ پہلے روز انہوں نے گنے کے کاشتکاروں کے حق میں اسمبلی کے اندر دھرنا دیا تھا۔ آج اس مسئلے پر بات بھی ہونا تھی لیکن نہ تو سپیکر، وزیرقانون، وزیر خوارک و زراعت، اپوزیشن اور خود حسن مرتضیٰ کو یاد رہا۔ اسمبلی پر سرد رُت کا ذکر اور پیپلز پارٹی کے ارکان کی امیدوں پر پڑنے والی ٹھنڈ اسمبلی کے باہر بھی دکھائی دی جہاں وہ شکوہ کرتے اور صحافیوں کے سامنے کھسیانے کھسیانے دکھائی دے رہے تھے کہ انہیں وفاقی حکومت سے ملنے والے تین کروڑ روپے کیوں نہیں ملے؟ کئی ایک یہ بھی کہتے سنے گئے ہم نے تین نہیں پانچ کروڑ کی بات کی تھی جس پر کمیٹی بن گئی ہے یا کمیٹی ’پڑ’‘ گئی ہے۔ وہ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ انہوں نے وزیراعظم کی’ کلاس ‘بھی کی۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ اراکین پیپلز پارٹی کے اراکین کے استعفوں پر بھی باتیں کرتے رہے اور میڈیا کے سامنے صفائی پیش کرتے رہے۔ ایک بابر خان نے واضح کیا کہ جس بابر کے استعفے کی خبریں آئی تھیں وہ رانا بابر ہیں، میں نہیں ہوں ، عظمیٰ بخاری نے تو صرف مسکرانے پر ہی اکتفا کیا اور اسے جئے بھٹو کے نعرے کا ’تڑکہ‘ بھی لگا دیا۔ استعفوں اور پارٹی چھوڑنے کی بات پیپلز پارٹی کی نرگس اعوان ، ق لیگ کی ڈاکٹر سامیہ امجد اور ن لیگ کی عارفہ خالد میں بھی ہو رہی تھیں جہاں نرگس اعوان نے صحافیوں اور ساتھی اراکین سے کہا کہ بھئی کوئی انہیں بھی ان کے پارٹی چھوڑنے کے فیصلے سے آگاہ کرے؟ یہ بحث قریب سے گزرتی ہوئی ن لیگ کی ڈاکٹر غزالہ رانا کی شوخ سرخ چادر نے ختم کرادی اور ان کی چادر زیربحث آگئی لیکن یہ بحث اس فقرے نے ختم کرادی کہ یہ رنگ بھی عارفہ خالد کی لپ سٹک سے چرایا ہوا لگتا ہے اس فقرے پر عارفہ خالد نے روایتی مسکراہٹ سے جواب دیا۔ آج اسمبلی میں ماسوائے نومنتخب اراکین کے حلف کے سوا کوئی نئی اور قابلِ ذکر بات نہیں تھی، جو کوئی تھوڑی بہت تھی اس پر دھیان دینا بھی شائد مناسب نہیں تھا؟ بات بھی کیا تھی شیخ علاﺅالدین کی التواءکی تحریک؟ جس میں پنجاب یونیورسٹی کی اراضی قیمتاً شادی ہالوں کے حوالے کرنے سے متعلق جس کے بارے میں حکومت کا کہنا ہے کہ یہ سنڈیکیٹ کا فیصلہ ہے جس کا مقصد آمدنی میں اضافہ ہے اس پر شیخ علاﺅالدین کا یہ حدیثﷺ کا یہ حوالہ بھی محض حوالہ ثابت ہوا کہ وقف کی ہوئی چیز قیامت تک وقف ہی کہلائے گی یا اس کی حیثیت وقف کی رہے گی۔ اسمبلی نے یہ تاریخی فیصلہ بھی قبول کرلیا کہ کوئی بچہ جتنا مرضی ذہین کیوں نہ ہو سرکاری سکول میں نہ تو پانچ سال کی عمر میں پہنچنے تک داخل ہوسکتا ہے اور نہ ہی چودہ سال کی عمر پانے تک دسویں جماعت کا امتحان دے سکے گا یعنی تعلیمی آزادی پر سرکاری پابندی درست مان لی گئی ۔ اب اگر کوئی ذہین بچہ چاہے بھی تو روایتی طریقے سے آگے نہیں بڑھ سکتا البتہ غیر ملکی نصاب پڑھنے والے اس ’قید ‘ سے پہلے ہی آزاد ہیں، اے لیول، او لیول طرز کے امتحان دینے والوں کے بارے میںتو ویسے ہی کچھ نہیں بتایا گیا، یہ تعلیمی بورڈوں کی مقامی ”قید“ سے پہلے ہی آزاد ہیں۔ اس لئے ایوان میں بیٹھے عوامی نمائندوں کو عوامی بچوں کی ذہانت اور دنیا کے مقابلے سے کیا غرض ہوسکتی تھی۔ ہر وقت نعرے اور شور شرابے کا شغل کرنے والے پونے پانچ سال تک جمہوریت کی افہام و تفہیم نہ سمجھ سکے ، اب اگر کسی وجہ سے سمجھ گئے ہیں تو اسے خندہ پیشانی سے پریس گیلری کو بھی تسلیم کرنا چاہئے ، ضروری نہیں کہ گرما گرم خبروں کیلئے نعروں اور ذومعنی جملوں کا انتظار ہی کیا جائے۔ کبھی ٹھند کو ٹھند بھی ماننا چاہئے اور ٹھند رکھنی بھی چاہئے۔ کیا یہ لازم ہے کہ اس افہام و تفہیم کو بھی جمہور کا رش دیکھ کر جمہوریت کے بخار میں مبتلا تحریکِ انصاف کے سربراہ کی طرح نئی نئی جمہوری سوچ کو حکومت اور اپوزیشن کی نورا کشتی کہا جائے۔ 

مزید : قومی