ہماری علم دوستی!

ہماری علم دوستی!

  

دنیا لاکھ ہمارا مذاق اڑائے کہ غربت کی چکی میں پس رہے ہیں، دہشت گردی کا شکار ہیں، روز ڈرون حملے ہوتے ہیں، ان کے پاسپورٹ کو دہشت گردی کی علامت سمجھا جاتا ہے، ملک میں کرپشن کی انتہا ہے، وغیرہ وغیرہ، لیکن اساتذہ کی عزت اور علم دوستی کی جو لازوال مثالیں ہم نے فراہم کی ہیں، ان کی نظیر دنیا کے پاس موجود نہیں ہے، بلکہ اس میدان میں تو ہم کم از کم دنیا کو بھی ایک سبق دے سکتے ہیں کہ وہ ہمارے پیچھے لگ کر یقینا علم کے میدان میں ہمارے ساتھ کھڑی ہو سکتی ہے۔ دنیا کے پاس علم کے میدان اور اساتذہ کی عزت کے حوالے سے ہمیں سکھانے کے لئے ہے ہی کیا۔ زیادہ سے زیادہ یہی کہ ایک بار ہٹلر نے اپنے ہم وطنوں سے کہا تھا کہ تم مجھے اچھے استاد دو، مَیں تمہیں اچھی قوم دوں گا۔ پھر اساتذہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اس نے کہا تھا کہ آپ جو چاہیں لے لیں، لیکن مجھے مضبوط کردار اور پختہ سیرت کے جرمن نوجوان دیں۔ اساتذہ نے بیک زبان جواب دیا تھا کہ آپ ہمیں مناسب ماحول دے دیں، ہم آپ کی توقعات پر پورا اتریں گے۔ اس کے بعد استاد تعلیمی خدمت میں جُت گئے۔

ایک استاد نے اپنے سکول کے طلبہ کو بغیر معاوضے کے شام کے وقت گھر میں پڑھانا شروع کر دیا۔ اس استاد کے کسی پڑوسی نے شام کے وقت جوانوں کو نغمہ و رقص کی تعلیم دینا شروع کر دی، تو کچھ جوانوں نے ادھر کا رُخ کیا اور استاد کی تدریس متاثر ہوئی۔ استاد صاحب نے ہٹلر سے شکایت کی تو ہٹلر استاد کی شکایت سننے کے لئے اس شہر کے میئرکو لے کر اس استاد کے گھر پہنچا اور شکایت سننے کے بعد میئر کو حکم دیا کہ شہری ضابطوں میں یہ بات درج کرو کہ کسی استاد کے پڑوس میں کام کرنے والے ہر فرد کو پہلے استاد سے عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہو گا یا پھر یہ کہ مشہور ادیب، مصنف اور استاد اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ مَیں جب اٹلی کی یونیورسٹی میں پروفیسر تھا، تو مجھے کسی گواہی کے سلسلے میں عدالت جانا پڑا، جب جج کے علم میں یہ بات آئی کہ مَیں استاد ہوں تو وہ احتراماً کھڑا ہو گیا اور بڑے تعجب سے کہا کہ استاد اور عدالت میں۔ پھر ادب سے کہنے لگا کہ آپ نے کیوں تکلیف کی، آپ مجھے حکم دیتے، مَیں خود آپ کے گھر گواہی لینے کے لئے حاضر ہو جاتا۔ ترقی یافتہ دنیا کے پاس ہمارے مقابلے میں شاید اِسی نوعیت کے کچھ اور گھسے پٹے واقعات بھی ہوں گے۔

اب ذرا حوصلہ کر کے دنیا ہماری بھی سنے۔ ہم کم خرچ بالا نشیں کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے دنیا میں سب سے کم بجٹ تعلیم پر خرچ کرتے ہیں، لیکن علم کے میدان میں تیزی سے آگے بڑھتے جا رہے ہیں۔ آج کل علم دشمن دہشت گرد سکولوں کو بم دھماکوں سے اڑا رہے ہیں تو ہم نے دہشت گردی کا توڑ گھوسٹ سکول قائم کر کے کیا ہے۔ یہ سکول ظاہری طور پر نظر نہیں آتے تاکہ دہشت گردوں کا نشانہ نہ بن سکیں، لیکن کاغذات میں ان کی کارکردگی دیکھ کر چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں کہ کس طرح ہزاروں طلبہ ان سکولوں میں علم کی پیاس بجھا رہے ہیں۔ تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے کے لئے طلبہ کو یہ سہولت دی گئی ہے کہ وہ بیٹھنے کے لئے اپنے گھر سے اپنی مرضی سے ٹاٹ یا چٹائی لے کر آئیں اور اساتذہ کو بھی یہ سہولت میسر ہے۔

ہم استاد جیسی ہستی سے زیادہ سے زیادہ مستفید ہونے کے لئے اسے صرف کلاس روم تک محدود نہیں رکھتے، بلکہ پولیو کی مہم، ووٹر لسٹوں کی تیاری، ڈینگی مہم کی آگاہی، پولنگ سٹیشن پر ڈیوٹی وغیرہ میں بھی اس سے استفادہ کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں استاد کو راہ راست پر لانے کا بھی خاطر خواہ انتظام کیا جاتا ہے، مثلاً ہمارے سرگودھا کے ایک معزز سیاست دان نے استاد کی ٹانگیں توڑ کر اور سندھ کی ایک سیاسی خاتون نے پولنگ سٹیشن پر ایک استانی کی میڈیا کے کیمروں کے سامنے پٹائی کر کے اس کا واضح ثبوت دیا ہے کہ ہم استاد کو سر پر نہیں چڑھاتے۔ ہمارے تعلیمی اداروں کا ماحول ایسا لاجواب ہے کہ ہماری یونیورسٹیوں کے ہاسٹلوں سے القاعدہ سے متعلقہ افراد گرفتار کئے جا رہے ہیں، بلکہ اس سے بھی زیادہ کہ تازہ ترین مثال جو ہم نے کوئٹہ یونیورسٹی کے حوالے سے پیش کی ہے، اس میں حکومتی علم دوستی کی روشن مثال ہے۔

 ہماری یونیورسٹیوں کی مالی حالت اتنی بہتر ہو چکی ہے کہ آج یونیورسٹی کے اساتذہ سڑک پر کشکول لے کر نکل آئے اور صدا لگا رہے تھے کہ خیرات دو اور علم لو۔ پاکستان چونکہ ایک زرعی ملک ہے، یہاں ڈیری فارمنگ ایک منافع بخش صنعت ثابت ہو سکتی ہے۔ سکولوں میں طلبہ کی اس لحاظ سے خاصی تربیت کی جا تی ہے۔ اس حوالے سے علم دوست جاگیردار اپنے مویشی سکولوں میں باندھ دیتے ہیں تاکہ طلبہ مویشی پالنے کی عملی تعلیم حاصل کر سکیں۔ ہمارے30فیصد شہری آبادی کے سکولوں کو چھوڑ کر70فیصد دیہاتی علاقوں کے اکثر سکولوں کے کمرے قدرتی طور پر ہوا دار ہیں۔ ان سکولوں کے اساتذہ اور طلبہ کے لئے قدرتی جھاڑیوں کی صورت میں ہوا دار واش روم بھی میسر ہیں۔ ٭

مزید :

کالم -