گوگل مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کی تیاری میں

گوگل مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کی تیاری میں
گوگل مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے کی تیاری میں

  

نیویارک (نیوز ڈیسک) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں 2012ءمیں بنائی گئی توہین آمیز فلم کو ایک امریکی عدالت کے حکم پر یوٹیوب سے ہٹادیا گیا تھا لیکن اب گوگل دوبارہ اس کوشش میں ہے کہ اس عدالتی حکم کو اعلیٰ عدالت سے ختم کرواکے ناپاک فلم کو دوبارہ یوٹیوب پر بحال کروایا جائے۔

شاپنگ کے دوران صارفین فضول خرچی پر کیوں مجبور ہوجاتے ہیں ؟انتہائی دلچسپ تحقیق

 فلم میں کام کرنے والی اداکارہ سنڈی لی گارشیا نے موقف اختیار کیا تھا کہ اس کے ساتھ صریحاً جھوٹ بول کر فلم میں کام کروایا گیا اور اسے معلوم نہیں تھا کہ بعد میں اس کی آواز کی ڈبنگ کرکے اسے توہین آمیز مواد میں بدل دیا جائے گا۔ اس کا موقف تھا کہ فلم میں کام کرنے کی وجہ سے اس کے پاس کاپی رائٹ ہے اور وہ چاہتی ہے کہ یوٹیوب پر اس کی نمائش بند کی جائے۔ عدالتی حکم پر گوگل نے فلم یوٹیوب سے ہٹادی لیکن اب اس حکم کو فیڈرل اپیلز کورٹ میں چیلنج کیا جارہا ہے تاکہ آزادی اظہار کا ڈھونگ رچا کر اسے پھر سے یوٹیوب پر چلانے کی اجازت حاصل کی جاسکے۔ اس ناپاک کوشش میں ”یاہو “ اور ”نیویارک ٹائمز“ جیسے ادارے بھی گوگل کے ہمنوا بن گئے ہیں۔ اس گستاخانہ فلم کی وجہ سے سارے عالم اسلام میں شدید اشتعال پھیل گیا تھا اور اس کے دوبارہ منظر عام پر آنے سے ایک دفعہ پھر عالمی سطح پر شدید اشتعال پھیلنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -