ملالہ:دوسرا رُخ بھی دیکھئے

ملالہ:دوسرا رُخ بھی دیکھئے
ملالہ:دوسرا رُخ بھی دیکھئے

  

ملالہ کو نوبل پرائز ملنا ہی تھا، سو مل گیا،ملک کا پورا میڈیا اس کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان بھی ہے۔دلیل یہ ہے کہ ایک پاکستانی بچی کو ممتاز ترین عالمی انعام کا حق دار قرار دیا گیا۔دست بستہ عرض ہے کہ ہمارا چھ نکاتی مختصر سا تبصرہ دیکھ لیجئے:

*۔۔۔مغربی سامراج ایک حقیقت ہے۔یورپ کی قوموں نے ہی برطانوی سامراج کے تحت ہماری آزادیاں چھین کر ہمیں غلام بنایا تھا۔یہ حالیہ صدیوں کا ناقابلِ تردید واقعہ ہے۔ہماراکہنا صرف یہ ہے کہ سامراجی قوموں کی اپنی ایک ذہنی بناوٹ ہوتی ہے اورقوموں کو مغلوب ومحکوم بنانے کے فن سے وہ نہ صرف آگاہ ہوتی ہیں،بلکہ فن سامراج کی باریکیوں سے وہ بہت آشنا ہوتی ہیں اورایک ماہر سپیرے کی طرح وہ مغلوب ومحکوم قوموں کی نفسیات کو سامراجی بین کی دھنوں پر نچاتی ہیں۔اگران میں یہ مہارتیں نہ ہوں تو وہ غالب وغاصب اورحاکم و قابض قوم کیسے بن سکتی ہیں؟ آپ اس پر غور فرما کر دیکھ لیجئے۔

*۔۔۔میرے اور آپ سے زیادہ برطانوی اور مغربی یورپی عالمی سامراج کا دور علامہ اقبال ؒ نے دیکھا ہے۔وہ حکیم الاّمت کہلائے ہی اس لئے کہ انہوں نے جارح وغالب استعمار کی رگ رگ کو سمجھا اوراس کی نفسیات اورمہارتوں سے اپنی ملت اورعالم مشرق کو آگاہ کیا ۔آپ اس فرمان کا کیسے انکار کرسکتے ہیں کہ انہوں نے یورپ کو تمام جرائم کا منبع قرار دیتے ہوئے بتایا کہ یہ وہ بھیڑیا ہے، جس نے اپنے اوپر بھیڑ کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے ۔اگر آپ اس ایک مثال کو دیکھیں تو کتنے ہی بھیڑ نما معصوم اعمال کے اندر خونخوار بھیڑیا مکاری سے چھپا بیٹھا نظر آتا ہے۔یہ ہے ’’اقبالی عدالت‘‘کا ورڈکٹ-دوسری جگہ علامہ سامراج کی معصوم سی ایک اورچال یہ بتاتے ہیں کہ یہ جب کسی قوم کو مفتوح ومغلوب بنانا چاہتا ہے تو اس کے لئے بچوں کے دودھ کے ڈبے ،کھلونے اورمحبت کے گیت و تعلیم کا جھنڈا لے کر پہنچ جاتا ہے اورخود برصغیر میں تجارت کے نام پر ہی تو تسلط قائم کیا تھا۔ان مختصر اشارات کی تفصیل پر معمولی غور و فکر سے آپ خود اصل حقائق تک پہنچ جائیں گے۔

*۔۔۔کون جھٹلا سکتا ہے کہ اس سواتی بچی سے پیار، محبت اورقدردانی کے جذبوں سے سرشار دکھائی دینے والے سامراجی کتنے عشروں سے عرب وعجم کے مسلمان ملکوں میں قتل وخون کا مسلسل کھیل کھیلے جارہے ہیں اور لاکھوں معصوم ملالاؤں کے جسموں کے ٹکڑے ٹکڑے اورقیمہ قیمہ کرکے بھی سیر نہیں ہوئے۔شام اور عراق میں کس قدر ظلم و ستم ہوا اور کس قدر جانوں کا اتلاف ہوا، کسی کمپیوٹر سے گنتی کر لیجئے، چاروں طبق روشن ہو جائیں گے۔ ملالاؤں کو، ان کے پورے خاندانوں اور آبادیوں سمیت بموں اور بارود سے جلا کر خاکستر کرنے والوں کے دلوں میں معصوم بچی سے محبت کا جذبہ آ کہاں سے گیا؟

*۔۔۔ ملالہ پر ہونے والی عنایات کے لئے پشتون کلچر کی زمین وماحول ہی سامراج کو مطلوب تھا۔ وجہ تاریخ برصغیر سے پوچھ لیجئے کہ انگریز پورے برصغیر پر چھا گیا، مگر بہادر،غیور وصاحبِ ایمان پشتون قوم نے اس کے دانت کھٹے کر دیئے، چنانچہ باقی سب جگہ پر اپنی سامراجیت کے جھنڈے گاڑ کر، اپنے ایجنٹوں اور کارندوں، خصوصاً تیار کردہ خاندانوں کو جانشین بنا کر بظاہر گھر واپس چلا گیا، مگر پشتون خطوں کو پاؤں تلے روندنے اور غلام بنانے کے لئے نئی حکمت عملیوں کی تیاری کے لئے، نیز کچھ سستانے اورمائی باپوں سے ڈھنگ سیکھنے کے لئے واپس چلا گیا اوران مشکل ترین خطوں پر یلغار کرنے کے نئے پروگرام کے ساتھ وارد ہوا اورجنگی میدان گرم کرنے کے لئے کئی مجاہد اٹھائے اور پھر ان کو دہشت گردی کے لقب سے نواز کر جو کرتا رہا اورکررہا ہے، ہر کسی کے سامنے ہے۔عسکری کے ساتھ تہذیبی ’’ایٹم بم‘‘ بھی ہمراہ لایا، جن کا مقصد مضبوط ترین سامراج دشمن قوم ساکنانِ افغانستان و قبائلی ذہنوں کو رام کرنا ہے۔

ایک معصوم چہرہ اس مہارت سے تلاش کیا گیا کہ ابتدائی ٹین ایج میں میدانِ عمل میں داخل کردی جائے تاکہ طویل عرصے تک مسلمان ممالک، بالعموم اورپشتون علاقوں کے لئے بالخصوص ایسے جھنڈے کا کام دے، جس کے نیچے سینکڑوں تہذیبی کارکنان یا ایجنٹ تعلیم و ثقافت کے نام پر غلام سازی و محکوم و محسور بنانے کی مہم جاری رکھیں۔راقم کا تاریخی شعور یہ بتاتا ہے کہ اکیسویں صدی کے لئے زیادہ تر حصے کے لئے ایک گڑیا گھڑی گئی ہے جو اپنے بڑھاپے کے آخر تک سامراجی تہذیبی لیڈی جرنیل کے فرائض ادا کرتی رہے اوراس کی ممتاز وشوکت قائم رکھنے اوراس کی چمک دمک سے آنکھوں کو خیرہ کرنے کے لئے نہایت آب وتاب والے تمغے اورانعامات و اکرامات سے اسے مستقل طور پر لدا پھدا رکھا جائے۔ راقم اپنی عمر کی تقریباً ستر بہاریں دیکھنے کے مرحلے پر اپنا یہ موقف ریکارڈ کروانا چاہتا ہے کہ ہر جانب ملالہ اوراس کے مشن سے عشق ومحبت کی جعلی فضاؤں میں اصل حقیقت وہی ہے جو ان سطور میں پیش کی جارہی ہے۔

*۔۔۔کیا آپ کو یاد ہے کہ اس بچی کو اپنی گلی سے گھنٹوں کے حساب سے پوری دنیا کے افق پر بٹھا دیا گیا۔ جب توہین رسالت کے حوالے سے بننے والی امریکی فلم کے خلاف احتجاج شدید سے شدید تر ہو رہا تھا اوراس کی انتہا ایک جمعہ کی تاریخ کو سامنے آنی تھی کہ جمعرات کو ہی اس سامراجی کو یوں اٹھایا گیا کہ مغربی ملکوں کے سربراہوں نے اس کے لئے اپنی بانہیں کھول دیں، جبکہ انگریز قوم کی سیاسی و روحانی ماں جی(ملکہ برطانیہ) نے اپنے خاص ہسپتال میں اسے رکھا اوریہاں ملالہ نوازوں کا وہی ہنگامہ برپا ہوا جو اصلاً ملالہ پرستی کا مظہر تھا۔ فہرستیں بن رہی تھیں کہ کون گستاخ ملالہ کے زمرے میں آتا ہے۔کہاں گستاخ رسول ؐ کے خلاف غم و غصے کی فضا ہے اورکہاں اسے توہینِ ملالہ کے نعرے سے چھپا دیا گیا۔ قرآنی الفاظ میں ’’اس میں سمجھ والوں کے لئے نشانیاں ہیں‘‘۔

*۔۔۔ کسی پاکستانی کو نوبل انعام ملنا مسرت و اعزاز کی بات ہے،اگر واقعتا میرٹ کی بنیاد پر کسی قسم کی منفی عصبیت کے بغیر ایسا ہو،مگر یہاں تو صورتِ حال بالکل واضح ہے۔اس پر علامہ اقبال ؒ کے الفاظ میں یہی کہا جاسکتا ہے ’’جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے‘‘ ۔ ہم الیکٹرانک میڈیا کی اہمیت سے انکار نہیں کرتے، مگر گزشتہ کچھ عرصے سے سیاست کے حوالے سے، جس جانب داری کا مظاہرہ ہو رہا ہے اور اب اس کہانی میں بھی یہی کچھ دیکھا جارہا ہے تو ہمیں ایک خیال میں بہت وزن محسوس ہوتا ہے کہ اب ہماری سیاست ،تعلیم ،تہذیب وغیرہ کے اہم فیصلے میڈیا سے ہی ہونے ہیں اوراس ایجنڈے کی تکمیل کے لئے ہی مشرقی دور میں میڈیا کی یلغار ملک پر کرائی گئی اوریہ مقولہ تو دنیا میں مسلمہ حقیقت ہے کہ میڈیا کی باگ ڈور ایک خاص نسلی مذہب کے ہاتھوں میں ہے۔ایسا ہوتا درست بھی معلوم ہوتا ہے کہ خود ہمارے اپنے ملک کے بعض اہم حوالوں کی ڈوریاں اس جانب سے کھینچی جاتی محسوس ہوتی ہیں اور اب اس عالمی تہذیبی لشکر کشی کی امام بنا کر سوات کی معصوم بچی کے مہرے کو استعمال میں لانے کا وسیع وعریض اہتمام ہوچکا ہے۔ہم نے اپنا دل کھول کر رکھ دیا ہے۔ آپ اس حوالے سے ضرور سوچئے!

مزید :

کالم -