احتجاجی سیاست: حکومت اور اپوزیشن

احتجاجی سیاست: حکومت اور اپوزیشن
احتجاجی سیاست: حکومت اور اپوزیشن

  

لاہور میں عمران خان کا پلان سی بہت سی تلخ و شیریں یادیں چھوڑ گیا۔ احتجاج جب ہوتا ہے تو وہ کبھی نارمل نہیں رہتا، اس میں ابنار ملٹی عین فطری امر ہے، اگر ایسا نہ ہو تو احتجاج، احتجاج نہیں رہتا، یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ ہماری سیاسی جماعتیں احتجاج میں بھی سلیقہ اور قرینہ ڈھونڈ رہی ہیں۔ لاہور میں جب سیاسی جماعت 18جگہوں پر دھرنا دینے کا اعلان کرتی ہے تو یہ بات بذاتِ خود ابنار ملٹی کے زُمرے میں آتی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف جو احتجاج کررہی ہے ،وہ درحقیقت پاکستان کی تاریخ میں پہلے کبھی ہوا بھی نہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے پاس سٹریٹ پاور بہت زیادہ ہے۔ اس وقت عمران خان جو پلان بھی دیں گے، وہ کامیاب ہوگا، کیونکہ عوامی حمایت حاصل ہو جائے تو سب کچھ ممکن ہو جاتا ہے۔ لاہور میں اتنے بڑے احتجاج کے دوران جو واقعات پیش آئے، ان پر عمران خان نے بھی معذرت کا اظہار کیا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ خود تحریک انصاف کی دسترس سے بھی باہر ہوتا جا رہا ہے، یہ بہت خطرناک بات ہے، کیونکہ ہزاروں افراد کا ایک جگہ جمع ہو جانا اور پھر جو چاہے کرتے رہنا، ایک بڑے سانحے کی تمہید ثابت ہو سکتا ہے، لیکن یہ بات بھی طے شدہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف صرف اس وجہ سے اپنے پلان سی یا ڈی کو منسوخ نہیں کرے گی کہ اب ان کی ہڑتال میں شرپسند بھی گھس آتے ہیں، جو ان کے لئے شرمندگی کا باعث بنتے ہیں۔

حکومتی حلقوں کی طرف سے لاہورمیں پیش آنے والے واقعات کو بنیاد بنا کر میڈیا مہم چلانے سے یہ لگتا ہے کہ حکومت پاکستان تحریک انصاف کو ایسے واقعات کی وجہ سے عوام کے سامنے چارج شیٹ کرکے ناکام بنانا چاہتی ہے، جس طرح ایمبولینسوں میں مریضوں کے دم توڑنے، زبردستی دکانیں بند کرانے، میڈیا کے لوگوں سے بدتمیزی کرنے اور عام آدمی کے لئے مشکلات کو بنیاد بنا کر پاکستان تحریک انصاف کو ہدفِ تنقید بنایا جا رہا ہے، اس حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے، مگر کیا اس طرح سے تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور میں احتجاجی تحریک کو ختم کیا جا سکتا ہے؟ کیا یہ طریقہء کار ان حالات میں کارگر ہو سکتا ہے ، جب تحریک اپنے نقطہ ء عروج پر ہے؟ مَیں سمجھتا ہوں ایسا ممکن نہیں، اس قسم کی حکمت عملی سے اس تحریک کو مزید تیز تو کیا جا سکتا ہے، اس کی شدت میں کمی نہیں لائی جا سکتی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو لوگ عمران خان کے متاثرین بن چکے ہیں، وہ ایسی باتوں سے بددل ہو کر پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ وہ ایسے واقعات کے بارے میں اپنے لیڈروں کی بات ہی سنیں گے جو کہہ رہے ہیں کہ یہ سب کچھ مسلم لیگ (ن) کے بھیجے ہوئے شرپسندوں نے کیا، وگرنہ ہم نے تو اپنے کارکنوں کو ہدایات دے رکھی تھیں کہ وہ ایمبولینسوں کو راستہ دیں اور زبردستی دکانیں بند نہ کرائیں۔

جب سیاسی کشیدگی حد سے بڑھ جائے تو سامنے کی حقیقتیں بھی کوئی نہیں مانتا۔ ابھی چند روز پہلے فیصل آباد میں کیا ہوا تھا؟۔۔۔ فائرنگ کرنے والے کی ویڈیو فوٹیج موجود ہے۔ اخبارات اس کی تصویریں تمام زاویوں سے شائع کر چکے ہیں، لیکن اسے ابھی تک گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ اپوزیشن اس کا تعلق رانا ثناء اللہ اور حکمران جماعت سے جوڑ رہی ہے اور حکومت کے ترجمان اسے جھوٹ قرار دے کر اسے خود پی ٹی آئی کے کسی شرپسند کی کارروائی قرار دے رہے ہیں۔شرمناک بات یہ ہے کہ مجرموں کو پاتال سے نکال لینے کا دعویٰ کرنے والی پنجاب پولیس قاتل کو تمام تر ثبوتوں کے باوجود گرفتار نہیں کر سکی۔ صرف اسی بات سے یہ حقیقت بھی طشت ازبام ہوتی ہے کہ قاتل کوئی عام شخص نہیں، بلکہ کسی بااثر طاقت کی سرپرستی میں روپوش ہے اور پولیس اسے گرفتار کرنے سے بوجوہ قاصر نظر آتی ہے۔ کل اگر فیصل آباد کے حوالے سے مسلم لیگ (ن) نے سامنے کی حقیقتوں کو جھٹلایا تھا تو آج پاکستان تحریک انصاف جھٹلا رہی ہے، جب کسی نے کچھ ماننا ہی نہیں تو پھر لاکھ شواہد سامنے آ جائیں، کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

ایک سوال جو مجھے موجودہ صورت حال کے تناظر میں اکثر تنگ کرتا ہے، اس کا تعلق اس نکتے سے ہے کہ آیا احتجاج قانون اور آئین کے دائرے میں رہ کر کیا جا سکتا ہے؟ کیا احتجاج کو آئیڈیل بنانا ممکن ہے؟ جب پورا معاشرہ غیر قانونی اور غیر آئینی راستوں پر چل رہا ہو۔ خود پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ اس نے دھاندلی کے خلاف تمام آئینی و قانونی راستے اختیار کرنے کے بعد احتجاج کا راستہ اختیار کیا ہے۔ وہ اپنے احتجاج کو بھی آئینی حق قرار دیتے ہیں۔اب یہاں پُرامن احتجاج کی اصطلاح بھی بڑے تواتر سے استعمال ہو رہی ہے، حالانکہ احتجاج کا تو مطلب ہی معمول سے ہٹ کر کی جانے والی سرگرمی ہے۔ وہ پُرامن کیسے رہ سکتا ہے؟ خاص طورپر اس صورت میں کہ جب آپ پورا شہر بند کرنے جا رہے ہوں اور اس کے لئے ہر حربہ استعمال کرنا چاہتے ہوں۔ کیا عجب تماشا ہے کہ اپوزیشن احتجاج کو اپنا آئینی حق سمجھ کر استعمال کئے جا رہی ہے اور حکومت کا جواب یہ ہے کہ اپوزیشن آئین کے دائرے میں رہ کر احتجاج کرے تو رکاوٹ نہیں ڈالیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں اور کسی کی بھی خواہش نہیں کہ ’’اسٹیٹس کو‘‘ کا خاتمہ ہو۔۔۔ معاملات کو اس قدر طول دینے کی مثال پہلی بار پاکستان میں نظر آ رہی ہے۔ عمران خان تو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے 125 دن کا دھرنا دے کر دنیا کا ریکارڈ قائم کر دیا ہے، لیکن دوسری طرف خود حکومت نے بھی معاملے کو لٹکا کر ایک مثال قائم کر دی ہے۔

حکمران جماعت کی سیاسی حکمت عملی کیا ہے، اس سے قطع نظر جو بات سمجھ سے بالاتر ہے، وہ یہ رویہ ہے کہ جس نے ملک کو صحیح معنوں میں بحران زدہ بنا دیا ہے۔ حکومت خود کو اس صورت حال سے بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی۔ عمران خان تو اپنے پلان پر پلان دے رہے ہیں، مگر حکومت صرف غیبی امداد اور معجزے کا انتظار کررہی ہے کہ کسی طرح یہ احتجاج اور دھرنا ختم ہو جائے۔ ایسا کیسے ممکن ہے؟ حکومتیں مسائل کا سامنا کرتی ہیں اور ان کا حل نکالتی ہیں۔ یہاں مسائل سے نظریں چرانے کی پالیسی اختیارکی گئی، جس کا نتیجہ آج اس طرح برآمد ہوا ہے کہ معاملات سڑکوں پر بن اور بگڑ رہے ہیں۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ احتجاج اور مذاکرات ساتھ نہیں چل سکتے، مگر مودبانہ گزارش یہ ہے کہ حکومت جب تاثر ہی یہ دے کہ احتجاج ہوگا تو بات سنی جائے گی اور مذاکرات بھی ہوں گے تو پھر ان دونوں کو علیحدہ کیسے کیا جا سکتا ہے؟ یہ سب کچھ شروع تو ایک معمولی مطالبے سے ہوا تھا۔ اس وقت اگر مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کرنے کی راہ اختیار کرلی جاتی تو آج ہم ایک نہ ختم ہونے والے بحران کی زد میں نہ ہوتے۔

موجودہ بحران کا حل پوائنٹ سکورنگ کے ذریعے ہرگز نہیں نکل سکتا۔ اس کا فیصلہ اس پیمانے پر نہیں ہو سکتا کہ احتجاج کتنا بڑا تھا یا شہر کتنا بند ہوا، حکومتی نقطہ ء نظر سے اس میں مریضوں کے مرنے، معیشت کے نقصان اور غیر قانونی اقدامات کا تذکرہ کرنے سے بھی بات نہیں بنے گی۔ اس کا حل دونوں فریقوں کا کھلے دل کے ساتھ مذاکرات میں بیٹھنا ہے۔ ایک شہربند ہونے سے کیا کچھ نہیں ہوا، پورا ملک بند کرنے سے اور بہت کچھ ہو سکتا ہے، جس کا ملک متحمل نہیں، اس لئے ہوشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظام کو بچانے کی سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں، وگرنہ حالات جس تیزی سے بگڑ رہے ہیں، ملک میں کوئی بھی انہونی ہو سکتی ہے، پھر شاید کسی کے ہاتھ بھی کچھ نہ آئے۔

مزید :

کالم -