مسخ

مسخ
مسخ

  

عمران خان تاریخ کو ہی نہیں ،اپنی شخصیت کو بھی مسلسل مسخ کر رہے ہیں۔ کسی بھی دوسرے رہنما سے کہیں زیادہ یہ اُمید اُن سے کی جاسکتی تھی کہ وہ تاریخ کا مطالعہ کرنے کے قابل ہیں، مگر بار بار بتکرار اور بصد اِصرار وہ اپنے اس موقف کو دہرائے جارہے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ کے واحد شفاف انتخابات 1970ء میں ہوئے۔ سانحہ مشرقی پاکستان کی تاریخ سے ایک روز قبل 15 دسمبر کو لاہور میں اپنے احتجاج کے روز بھی اُنہوں نے یہی ارشاد کیا۔۔۔ہرگزنہیں!یہ درست موقف نہیں ہے۔یہ انتخابات ہرگز شفاف نہیں تھے۔یہ تاریخ کا بدترین سانحہ تھا، جس میں پہلا خون حقائق کا ہوا تھا۔ فوجی اشرافیہ کے لئے اپنے مستقبل کے حکمرانی سے متعلق عزائم میں مشرقی پاکستان ایک مستقل رکاوٹ بن سکتا تھا۔ پاکستان کی طاقت کے اصل مراکز نے تب یہ بھانپ لیا تھا کہ شیخ مجیب الرحمن جس راستے پر چل رہے ہیں، وہی راستہ دراصل اُن کے عزائم کی بھی بالواسطہ تکمیل کر رہا ہے، چنانچہ فوج نے تب تک طاقت کا استعمال نہ کیا، جب تک یہ موثر ثابت ہو سکتی۔ اس دوران تمام سیاسی راستوں کو ایک ایک کرکے بند کرنے کا تماشا دیکھا گیا۔ صرف یہی نہیں ،بلکہ انتخابی عمل کو مکمل طور پر شیخ مجیب کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا۔

کوئی اور نہیں، خود صدیق سالک یہ لکھے بغیر نہیں رہ سکے کہ یہ انتخابی عمل کیسا تھا؟ مشرقی پاکستان میں 7 دسمبر انتخابات کا دن تھا۔ صرف چار روز قبل بری فوج کو انتخابات کی نگرانی سونپی گئی۔ اُنہیں جن چار اُمور کا پابند کیا گیا، اُس کی تفصیلات صدیق سالک نے اپنی کتاب: ’’مَیں نے ڈھاکا ڈوبتے دیکھا‘‘ میں بیان کی ہے:

*۔۔۔پولنگ میں کسی قسم کی مداخلت نہ کی جائے۔

*۔۔۔صرف نازک مقامات (ٹیلیفون ایکسچینج، تارگھر، بینک، ریڈیو سٹیشن وغیرہ ) پر نگاہ رکھی جائے۔

*۔۔۔سپاہیوں کو عوام کی نظروں سے اوجھل رکھا جائے (تاکہ وہ اشتعال کا باعث نہ بنیں)

*۔۔۔صرف بلوے کو فرو کرنے کے لئے کارروائی کی جائے۔

بظاہر یہ بالکل مناسب قسم کی ہدایات نظر آتی ہیں، مگر یہ دراصل کوتاہ بینی کی آئینہ دار ہیں۔ فوجی اشرافیہ کیا اس سے بے خبر تھی کہ پُلوں کے نیچے سے کتنا پانی بہہ چکا ہے؟ شیخ مجیب دراصل خاموشی سے کس جانب پیش قدمی کررہا ہے؟ اور مشرقی پاکستان کے عوام کس بُری طرح تقسیم ہیں؟ اس عالم میں انتخابی نتائج شیخ مجیب کے لئے صرف حکومت سازی کا انتداب (مینڈیٹ) نہیں تھے۔ وہ اِسے اِس سے بڑھ کر استعمال کرنے کے لئے اپنی حکمتِ عملی رکھتے تھے،جبکہ پاکستان حامی حلقے بھی اِس انتخابی عمل کو عام انتخابی عمل نہیں سمجھ رہے تھے،چنانچہ فوج کے لئے یہ ضروری تھا کہ وہ انتخابات کو شفاف رکھنے کی حکمت عملی پر کام کرتی۔محض انتخابات کو پُرامن رکھنا کافی نہیں تھا، چنانچہ انتخابات کو پُرامن رکھنے کی قیمت اُس کی شفافیت کو متاثر ہونے دینے کی صورت میں ادا کی گئی۔ صدیق سالک نے اپنی کتاب میں اس صورتِ حال کا آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ ’’پولنگ سٹیشنوں کی حالت مختلف تھی۔ عوامی لیگ کے غنڈوں نے اکثر مقامات پر دبدبہ جما رکھا تھا، وہ مرضی سے ووٹ ڈلوا رہے تھے۔ پولنگ افسروں اور پریذائیڈنگ افسروں نے اپنے مستقبل کے حکمرانوں کو من مانی کرنے کی چھٹی دے رکھی تھی۔ حریف جماعتوں کو داد رسی کے لئے فوجی افسروں کی طرف رجوع کرنا پڑتا تھا، مگر وہ اس وقت تک مداخلت کرنے کے مجاز نہیں تھے، جب تک کہ امنِ عامہ میں خلل نہ پڑے۔

مثال کے طور پر دو واقعات درج کرتا ہوں۔ ضلع نواکھلی میں چوموہانی کے مقام پر ایک 12سالہ لڑکا ’’بنگلہ دیش زندہ باد‘‘ کے نعرے لگا تا پولنگ بوتھ میں ووٹ ڈالنے آیا۔ عوامی لیگ کا مخالف امیدوار اس لڑکے کو پکڑ کر کیپٹن چودھری کے پاس لے گیاجو اپنی پلاٹون سمیت ساتھ والی عمارت میں چھپے بیٹھے تھے۔ امیدوار نے شکایت کی کہ اول تو یہ لڑکا عمر کے لحاظ سے ووٹ ڈالنے کا اہل نہیں، دوم یہ پولنگ بوتھ میں نعرے لگا کر قانون کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔کیپٹن صاحب نے عرضداشت ہمدردی سے سنی، مگر یہ کہہ کرکسی قسم کی کارروائی کرنے سے معذرت کر لی کہ مَیں اس کا مجاز نہیں۔ آپ پریذائیڈنگ افسر سے شکایت کیجئے۔۔۔ دوسرا واقعہ تنگیل سے متعلق ہے، جہاں رحمٰن نامی شخص کو میجر خان کے سامنے پیش کیا گیا، کیونکہ وہ پولنگ افسر کی مرضی سے پانچویں مرتبہ اپنی پرچی ڈالنے جا رہا تھا۔میجر صاحب نے شکایت سننے کے بعد فرمایا : ’’بندہ نواز ! آپ کا ارشاد درست،مگر یہ میرا دردِ سر نہیں کہ کون کتنی مرتبہ ووٹ ڈالتا ہے۔ مجھے یہ بتایئے کوئی خون خرابہ ہوا ہے یا نہیں‘‘؟۔۔۔

سارا دن یہ تماشا دیکھنے کے بعد جب 7دسمبر کا سورج مغربی افق میں اپنا مُنہ چھپانے لگا، تو جنرل یعقوب، جنرل راؤ فرمان علی کے دفتر میں (جو سول معاملات کے انچارج تھے)داخل ہوئے۔ اُن کے چہرے پرطمانیت اور فخر کے آثار نمایاں تھے۔انہوں نے داخل ہوتے ہی کامرانی کے انداز میں کہا: ’’مجھے خوشی ہے، حالات پُر سکون رہے اور انتخابات منصفانہ اور آزادانہ ماحول میں منعقد ہو گئے‘‘۔۔۔جنرل فرمان نے کہا : ’’بے شک۔۔۔آزاد۔۔۔ یکسر آزاد‘‘ ۔۔۔ مشرقی پاکستان میں فوجی کردار کا صرف یہی پہلو جائزہ طلب نہیں ہے کہ اُس نے آپریشن کے دوران کیا کردار ادا کیا؟ بلکہ دراصل اس سے پہلے اور بعد میں وہ کیا کرتی رہی؟ یہ سب سے زیادہ قابلِ غور معاملات ہیں، جو دراصل تمدنی اور عسکری ذہنوں کے تفاوت کے ساتھ اُن کے دائرہ ہائے کار کے تعین کا بنیادی فہم فراہم کرتے ہیں۔یہ معاملات ایک وسیع تر تناظر میں دعوتِ غوروفکر دیتے ہیں، مگر افسوس مشرقی پاکستان کے سانحہ کے تمام اسباب و محرکات کو ہمیشہ قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی گئی اور آج اس کا اثر یہ ہوا ہے کہ عمران خان ایسے سیاسی رہنما بھی 1970ء کے انتخابات کو تاریخ کے سب سے شفاف انتخابات قرار دے رہے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ 1970ء کے انتخابات اگر شفاف بھی ہوتے تو اکثریت شیخ مجیب کو ہی حاصل ہوتی، مگر یہ تو ہر گز نہ ہوتا کہ عوامی لیگ مشرقی پاکستان سے قومی اسمبلی کی کل 162 نشستوں میں سے 160 پر کامیاب ہو جاتی۔ ہارنے والی باقی دونشستوں کا حال بھی خود شیخ مجیب سنا چکے ہیں۔مجیب نے ایک غیر ملکی نمائندے کوٹھیک انتخابات کے دن ایک انٹرویو دیا تھا۔ یہ انٹرویو نہ صرف اُن کی آواز میں نشر ہوا، بلکہ یہ مارننگ نیوز سے لے کر ڈان تک میں اُن ہی دنوں شائع بھی ہوا۔ شیخ مجیب سے جب اس انٹرویو میں پوچھا گیا کہ انتخابات میں کیا نتائج آئیں گے،تو اُن کا جواب تھا کہ ’’چھوکرا لوگ آیاتھا، اُن سے ہم نے پوچھا،اُن لوگوں نے کہا سو فیصد۔ہم نے کہا نہیں نہیں،بڈھا نورالامین اور راجہ تری دیو رائے کو چھوڑ دو‘‘۔حیرت ہے کہ انٹرویو کے بعد جب انتخابی نتائج آئے تو ماجرا یہی تھا۔ حمود الرحمن کمیشن رپورٹ میں بھی انتخابات کو دھاندلی زدہ قراردیا گیا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر سجاد حسین نے اپنی کتاب ’’شکست آرزو‘‘ میں بھی اس کی نشاندہی کی ہے۔ حیرت ہے کہ روزِروشن کی طرح ان حقائق کو عمران خان اَن دیکھا کر رہے ہیں۔ اُنہیں کوئی یہ مشورہ دینے والا بھی نہیں ہے کہ وہ نواز شریف کے ساتھ جو چاہے کریں، مگر تاریخ کے ساتھ تو کم ازکم یہ سلوک نہ کریں۔ اس طرح تاریخ تو مسخ نہیں ہوگی، مگر عمران خان کی اپنی شخصیت مسخ ہو کر رہ جائے گی۔

مزید :

کالم -