معاشرہ اور معیشت۔۔۔ جو درکار ہے

معاشرہ اور معیشت۔۔۔ جو درکار ہے
معاشرہ اور معیشت۔۔۔ جو درکار ہے

  

دنیا کو یہ سبق حاصل ہوا ہے کہ دولت کی طبقاتی اور علاقائی تقسیم کا بڑھتا ہوا فرق (جو کسی بھی وجہ سے ہو) معاشی اور سماجی بحران کو جنم دیتا ہے۔

سماجی آجروں نے شدید غربت کو کم کرنے میں مفید کردار ادا کیا ہے۔ بنگلہ دیش کے گرامین بینک کے ڈاکٹر محمد یونس اور پاکستان میں ’’اخوت‘‘ کے ڈاکٹر امجد ثاقب سماجی آجروں کی مثال ہیں۔ لیکن دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم کو دُور کرنے کے لیے ہمیں چنیدہ پیداواری اثاثوں کی ملکیت کے بارے میں سیاسی فیصلہ کرنا ہوگا، جیسا کہ زرعی اصلاحات۔ یہ فیصلہ صرف معاشی نہیں سماجی پسماندگی سے نجات کے لیے ضروری ہے۔

جب تک ہمارے معاشرے میں دولت کی تقسیم کا وسیع فرق موجود رہے گا، اس وقت تک آئینی مدآت میں مساوی مواقع کی یکساں فراہمی زیادہ معنی نہیں رکھتی۔

جب سماجی سیاست دان معاشرے میں ثقافتی تبدیلی لے آئیں گے تودولت کی افزائش کے لیے ہمارے سامنے مشترک ملکیت(جیسا کہ کو آپریٹو) کے وسیع نمونے موجود ہوں گے۔ ہم بنکوں اور مالیاتی اداروں کو بلا خوف و خطر قومی تحویل میں لے سکیں گے۔ اسی صورت میں ریاست قرضہ جات پر موثر ضبط قائم رکھنے اور ایسی سرگرمیوں (مثلاً سٹہ بازی) پر قابو پانے کے قابل ہوگی جو معاشی بحران کو جنم دیتی ہیں۔

Status Quo کے ڈھانچے میں کس نوع کی ترقی ممکن ہے

اہم سوال یہ ہے کہ آیا موجودہ نظام برقرار رکھ کر ہم ترقی کر سکتے ہیں؟ ہاں، ہم پیداوار بڑھا سکتے ہیں۔ کچھ نہ کچھ سماجی ترقی بھی ہوگی۔ مگر معاشرہ بحیثیت مجموعی ارتقا (ڈویلپ) نہیں کرے گا۔ موجودہ نظام امیر کو امیر تر بنا دے گا۔ متوسط طبقے کا آگے دیکھنے والا حصہ کسی حد تک وسیع ہو جائے لیکن پسماندہ طبقے کے حالات میں نمایاں بہتری نہیں آئے گی۔ اس نوعیت کی ترقی کے باوجود ملک ایک سے دوسرے بحران کی جانب بڑھتا رہے گا۔

ہائی ٹیکنالوجی کے روز افزوں رفاہی پہلو

قبل ازیں معاشی اور سیاسی نظاموں کا جو خاکہ پیش کیا گیا وہ پاکستان کی نیم فیوڈل نیم صنعتی خصوصیات کے حوالے سے تھا۔ مگر ہمارا ملک ہائی ٹیکنالوجی کی پیش رفت کا اثر بھی قبول کر رہا ہے جو ترقی یافتہ ممالک میں ہو رہی ہیں۔ ہم نے اس بحران کا ذکر بھی کیا جو ہائی ٹیکنالوجی کی بیش بہا دولت اور Neoliberal پالیسی نے عالمی معیشت میں پیدا کیا۔ ہم نے بیان کیا کہ جن مغربی ممالک میں سوشل ڈیموکریسی رائج تھی وہاں مالیات کے بحران کی وجہ سے ریاست اُن ذمہ داریوں کو ادا کرنے سے مشکلات میں گرفتار ہو گئی جو سوشل ڈیموکریسی کے تقاضے تھے۔ یہ تصویر کا گھناؤنا پہلو ہے مگر اس کے رفاہی پہلو بھی ہیں۔

ہائی ٹیکنالوجی سے متعدد سروسز کی لاگت کم ہو گئی ہے اور وہ فری دستیاب ہونے لگی ہیں۔ پاکستان بھی اس ٹیکنالوجی سے فیض یاب ہو رہا ہے۔ انٹرنیٹ نے جدید تعلیم کی سہولیات فراہم کیں۔ انٹرنیٹ کے ذریعے بے شمار معلومات، لیکچرز، کتابوں اور لائبریریوں تک مفت یا سستی رسائی ہو چکی ہے۔ موبائل فون سے ہم فری ریڈیو سن سکتے ہیں، فری تصویریں بنا سکتے ہیں اور سستے SMS بھیج سکتے ہیں۔ سمارٹ فون نے موبائیل ٹیلی فون اور کمپیوٹر کے بہت سے فیچرز یکجا کر دیئے ہیں۔ Skype کے ذریعے فری کالز کر سکتے ہیں۔ YouTube کے ذریعے ہم ایجوکیشن، ہیلتھ اور تفریح کے سامان فری دیکھ اور سن سکتے ہیں۔

انٹرنیٹ کے استعمال نے کئی اشیاء کی ایجاد اور پیداوار کی سہولتیں میسر کر دی ہیں۔ امریکہ اور بعض ممالک میں لوگ کاروں، رہائشی مکانوں اور دفاتر وغیرہ کی مشترک سہولیات حاصل کرتے ہیں۔ کچھ مثالیں ایسی ہیں کہ کاروباری صلاحیت کے بہرہ ور نوجوانوں نے انٹرنیٹ کے ذریعے ماہرین سے نئی ایجاد کے بارے میں مشورہ حاصل کیا پھر مستقبل کے خریداروں میں معلومات تقسیم کیں۔ اس طریقِ کار سے اشیاء کا پیداواری اور تقسیم کا ڈھانچہ قائم ہو گیا۔ یہ طریقہ اختیار کرنے والوں نے کاروبار کے بارے میں مشورہ دینے والے ماہرین کو منافع میں شریک کیا اور خریداروں کو ان کی پسند کی اشیاء فراہم کیں۔ اس طرح سوشل پروڈکشن کا ایک نیا طریق قائم ہو گیا۔ یوں سرمایہ داری نظام میں مشترک مفاد پر قائم معاشی عمل کا نیا شعبہ پروان چڑھ رہا ہے۔

ہائی ٹیکنالوجی نے بہت سے صارفین (Consumers) کے لیے متعدد اشیاء مل جل کر استعمال کرنے کا سامان کر دیا ہے۔ اسے Sharing Economy کہتے ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ پندرہ بیس سالوں میں Sharing Economy کا دائرہ بہت وسیع ہو جائے گا۔ یہ وسعت ایک نئے انتظامی ڈھانچے کی ضرورت اُجاگر کرے گی۔ یہ ڈھانچہ بلا منافع آرگنائزیشن کا ہو گا۔ جو نجی شعبے میں واقع ہو گا۔ گویا عوام کو آسودگی فراہم کرنے والے ایسے ادارے ریاستی شعبے سے باہر ہوں گے۔

مستقبل قریب میں ہر فرد اور ہر مقام اور علمی ادارہ ایک دوسرے سے Internet of Things کے ذریعہ منسلک ہو جائے گا۔ اس کے نتیجے میں معلومات، نئی ایجادات اور سوشل پروڈکشن کے مواقع بڑھ جائیں گے۔ یوں Sharing Economy کا حجم بڑا ہو جائے گا۔

سوال یہ ہے کہ پاکستان جدید تہذیب کے اُس طویل سفر سے نہیں گزرا جو معاشرے کو اتنا بالغ بنا دیتا ہے کہ وہ ہائی ٹیک کی بنیاد پر قائم Sharing Economy کو وجود میں لائے اور بخوبی چلانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ تاہم ہم نے معیشت کا جو خاکہ پیش کیا وہ حد سے بڑھی خود غرضی کو فروغ نہ دے گا۔ پھر ہم نے سماجی سیاست کو لازمی قرار دیا۔ جس کا تقاضا ہے کہ عوام رضاکارانہ مشترک فلاحی اور ترقیاتی پراجیکٹس قائم کریں اور خود چلائیں۔ یہ فیچر معیشت میں فلاحی رجحانات کی پرورش کرے گا۔ ہمارے مذہبی عقائد میں زکوٰۃ اور خیرات کی تعلیمات Sharing Economy کی کامیابی کے لیے ذہنیت اُجاگر کریں گی بشرطیکہ یہ تعلیمات ثواب کے ساتھ ساتھ سماجی ذمہ داری کا شعور بھی اُجاگر کریں۔

ِْمذکورہ رفاہی پہلو تنگ دستی اور غربت کی وجوہ سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ عالمی آبادی کا تقریباً 50 فیصد 2 ڈالر فی کس آمدن یومیہ سے کم کماتا ہے۔ اتنے بڑے مسئلے کو ہائی ٹیکنالوجی کے رفاہی پہلوؤں اور نجی شعبے کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اس کے لیے لازمی ہے کہ ریاست اور سیاست بھی اس کے حل میں عملی کردار ادا کریں۔ اس مضمون کا بنیادی پیغام یہی ہے۔

مزید :

کالم -