سی آئی اے کی ٹارچر رپورٹ (1)

سی آئی اے کی ٹارچر رپورٹ (1)
سی آئی اے کی ٹارچر رپورٹ (1)

  

پچھلے دنوں غیر ملکی میڈیا پر ایک اہم خبر فلیش ہوتی رہی کہ امریکہ نے نو گیارہ کے بعد جن افراد کو مشکوک سمجھ کر مختلف جیلوں میں قید رکھا اور ان کے ساتھ جو بہیمانہ غیر انسانی سلوک کیا گیا اس کی تفصیلات منظر عام پر آ گئی ہیں۔یہ تفصیلات ایک رپورٹ کی شکل میں ہیں جو 9 دسمبر2014ء کو عام لوگوں اور میڈیا کو جاری کی گئی۔ ویسے تو اصل رپورٹ 6700صفحات پر مشتمل ہے اور ابھی صیغہ ء راز میں ہے لیکن اس کا خلاصہ (Summary) جو 525 صفحات پر پھیلا ہوا ہے اور جو 8دسمبر2014ء تک انتہائی خفیہ (ٹاپ سیکرٹ) قرار دیا گیا تھا، اسے اب عام پبلک کے لئے کھول دیا گیا ہے۔یہ رپورٹ گزشتہ 5،6 برسوں سے معرضِ تکمیل میں تھی۔ اس کے کئی حصے چونکہ پاکستان سے بھی متعلق ہیں اس لئے اس کالم میں نہایت اختصار کے ساتھ اس کے چیدہ چیدہ نکات پر تبصرہ کیا جائے گا۔

نو گیارہ کے فوراً بعد جن مشکوک لوگوں کو گرفتار کیا گیا ان میں سے اگرچہ کسی کا تعلق بھی پاکستان سے نہیں تھا لیکن ان میں سے بیشتر القاعدہ کے سرگرم رکن تھے۔ اس وقت کے امریکی صدر جارج بش کو بتایا گیا تھا کہ نو گیارہ کا پلان افغانستان میں بیٹھ کر تیار کیا گیا ہے اور جب امریکہ نے افغانستان سے اسامہ اور اس کے ساتھیوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا اور ملا عمر نے انکار کر دیا تو امریکہ نے افغانستان پر حملہ کر دیا اور صرف ایک ماہ کے اندر اندر طالبان حکومت ختم ہو گئی۔ تاہم القاعدہ کے وہ لوگ جو امریکہ کی طرف سے نو گیارہ حملے میں ملوث قرار دیئے گئے تھے، ان میں سے کئی ہمارے فاٹا(شمالی اور جنوبی وزیرستان) میں آکر چھپ گئے اور جو حفاظتی چھاتہ ملا عمرنے القاعدہ کو اپنے ہاں فراہم کیا ہوا تھا وہی چھاتہ شمالی اور جنوبی وزیرستان کے لوگوں نے ان غیر ملکیوں کو فراہم کر دیا۔ ان غیر ملکیوں میں سے بیشتر کا تعلق سعودی عرب، عرب امارات، مصر اور ازبکستان وغیرہ سے تھا۔ قارئین کو اس کی ساری تفصیلات معلوم ہیں اور بادی النظر میں مجھے ضرورت نہیں کہ اس پر مزید کچھ لکھوں۔

پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے پاکستان میں چھپے کئی مشکوک افراد کو گرفتار کرکے امریکہ کے حوالے کر دیا تھا اور یہ بات بھی سب پاکستانیوں کو معلوم ہے۔ لیکن جو بات اکثر پاکستانیوں کو معلوم نہیں وہ یہ ہے کہ امریکیوں نے ان مشکوک افراد سے پوچھ گچھ اور تفتیش کی غرض سے مختلف ملکوں میں ایسے قید خانے/ جیلیں بنائی ہوئی تھیں جو ہٹلر کے نازی عقوبت خانوں سے بھی کہیں زیادہ بدتر تھیں۔جن ممالک میں یہ عقوبت خانے بنائے گئے ان میں عراق(ابو غریب) ، افغانستان (بگرام)، پولینڈ، ازبکستان، تھائی لینڈ اور گوانتاناموبے شامل تھے۔ جارج بش کے (2001ء سے لے کر 2008ء تک ) دورِ صدارت میں CIAنے ان قید خانوں میں محبوس قیدیوں کو جو ایذائیں دیں ان کا شہرہ رفتہ رفتہ جب باہر آنے لگا تو صدر اوباما نے 2009ء میں عہدۂ صدارت سنبھالنے کے بعد جو اولین احکامات جاری کئے، ان میں ایک حکم یہ بھی تھا کہ ان عقوبت خانوں میں ایذا رسانی کا سلسلہ فوراً بند کیا جائے۔ اور ساتھ ہی یہ حکم بھی دیا کہ ایک مفصل رپورٹ کانگریس کو پیش کی جائے جس میں ان تمام ہتھکنڈوں، حربوں اور دلدوز جرائم کی مکمل تفصیل موجود ہو جو CIA نے نو گیارہ کے بعد سے اب تک ان قیدیوں پر روا رکھے۔ یہی وہ رپورٹ ہے جو آج زیرِ بحث ہے۔

اس رپورٹ میں القاعدہ کے تمام بڑے بڑے مقیّد لیڈروں کے ساتھ ’’پوچھ گچھ ‘‘ کے نام پر جو انہونیاں کی گئیں، وہ بڑی تفصیل سے بیان کی گئی ہیں۔ اس رپورٹ کا عنوان ہے : ’’CIAکا پوچھ گچھ اور قید و بند کا پروگرام۔۔۔ ایک مطالعہ‘‘ انگریزی میں یہ عنوان اس طرح ہے:

Study of the CIA`s Detention and interrogation Program.

یہ رپورٹ ،سینیٹ کی ’’سیلیکٹ کمیٹی برائے انٹیلی جنس‘‘ نے مرتب کی جس کی چیئرپرسن کا نام ڈینی فین سٹین (Dienne Feinstein) ہے۔ یہ رپورٹ میں نے بھی نیٹ (Net) پر دیکھی ہے اور جستہ جستہ مقامات کا مطالعہ بھی کیا ہے۔ اس سمری (خلاصہ) کے 525 صفحات میں سے پہلے 6صفحات چیئرپرسن کے پیش لفظ پر مشتمل ہیں۔اگلے 19 صفحات ان جرائم کا خلاصہ ہیں جو CIA ، ان مشکوک قیدیوں پر ڈھاتی رہی۔ ان 25 صفحات کا لفظ لفظ میں نے پڑھا ہے اور باقی 500 صفحات کے ایسے ٹکڑے جو پاکستان سے متعلق تھے، ان کو بھی دیکھا ہے۔

جب سے یہ رپورٹ میڈیا پر جاری ہوئی ہے CIA کے اعلیٰ حکام( سابق اور موجودہ) اور اس سینیٹ کمیٹی کے اراکین کے مابین زبردست کشیدگی اور لفظی جنگ شروع ہو گئی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ساری دنیا میں امریکہ پر جو لعن طعن کی جا رہی ہے اور اس کی CIA کے بہیمانہ طرزِ تفتیش کی تفصیلات پر جو جو بحث و مباحثے ہو رہے ہیں، وہ امریکہ کے لئے حد درجہ باعث شرم ہیں۔

میں اس ضخیم رپورٹ کی چیئرپرسن میڈم فینس سٹین کے استقلالِ طبع اور اس کے کاٹ دار استدلال کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یہ خاتون کیلی فورنیا سے ڈیمو کریٹ پارٹی کی ٹکٹ پر 1992ء سے لے کر اب تک مسلسل 22برس سے سینیٹر منتخب ہو رہی ہیں۔ امریکہ کی امیر ترین سینیٹر ہیں۔ عمر شریف 81برس ہے۔ لیکن دانش و بینش کے اعتبار سے اس ہندسے کے معکوس سن و سال (18برس) سے زیادہ نہیں لگتیں۔ مذہب کے اعتبار سے اگرچہ یہودی ہیں لیکن اس رپورٹ میں جن مسلمان عرب اسیروں کا انہوں نے دفاع کیا ہے اور جس طرح امریکی CIA کے عیسائی اور یہودی عہدیداروں کا تیا پانچہ کیا ہے، وہ ان کے مذہبی تعصب کا ہر گز آئنہ دار نہیں۔۔۔ جی چاہتا ہے ان کے پیشِ لفظ کے چند ٹکڑوں کا ترجمہ قارئین کے سامنے رکھوں۔ وہ لکھتی ہیں:

’’3اپریل 2014ء کو سینیٹ سیلیکٹ کمیٹی برائے انٹیلی جنس نے کثرتِ رائے سے فیصلہ کیا کہ اس سمری کو صدرِ امریکہ کے پاس بھیجا جائے تاکہ وہ اس کو ’’انتہائی خفیہ‘‘ کے صیغے سے نکال کر ڈی کلاسی فائی کریں اور پبلک کو ریلیز کرنے کی اجازت بھی دیں‘‘۔

’’اس پوری رپورٹ کے کل صفحات 6700 ہیں اور وہ ابھی تک ’’خفیہ‘‘ ہیں۔یہ رپورٹ ہم نے وائٹ ہاؤس،CIA ، محکمہ ء قانون وانصاف، محکمہ ء دفاع، محکمہ خارجہ اور نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر کو بھی بھجوائی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس سے آنے والے دور میں اس قسم کی ظالمانہ پوچھ گچھ کی پریکٹس رک سکے گی۔ اس کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ CIAکے دوسرے اس طرح کے خفیہ (Covert)پروگراموں کی بھی سُن گُن لی جائے‘‘۔

’’11ستمبر 2001ء کے اس دن کی یاد میرے حافظے میں محفوظ ہے کہ جب ٹیلی ویژن سکرین پر ورلڈ ٹریڈ سنٹر کی بالائی منزلوں سے مرد اور عورتیں آگ کے طوفان سے بچنے کے لئے نیچے چھلانگیں لگا رہے تھے۔ وہ تمام دلخراش مناظر اور فرش پر گرتے انسانوں کی چیخ و پکار مجھے زندگی بھر نہیں بھول سکتی‘‘۔

’’آج 13سال بعد یہ رپورٹ اسی تناظر میں پیش کی جا رہی ہے۔ اس رپورٹ میں CIAکے اس کردار کی مذمت کی گئی ہے جو اس نے قیدیوں کی پوچھ گچھ کے نام پر روا رکھا۔ پوچھ گچھ کا یہ پروگرام اگرچہ نو گیارہ کے پس منظر میں شروع کیا گیا تھا لیکن نو گیارہ کے واقعہ کو ایک بہانے کے طور پر اپنایا نہیں جا سکتا۔ علاوہ ازیں یہ رپورٹ مستقبل کے لئے ایک وارننگ کے طورپر بھی جاری کی جا رہی ہے۔ میں نے یہ رپورٹ مرتب کرتے ہوئے یہ کوشش کی ہے کہ 11 ستمبر 2001ء کو فراموش نہ کروں۔ تاہم اس قسم کے سانحات کسی فرد یا تنظیم کو یہ اجازت نہیں دیتے کہ وہ اس نوع کے گھناؤنے اقدام کو جائز سمجھے۔ اس قسم کا اقدام نو گیارہ جیسے مزید سانحات کو جنم دے سکتا ہے۔ اس رپورٹ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ عوام یا حکام کی طرف سے دباؤ خواہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو، انٹیلی جنس برادری کے تمام اعمال و افعال قوم و ملک کے قوانین اور اس کے معیاروں کے تابع ہونے چاہئیں۔اس قسم کے قومی بحرانوں کے دوران قوم کو کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے، اس کا فیصلہ اس طرح کے تاریخی اسباق کو سامنے رکھ کر ہی کیا جانا چاہیے۔‘‘

فین سٹین کے اس پیش لفظ کے بعد جس کے چند اقتباسات اوپر درج کئے گئے، اگلے 19صفحات، رپورٹ کے ’’نتائج اور دریافتیں‘‘ (Findings and Conclusions) والے حصے پر مشتمل ہیں۔ یہ دریافتیں اور یہ نتائج گویا اس رپورٹ کا نچوڑ ہیں۔ ان کی تفصیلات آگے چل کر بھی درج کی گئی ہیں لیکن میں مختصراً ان کا خلاصہ قارئین کے سامنے رکھوں گا تاکہ معلوم ہو کہ امریکی CIA ’’سچ اگلوانے‘‘ کے بہانے کیسی کیسی زیادتیاں اور مظالم بے بس انسانوں پر روا رکھتی ہے۔ رپورٹ کے نتائج اور دریافتوں کا خلاصہ یہ ہے:

1۔ سی آئی اے کے یہ تمام حربے قیدیوں سے کوئی موثر اور قابل ذکر انٹیلی جنس حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

2۔ CIA جھوٹ بولتی رہی کہ اس کی ان ’’زیادتیوں‘‘ ہی کے باعث اسے کوئی موثر انٹیلی جنس ہاتھ لگی ہے۔

3۔ CIAکی پوچھ گچھ اور تفتیش کے یہ طریقے اس رپورٹ سے کہیں زیادہ سفاک اور دلدوز نوعیت کے تھے جو یہ (CIA) اپنے اعلیٰ حکام اور پالیسی سازوں کو بتاتی رہی۔

4۔ CIA اپنے پالیسی سازوں کو ان قیدیوں کی حالتِ زار کی جو تفصیل بتاتی رہی، اصل میں ان کی حالت اس سے کہیں زیادہ دل دہلا دینے والی تھی۔

5۔ CIA نے ہمیشہ وزارت عدل و انصاف کو غلط معلومات فراہم کیں۔

6۔ کانگریس نے اس نظامِ تفتیش پر نگرانی رکھنے کی جو کوششیں کیں، CIA نے ہمیشہ اس کو درخورِ اعتنا نہ جانا اور اس میں مسلسل رکاوٹیں ڈالیں۔

7۔CIAنے وائٹ ہاؤس کو فیصلہ سازی کے عمل میں اور نیز نگرانی کے سلسلے میں بھی اندھیرے میں رکھا۔

8۔CIA کے اس پروگرام نے نیشنل سیکیورٹی کے عمل میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔

9۔اس پروگرام کے سلسلے میں میڈیا پر جو کچھ آتا رہا، CIAنے اس کو بھی متاثر کیا اورنا درست اور غلط معلومات میڈیا کو فراہم کیں۔

10۔CIAکا یہ پروگرام شروع دن ہی سے غلط من مانیوں کا شکار رہا۔

11۔اس پروگرام کے لئے CIA نے جو دو ٹھیکے دار منتخب اور مقرر کئے، ان کا رول اس سارے تفتیشی عمل میں گھناؤنی حیثیت کا حامل رہا۔

12۔قیدیوں کو جو ایذائیں دی گئیں وہ نہ تو محکمہ قانون و انصاف کی طرف سے منظور کردہ تھیں اور نہ CIAکے اپنے اعلیٰ حکام کی طرف سے۔

13۔قیدیوں کی صحیح تعداد کے بارے میں کوئی ریکارڈ نہیں رکھا گیا۔

14۔CIAنے خود اپنے اعلیٰ حکام کی طرف سے جاری کردہ احکامات کی بھی پرواہ نہ کی۔

15۔ CIAکے اس پروگرام نے ساری دنیا میں امریکہ کو رسوا کیا۔ اس پروگرام پر غلط سلط مالی اخراجات ظاہر کرکے بدترین بدعنوانی کا ارتکاب کیا گیا۔

قارئین کو یہ پس منظر بتانا اس لئے ضروری تھا کہ اگلی قسط میں جب اس کی ایسی تفصیلات پیش کی جائیں جو نو گیارہ کے بعد سے لے کر اب تک پاکستانی معاشرے کو دہشت گردانہ ماحول میں دھکیلنے کا باعث بنیں، تو ان کی مناسب تفہیم ہو سکے۔ (جاری ہے)

مزید :

کالم -