انتخابات کی کوئی اخلاقی، قانونی یا آئینی حیثیت نہیں،بھارت مقبوضہ کشمیرمیں ریفرنڈم کرائے،یاسین ملک

انتخابات کی کوئی اخلاقی، قانونی یا آئینی حیثیت نہیں،بھارت مقبوضہ کشمیرمیں ...

  

سرینگر (اے پی پی) مقبوضہ کشمیرمیں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے غیرقانونی طورپر نظربندچیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ مقبوضہ علاقے میں لاکھوں بھارتی فوجیوں اورپولیس اہلکاروں کی موجودگی میں جمہوریت کے نام پر منعقد کرائے جانے والے ڈھونگ انتخابات ایک لاحاصل مشق کے سوا کچھ نہیں اور انکی کوئی اخلاقی، قانونی یا آئینی حیثیت نہیں ہے ۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق محمد یاسین ملک نے جیل سے جاری ایک بیان میں کہا کہ دھونگ و دباؤ اور لالچ کے باوجود نام نہاد انتخابات سے دور رہنے والے عوام تعریف اور شکریہ کے مستحق ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاستی ہیرا پھیری، خوف وہراس ،پولیس کی مداخلت ، گرفتاریاں، پابندیوں،لالچ کے ذریعے منعقد کرائے جانے والے انتخابات کو کسی بھی طرح جمہوری قرارنہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا ایک ایسا عمل جس میں بھارتی حکمران اور ان کی کٹھ پتلیاں ہی حصہ لے رہی ہوں جبکہ انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والے آزادی پسند رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار اورنظربند کر دیا گیا ہو ،ایک یکطرفہ ڈھونگ ہی قرارپائے گی جس کا کوئی اخلاقی، قانونی یا آئینی جواز نہیں ہو گا ۔انہوں نے مزید کہاکہ اگر بھارتی حکمران سمجھتے ہیں کہ جموں وکشمیر کے لوگوں کی اکثریت ان کے ساتھ ہے تو بھارت کو فوری طورپر مقبوضہ علاقے میں ریفرنڈم منعقد کرا کے کشمیریوں کو اپنے مستقبل کافیصلہ خود کرنے کا حق دینا چاہیے ۔یاسین ملک نے کہاکہ دراصل حقیقت یہ ہے کہ ان انتخابات سے جموں و کشمیر کے سیاسی مستقبل پر کوئی اثر نہیں پڑگے گا اور اقوام متحدہ کی قراردادوں میں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بھارت نے ہمیشہ مسئلہ کشمیر بارے عالمی رائے عامہ کو دھوکہ دینے کیلئے مقبوضہ علاقے میں ڈھونگ انتخابات کرانے کی کوشش کی ہے۔ لبریشن فرنٹ کے چیئرمین نے معروف کشمیری حریت پسند اور رہنما صوفی محمد اکبر کو انکی شہادت کی برسی کے موقع پر زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔دریں اثناء پارٹی کے وائس چیئرمین بشیر احمد بٹ نے بھی جیل سے جاری ہونے والے ایک بیان میں صوفی محمد اکبر کو خراج عقیدت پیش کیا ہے ۔

مزید :

عالمی منظر -