قیمتی زرمبادلہ بھیجنے والے تارکین وطن کے مسائل بھی حل کیے جائیں

قیمتی زرمبادلہ بھیجنے والے تارکین وطن کے مسائل بھی حل کیے جائیں
قیمتی زرمبادلہ بھیجنے والے تارکین وطن کے مسائل بھی حل کیے جائیں

  

 دیار غیر میں بسنے والے پاکستانیوں نے کروڑوں روپے کا زرمبادلہ اپنے وطن بھیج کر ہمیشہ سے اپنے وطن کی ڈوبتی ہوئی معیشت کوسنبھالادینے میں مرکزی کردار ادا کیا لیکن کسی نے بھی ان لوگوں کے مسائل بارے توجہ نہیں دی بلکہ زیادہ سے زیادہ کما کر وطن بھیجنے کی تاکید کی گئی۔ آخر یہ بے بس ناچار اور مجبور لیڈر ان لوگوں کے بارے میں آنکھیں کیوں بند کئے ہوئے ہیں ۔جنوبی افریقہ میں بھی لاچار اور بے بس پاکستانیوں کی 80فیصد آبادی مسائل میں گھری ہوئی ہے ۔لگتا ہے کہ جنوبی افریقہ کی طرح پوری دنیا میں بسنے والے پاکستانی گھمبیر مسائل میں الجھے ہوئے ہیں اگر حکومت ان لوگوں کے مسائل حل نہیں کر سکتی تو کم از کم جھوٹی تسلیاں ہی دے دے۔ دن رات محنت کرنے والے ماں، باپ، بیوی بچوں اور اپنے عزیز و اقارب سے دور رہ کر محنت سے روزی کمانے والے اپنے حکمرانوں کو التجائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہے ہیں کہ کوئی تو ہو جو ہماری طرف بھی دیکھے لیکن ان کے خواب شاید کبھی نہ پورے ہونے والے ہیں۔ دیار غیر میں دوسرے ملکوں کے لوگ بھی بستے ہیں لیکن ان کے حکمرانوں نے تو ہمارے حکمرانوں جیسی آنکھیں بند نہیں کیں۔ ان لوگوں کے ہر جائز مسائل حل کئے جاتے ہیں۔ وہ لوگ خوش ہیں کہ کم از کم ان لوگوں کی کوئی تو ہے جو آواز سنتا ہے لیکن ہمارے تو حالات ہی الٹ ہیں ہم لوگ تو صرف ہائی کمیشن تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں اور وہ بھی جنوبی افریقہ میں بسنے والے پاکستانیوں کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔ آج کل پورے جنوبی افریقہ کے ہوم افیئرز VSFکے انڈر ہو چکے ہیں۔ جنہوں نے سارا سسٹم بدل کر رکھ دیا ہے۔ پاکستانی ذلیل و خوار ہو رہے ہیں چکر پر چکر لگانے کے باوجود اسالم پیپر بھی نہیں بن رہے ۔پہلے سے ہونے والے کام بھی بند ہو چکے ہیں۔آخر یہاں پر بسنے والے پاکستانی کس کے پاس فریاد لے کر جائیں ؟کسی کو اپنا دکھ سنائیں کہ یہاں پر ان کے ساتھ کیا کیا ہو رہا ہے۔ مستقبل میں VSFکی طرف سے ان لوگوں کو بہت زیادہ مصیبتیں ملنے والی ہیں اور اگر اس کا حل ابھی سے نہ نکالا گیا تو کروڑوں ڈالر کمانے والے اپنی بورڈنگ دینے سے تنگ ہو جائیں گے اور ہر فلائیٹ پاکستانیوں سے بھری ہوئی پاکستان جائے گی ۔میاں نواز شریف کی حکومت کو اس بارے سنجیدگی سے سوچنا ہو گا تاکہ ان لوگو ں کو بے روزگار ہونے سے بچایا جا سکے لیکن لگتا ہے کہ حکومت ان لوگوں کے مسائل بارے سنجیدہ نہیں ہے ان سے آج تک ایف آئی اے کی طرف سے ان لوگوں کو تنگ کیا جانا تو بند نہیں ہوا جنوبی افریقن حکومت سے یہ کیا بات کریں گے۔

مزید :

عالمی منظر -