این اے 122 کے انتخابی ریکارڈ کی جانچ پڑتال کیخلاف ایاز صادق کی توہین عدالت کی درخواستیں خارج

این اے 122 کے انتخابی ریکارڈ کی جانچ پڑتال کیخلاف ایاز صادق کی توہین عدالت کی ...

  

                        لاہور(نامہ نگار خصوصی )سپریم کورٹ اور الیکشن ٹریبونل نے اپنے فیصلے میں کہیں نہیں لکھا کہ سپیکر قومی اسمبلی کا الیکشن ٹربیونل میں شہادتیں ریکارڈ کرانے کا حق ختم ہو گیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی این اے 122کے انتخابی ریکارڈ کی جانچ پڑتال سے متعلق الیکشن ٹربیونل کے حکم اور جسٹس (ر) کاظم علی ملک کے خلاف توہین عدالت کی ہر دو درخواستیں خارج کر دیں۔مسٹرجسٹس اعجاز الاحسن نے سپیکر قومی اسمبلی ایازصادق کی طرف سے الیکشن ٹریبونل جسٹس (ر) کاظم علی ملک کے خلاف توہین عدالت اور حلقہ این اے 122کے انتخابی ریکارڈ کی جانچ پڑتال سے متعلق ان کے حکم کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل خواجہ سعید الظفر نے موقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ حکم جاری کرچکی ہے کہ الیکشن ٹربیونلز پہلے انتخابی عذرداریوں پر اعتراضات کا فیصلہ کریں لیکن الیکشن ٹربیونل نے ایاز صادق کی شہادتیں ریکارڈ کیں اور نہ ہی این اے 122کی انتخابی عذر داری پر اعتراضات کی سماعت کی ، انہوں نے عدالت کوبتایا کہ خدشہ ہے کہ انکوائری کمیشن درخواست گزار ایاز صادق کے خلاف فیصلہ دے دے گا اور الیکشن کمیشن نے انتخابی عذر داری پر اعتراضات کی سماعت کے بغیر ہی دوبارہ ووٹوں کی گنتی کرنے کا حکم دیدیا ہے جس پر فاضل جج نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کیوں فرض کر رہے ہیں کہ انکوائری کمیشن درخواست گزار کے خلاف فیصلہ دے گا جبکہ سپریم کورٹ اور الیکشن ٹربیونل کے فیصلے میں کہیں نہیںلکھا گیا کہ سپیکر قومی اسمبلی انتخابی عذرداری میں شہادتیں ریکارڈ کرانے کا حق نہیں رکھتے، عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزار کو انتخابی عذرداری میں انکوائری کمیشن کے روبرو شہادتیں ریکارڈ کروانی چاہئیں، عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد سپیکر قومی اسمبلی کی دونوں درخواستیں مسترد کر دیں۔ الیکشن ٹربیونل نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122کی انتخابی عذر داری پر عائد اعتراضات کی سماعت کے بغیر ہی اس حلقہ سے انتخابی ریکارڈ کی جانچ پڑتال کا حکم دے دیا اور سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے لہٰذا الیکشن ٹربیونل کاظم ملک کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے۔ الیکشن ٹربیونل کاظم ملک نے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 122میں عمران خان کی انتخابی عذر داری پر انتخابی ریکارڈ کی جانچ پڑتال اورتصدیق کا حکم دے رکھا ہے ۔جسے ایاز صادق نے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا ۔

 درخواستیں خارج

مزید :

صفحہ آخر -