تعلیم و تحقیق میں ملک نے کافی ترقی کی مگر آج تک ہم اپنی ترجیحات طے نہیں کر سکے ،تصدق جیلانی

تعلیم و تحقیق میں ملک نے کافی ترقی کی مگر آج تک ہم اپنی ترجیحات طے نہیں کر سکے ...

  

                 لاہور (جنرل رپورٹر) سابق چیف جسٹس پاکستان تصدق حسین جیلانی نے کہا ہے کہ گزشتہ 10سال کے دوران تعلیم و تحقیق کے حوالے سے ملک نے کافی ترقی کی ہے تاہم ابھی تک اس حوالے سے ہم اپنی ترجیحات طے نہیں کرسکے ہیں۔ منگل کے روزیونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز میں بائیو میڈیکل میٹریلز پر چوتھے بین الاقوامی سمپوزیم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مسلمانوں نے ماضی میں تعلیم و تحقیق کے شعبے میں شاندار کارنامے سرانجام دیے تاہم آج صورتحال یہ ہے کہ 57مسلم ممالک میں سے کوئی بھی یونیورسٹی دنیا کی 100بہترین یونیورسٹیوں میں شامل نہیں ہے ۔ انھوں نے کہا کہ بائیو میڈیکل میٹریلز پاکستان میں نیا اور ابھرتا ہوا شعبہ ہے جس پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔برطانیہ کی شیفلیڈ یونیورسٹی کے پروفیسر جان ہیکوک نے کہا کہ بائیو میٹریلزجوڑوں کی تبدیلی، بون پلیٹ، بون سیمنٹ، مصنوعی ریشوں، مصنوعی دانتوں اور دل کے والو، دل کی نالیوں میں ڈالنے سے سٹنٹ وغیرہ میں استعمال ہورہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت بائیو میٹریلز کی مارکیٹ کا حجم44ارب ڈالر سے زائد ہے جو کہ 2017ءتک بڑھ کر 88.4ارب ڈالر ہوجائے گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ 2050ءتک دنیا کی 20فیصد آبادی 60سال سے زئد کی ہوجائے گی جس کو صحت مند اور فعال رکھنے کیلئے ایسی نئی ٹیکنالوجی کی ضرورت ہو گی۔دو روزہ سمپوزیم کا انعقادانٹر ڈسپلنری ریسرچ سنٹر ان بائیو میڈیکل میٹریلز(آئی آر سی بی ایم) لاہور، کامسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی ، ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہور کے اشتراک سے کیا جارہا ہے۔ سمپوزیم میں 150سے زائدملکی اور غیر ملکی ماہرین شرکت کررہے ہیں۔ اپنے خطاب میں وائس چانسلر یو ایچ ایس میجر جنرل ریٹائرڈ پروفیسر محمد اسلم نے کہا کہ بائیو میڈیکل میٹریلز میں نئی ریسرچ کو عام لوگوں کے فائدے کیلئے استعمال کیا جائے اور اس کیلئے ریسرچ کی مارکیٹنگ اور کمر شلائزیشن ضروری ہے۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئی آر سی بی ایم پروفیسر احتشام الرحمن نے اپنے ادارے کی مختصر تاریخ بیان کرتے ہوئے یونیورسٹیوں اور انڈسٹری کے مابین اشتراک عمل بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا ۔ سمپوزیم سے ڈائریکٹر کامسیٹس انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی لاہور پروفیسر محمود اے بودلہ اور چیئرمین ڈیپارٹمنٹ آف آرتھوپیڈک سرجری اینڈ ٹراماٹولوجی کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی پروفیسر سید محمد اویس نے بھی خطاب کیا۔ سمپوزیم میں 35پوسٹر اور 40اورل پریزینٹیشنز کے علاوہ ایک انڈسٹریل سیشن بھی ہوگا جس میں مقامی صنعت کار اورایوان تجارت لاہور کے نمائندے بھی شرکت کریں گے۔

مزید :

صفحہ آخر -