سی اینڈ ڈبلیو کے چیف انجنئیرز سمیت دیگر سے تحریری وضاحت طلب

سی اینڈ ڈبلیو کے چیف انجنئیرز سمیت دیگر سے تحریری وضاحت طلب

  

                   لاہور(شہبا زاکمل جندران،انوسٹی گیشن سیل) صوبائی حکومت نے سرکاری منصوبوں کی غیر معیاری تعمیر اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے میں مبینہ ملوث انجنئیروں کو تحفظ دینے کی کوشش کرنے پر سی اینڈڈبلیو کے تمام چیف انجنئیروں سمیت دیگر سے تحریری وضاحت طلب کرلی ہے۔ اعلیٰ عہدوں پر براجمان ان انجنئیروں کو کرپشن ، بدعنوانی اور اختیارات سے تجاوز جیسے الزامات میں ملوث ایس ڈی او ز ، ایکسئینز ،سپرنٹنڈ نٹ انجنئیروغیر ہ کے خلاف انکوائری افسر مقرر کرتے ہوئے ان سے 60دنوں میں رپورٹ طلب کی گئی لیکن مقررہ وقت گزرنے کے بعد بھی انہوں نے رپورٹس تیار نہ کرکے زیر الزام ماتحت ملازمین کوبچانے کی کوشش کی ۔ معلوم ہواہے کہ محکمہ مواصلات و تعمیرا ت میں ان دنوں کرپشن اپنے عروج پر ہے۔ذرائع کے مطابق محکمے کے سینکڑوں سب انجنئیروں ، ایس ڈی اوز ، ایکسیئنز ، سپرنٹنڈنٹ انجنئیروں ، چیف انجنئیروں ، ڈرافٹس مینوں اور دیگر کے خلاف سرکاری منصوبوں کی غیر معیاری اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے جیسے الزامات کے تحت انکوائریاں شروع کی گئیں۔ان انکوائریوں کے لیے محکمے کے تمام چیف انجنئیروں چیف انجنئیر ھائی ویز نارتھ پنجاب خالد پرویز ، چیف انجنئیر بلڈنگز نارتھ صفدر علی، چیف انجنئیر بلڈنگز ساﺅتھ تنویر انور ، چیف انجنئیر صابر خان سدوزئی ، چیف انجنئیر ڈسٹرکٹ سپورٹ اینڈ مانیٹرنگ یونس عزیز، سپرنٹنڈنٹ انجنئیر آصف اقبال ساہو ، سپرنٹنڈنٹ انجنئیر محمد طارق وغیرہ کو انکوائری افسر مقر ر کیا گیا اور انہیں انکوائری مکمل کرنے کے لیے 60یوم کا وقت دیا گیا۔لیکن ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مذکورہ انجنئیروں نے کرپشن ، بدعنوانی اور اختیارات سے تجاوز جیسے الزامات میں ملوث چہیتے ماتحتوں کے خلاف انکوائریا ں بروقت مکمل کرنے کی بجائے انہیں بچانے کی کوشش کرنے لگے ہیں۔ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ اکثر انکوائری افسر کرپشن کی ان انکوائریوں میں خود تحفے تحائف لیکر رپورٹس دبانے یا پھر سب اچھا کی رپورٹ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ مقررہ وقت گزرنے کے باوجود انکوائریاں مکمل نہ کرنے والے اعلیٰ عہدوں پر براجمان متذکرہ بالا انجنئیر وں کو اب خود اپنے خلاف انکوائری کا خوف محسوس ہونے لگا ہے ۔اور صوبائی سیکرٹری مواصلات وتعمیرات میاں مشتاق احمد نے ایسے انجنئیروں سے تحریری وضاحت طلب کرلی ہے۔

سی اینڈڈبلیو

مزید :

صفحہ آخر -