وقت آ گیا ہے کہ ذاتی اختلافات بھلا کر دہشتگردوں کیخلاف ایک ہو جائیں ،سیاسی و مذہبی عسکری ماہرین

وقت آ گیا ہے کہ ذاتی اختلافات بھلا کر دہشتگردوں کیخلاف ایک ہو جائیں ،سیاسی و ...

  

                      لاہور (جاوید اقبال ،شہزاد ملک ) پاکستان کے مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے راہنماﺅں سول سوسائٹی عسکری اور خارجہ امور کے ماہرین نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے نام پر دشمن قوم کے معماروں کی معصوم جانوں سے کھیل کر پاکستان کے ”مستقبل “ کو نیست و نابود کرنے پر اتر آیا ہے اور ہم ہیں کہ ”کرسی“کےلئے آپس میں دست و گریبان ہیں وقت آ گیا ہے کہ تمام سیاست دان سیاسی جماعتیں اور عوام ذاتی اختلافات کو بھلا کر دہشت گردوں کے خلاف ایک ہو جائیں اور وہ دہشت گرد جو ہمارے بچوں کو مارنے پر اتر آئے ہیں ان پر ایسی کاری ضرب لگائی جائے کہ ان کا نام و نشان ہی مٹا دیا جائے سب کام چھوڑ کر حکومت اپوزیشن اور فوج ملک میں دہشت گردی کے ناسوروں کو جڑ سے اکھاڑ دیں اور ان کا خاتمہ ہی پہلی ترجیح ہو نی چاہئے طالبان سے طالبان کی ہی زبان میں نمٹا جائے کوئی چھوٹا طالبان کوئی بڑا طالبان کوئی ہمارا طالبان کوئی ان کا طالبان اس بنیاد پر ان کے خلاف آپریشن نہیںہونا چاہیے بلکہ سب طالبان کو پاکستان کا دشمن قرار دیکر ان کے خلاف مساوی کاروائی ہونی چاہئے ۔اس امر کا اظہار انہوں نے پشاور میں سکول کے معصوم بچوں پر دہشت گردوں کے حملے پر اپنے اپنے ردعمل کے اظہار میں کیا۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے چیرمین راجہ ظفر الحق نے کہا کہ پشاور میں سکول پر حملہ دہشت گردوں کا انتہائی بز دلانہ فعل ہے دہشت گرد ہمارا ” مستقبل“ غیر محفوظ اور تباہ کرنے پر اتر آئے ہیں مگر ہم ان کو تباہ کئے بغیر سکون سے نہیں بیٹھیں گے جب تک پاکستان میں ایک بھی دہشت گرد باقی ہے اس کا پیچھا کیا جائے گا جب تک پوری قوم ایک نہیں ہوتی تب تک ان کا خاتمہ نہیں کیا جا سکتا۔اس حوالے سے سابق آرمی چیف جنر ل (ر) ضیاءالدین بٹ نے کہا کہ پشاور کے سکول پر حملہ کرکے اور معصوم بچوں کو مار کر دہشت گردوں نے انتہائی غیر انسانی اور غیر خلاقی کے ساتھ ساتھ بزدلانہ حرکت کی ہے جس کا انہیں بھرپور جواب دیا جائے اس واقعہ میں اندرونی اور بیرونی دونوں ہاتھ ملوث ہو سکتے ہیں بعض قوتیں پاکستان کو غیر مستحکم کرناچاہتی ہیں جن پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان میں در اندازی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا اس پر بھی نظر رکھنا ہو گیا ور شمالی وزیرستان میں جاری ضرب عضب کو مزید تیز کرنا ہو گا ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ اور فرید پراچہ نے پشاور سکول میں دہشتگردی کے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی بزدلانہ ، انسانیت سوز اور سفاکانہ کاروائی قرار دیا ہے اور کہاہے کہ یہ پاکستانی قوم کے لیے بدترین سانحہ ہے معصوم بچوں کو نشانہ بنانے والے مسلمان تو کجا ان کا انسانیت سے بھی کوئی تعلق نہیں ہوسکتا دہشتگردی کے مرتکب عناصر کو یاد رکھناچاہیے کہ قیامت کے روز یہ معصوم بچے اللہ کے ہاں فریاد کریں گے کہ انہیں کس جرم میں قتل کیا گیا اور دہشتگرد ی کی یہ کاروائی اللہ کے غیظ و غضب کو بھڑکانے کا سبب بنے گی ۔،اس واقعہ مےں ملوث انسان کہلانے کے بھی حقدار نہےں ہےں وہ جنونی اور جنگلی درندے ہےں 100سے زائد معصوم انسانی جانوں کی شہادت نے درندوں اور دہشت گردوں کے اصلی چہرے بے نقاب کر دےے ہےں اےسے سفاک اور بے رحم درندوں کو کےفر کردار تک پہنچاےا جائے مرکزی جماعت اہلسنت سانحہ پشاور کی بھر پور مذمت کرتی ہے اور حکام بالا سے پرزور مطالبہ بھی کرتی ہے کہ ضرب ِ عضب آپرےشن کو اور تےز کےا جائے اور اِن وحشی درندوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دےا جائے اور اِن کو عبرتناک سزا دی جائے ےہ وحشی درندے اور سفاک بھےڑےے کسی رعاےت کے مستحق نہےں ہےں اور حکومتی صفوں مےں موجود کالعدم تنظےموں کے ساتھ نرم گوشہ رکھنے والوں کو بھی حکومتی عہدوں سے فارغ کر کےفی الفور جےل مےں ڈالا جائے اور اےسے سرکاری گماشتے جو مذہبی لبادہ ااوڑھے ہوئے ہےں ان کو بھی گرفتار کر کے جےل کی سلاخون کے پےچھے دھکےلا جائے انہوں نے مذےد کہا کہ اسلام نے ہمےشہ انسانےت سے پےار کا درس دےا ہے دہشت گرد نہ جانے کونسے اسلام کی تصوےر پےش کر رہے ہےں پاک فوج کے جوانوں کی طرف سے دہشت گردوں کی ہلاکت خوش آئند قدم ہے پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ ہے ۔جمعیت علماءاسلام(س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق مولانا عبدالرب نے کہاہے کہ اسلام اس سفاکانہ کارروائی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا اس سنگین سانحہ نے پوری قوم کے دلوں کو زخمی کرکے رکھ دیا ہے ہم آرمی پبلک اسکول کے شہید طلبہ کے والدین اور لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں اس واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے معصوم طلباءکا بے رحمانہ قتل لمحہ فکریہ ہے حکومت ملک میں دہشت گردی روکنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے۔مسلم لیگ(ن) کی رکن صوبائی اسمبلی راحیلہ خادم حسین نے کہا ہے کہ پشاور میں سکول کے معصوم بچوں کو نشانہ بنا کر بزدلی کا پیغام دیا ہے مسلم لیگ(ن) اس واقع کی شدید مذمت کرتی ہے اور پی ٹی آئی کو ہر ممکنہ تعاون کی یقین دہانی کراتی ہے آج پوری قوم اختلافات بھلا کر قوم کے غم میں برابر کی شریک ہے ۔ پالیمانی سیکر ٹری رنا محمد ارشد نے کہا کہ بے گناہ معصوم بچوں کو دہشتگردی کا نشانہ بنا کر انسانیت کی خدمت نہیں کی گئی ہے۔ جماعت اہلحدیث پنجاب کے حافظ عبدالوحید شاہد روپڑی،مرکزی جماعت اہلسنت کے پیر عرفان مشہدی،قاضی عبدالغفار قادری نے کہا کہ دہشتگردوں نے بزدلی کا ثبوت دیا ہے ،آپریشن ”ضرب عضب “ آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رہے گا پاکستانی عوام اور بہادر فوج کی جانب سے ان سفاک دہشت گردوں کے خلاف فوری کارروائی کرتے ہوئے دشمن کو پیغام دیں کہ ہم متحد ہیں اور ملک و قوم پر آنے والی کسی بھی مصیبت میں رنگ و نسل، علاقہ، مذہب، پارٹی سے بالاتر ہوکر ایک قوم ہیں۔ کامل علی آغا نے سانحہ¿ پشاور پر انتہائی دکھ اور سخت غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بے گناہ بچوں کو موت کے گھاٹ اتارنے والے جہنمی ہیں بچوں کو قتل کرنا کون سا جہاد اور شریعت ہے بے گناہ بچوں کا خون بہانے والے انسان نہیں حیوان ہیں دہشت گرد کمزور ہو کر اب بچوں پر حملے کر رہے ہیں۔ جہانگیر ترین نے کہا کہ پشاور کا افسوسناک واقعہ ایک قومی سانحہ ہے سانحہ¿ پشاور دہشت گردی کی بزدلانہ اور بدترین کارروائی ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔ سنی اتحاد کونسل پاکستان کے چیئرمین صاحبزادہ حامد رضا نے سانحہ¿ پشاور کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس قومی سانحہ پر تمام سیاسی سرگرمیاں معطل کر کے تین روزہ سوگ اور جمعہ 19 دسمبر کو ”یومِ مذمت دہشت گردی“ منانے کا اعلان کیا ہے،بے گناہ بچوں کو ہلاک کرنے والے بزدل، بے رحم اور سفاک قاتل ہیں۔ سانحہ¿ پشاور پاکستان کا نائن الیون ہے۔ وزیراعظم فی الفور دہشت گردی کے ایشو پر آل پارٹیز کانفرنس طلب کریں۔ اعجاز الحق نے کہا کہ سانحہ¿ پشاور نے پوری قوم کو اشک بار اور غمزدہ کردیا ہے دہشت گردوں نے بے گناہ طالب علموں پر حملہ کر کے علم دشمنی اور درندگی کا ثبوت دیا ہے ۔فاروق ستار نے پشاور سانحہ کے واقعہ پر کہا کہ ہر پاکستانی کی آنکھ اشک بار ہے ایم کیو ایم کو اور قائد تحریک الطاف حسین کو اس واقعہ پر دلی دکھ اور افسوس ہوا ہے ۔پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور احمد وٹو نے کہا کہ پشاور دہشت گردی واقعہ قومی سانحہ ہے یہ معصوم بچوں پر نہیں بلکہ پاکستان کے مستقبل پر حملہ ہے معصوم بچوں اور فرض شناس اساتذہ کا کوئی قصور نہیں تھا انہیں بے گناہ دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا پوری دنیا اس بزدلانہ کارروائی کی مذمت کرتی ۔

مزید :

صفحہ اول -