سردی بڑھتے ہی گیس کی طلب میں اضافہ ‘طویل گیس لوڈشیڈنگ کیخلاف صارفین سراپا احتجاج

سردی بڑھتے ہی گیس کی طلب میں اضافہ ‘طویل گیس لوڈشیڈنگ کیخلاف صارفین سراپا ...

  

 لاہور ( خبرنگار) سردی کی شدت بڑھتے ہی گیس کی طلب میں اضافہ ہونے سے گیس کا شارٹ فال بڑھنے لگا ، سی این جی انڈسٹریز کی بندش کے باوجود گھریلو سطح پر گیس کی بندش پر گھریلو صارفین سراپا احتجاج بن گئے حکام کے خلاف نعرے بازی اور دفاتر کے باہر احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ،سوئی گیس حکام کی جانب سے صوبائی درالحکومت کے کم گیس پریشر والے علاقوں میں پریشر کو بہتر نہ بنایا جا سکا ، تفصیلات کے مطابق ملک بھر کی طرح صوبائی دارلحکومت میں بھی گیس کی بندش کا سلسلہ جاری ہے اور گیس حکام کی جانب سے گھریلو صارفین کو گیس سپلائی بحال رکھنے کے دعوے بھی دم توڑنے لگے ہیں اور سوئی ناردرن گیس کی جانب سے متعین کی گئی سپیشل ٹیمیں بھی کم پریشر والے علاقوں میں گیس پریشر کو بہتر نہ بنا سکیں گیس کی عدم فراہمی اور پریشر نہ ہونے پر گھریلو صارفین بھی سوئی گیس حکام کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے گزشتہ روز بھگت پورہ شاد باغ کی رہائشی درجنوں خواتین نے گرو مانگٹ روڈ پر واقعہ سوئی گیس آفس کے باہر شدید احتجاج کیا اور مین روڈ کو ٹریفک کے لیے مکمل طور پر بند کرتے ہوئے حکام کے خلاف نعرے بازی کی ، احتجاجی مظاہرے کے باعث گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں جبکہ دوسری جانب سوئی گیس دفتر کے سیکورٹی اہلکاروں نے دونوں گیٹس بند کر دیے تاکہ مظاہرین دفتر کے اندر داخل نہ ہو سکیں ، دو گھنٹے سے زائد احتجاجی مظاہرہ ہونے کے باوجود سوئی گیس کے افسران نے مظاہرین خواتین کی بات سننا گوارہ نہیں کی اور افسران اپنے کمروں میں آرام کرتے رہے ، جبکہ دفتر کے باہر مظاہرہ کرنے والی خواتین کا کہنا تھا کہ گزشتہ چار ماہ سے ان کے علاقوں میں گیس کی بندش ہونے کے باجود ہر ماہ بل بجھوائے جارہے ہیں اور سوئی گیس دفاتر میں شکایات درج کروانے کے باوجود کوئی شنوائی نہیں ہو سکی ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -