پشاور! سکول میں دہشت گردی، پوری قوم سوگوار!

پشاور! سکول میں دہشت گردی، پوری قوم سوگوار!
پشاور! سکول میں دہشت گردی، پوری قوم سوگوار!

  

تجزیہ چودھری خادم حسین

ورسک روڈ پشاور میں دہشت گردی کی بہیمانہ اور خوفناک واردات نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا اور ایک مرتبہ پھر ان دہشت گردوں کی دین داری واضح ہو گئی جنہوں نے معصوم طلباء کو نشانہ بنایا تادم تحریر 132طلباء کے شہید ہو جانے کی اطلاع ہے، اس میں اضافہ بھی ممکن ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف کوئٹہ میں تھے وہ پشاور پہنچ گئے اور وزیراعظم محمد نوازشریف بھی سب کام چھوڑ کر خیبرپختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پہنچ گئے ہیں۔ سیاسی اور عسکری قیادت نے معلومات حاصل کیں اور ایک مربتہ پھر دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا عزم دہرایا ۔ زخمیوں کی خصوصی دیکھ بھال ہو رہی ہے اور باقی طلباء کے تحفظ کا بھی انتظام ہو رہا ہے۔ جنرل راحیل شریف بھی نگرانی کررہے ہیں۔

دہشت گردوں کے اس حملے کی پورے ملک میں بھرپور مذمت کی گئی ہے اور کی جا رہی ہے۔ یہ خبر بھی ہے کہ تحریک انصاف نے اس سانحہ کے بعد 18دسمبر والا احتجاج ملتوی کر دیا اور اعلان کیا ہے کہ نئی تاریخ کا بعد میں بتایا جائے گا کہ انصاف حاصل کئے بغیر احتجاج ختم نہیں کیا جا سکتا، دہشت گردی کی یہ واردات دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کی غماز ہے کہ وہ پاک فوج کے ہاتھوں اپنے محفوظ ٹھکانوں سے محروم ہوئے ان کو وزیرستان اور خیبرایجنسی میں ہزیمت کا سامنا ہے۔ دہشت گردوں کی ایسی وارداتوں کے بارے میں اطلاعات مہیا کی جا رہی تھیں اور خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی خبر مہیا کی گئی تھی، اب یہ دیکھنا ہوگا کہ غفلت کہاں ہوئی، بہرحال یہ تشویشناک واردات ہے اس کے محرکات اور کمزوری تلاش کرنا بھی ضروری ہے۔ ایک مرتبہ پھر اگر تحریک انصاف نے 18دسمبر کا احتجاج اس سانحہ کی وجہ سے ملتوی کیا ہے تو یہ بھی شاید پہلی مرتبہ ہے کہ بڑے سانحہ اور وہ بھی خیبرپختونخوا میں ہوئی وجہ سے ایسا کیا ورنہ تحریک انصاف کی طرف سے تو مذمت بھی نہیں ہوتی تھی، حتیٰ کہ عمران خان نے وزیرستان آپریشن کی مخالفت یہ کہہ کرکر دی کہ میں ہوتا تو قبائلیوں ہی کو استعمال کرتا، بہرحال اب ان کا تاثر بہتر ہے اس پر کچھ نہ کہا جائے تو ٹھیک ہے۔ دوسری طرف صحافیوں نے بھی اس حادثہ کی وجہ سے آج (منگل) ہونے والا احتجاج ملتوی کر دیا ہے تاہم پوری صحافتی برادری کسی اختلاف کے بغیر تحریک انصاف کے کارکنوں کی حرکات کی مذمت کرتی ہے اور اس سے تحریک انصاف کا بھلا نہیں ہوا، صحافی تو یوں بھی فطرتاً حکومت مخالف ہوتے ہیں یہ عمران خان کی طرف سے مذمت نہ ہونے پر بھی برہم ہیں، وزیراعظم نے تین روزہ قومی سوگ کا بھی اعلان کیا اور پوری قوم سے دہشت گردی کے خلاف متحد ہو کر جدوجہد کی اپیل کی، ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ آخری مراحل میں ہے اور کامیابی ملے گی۔

ان تازہ ترین حالات کی روشنی میں قوم یہ چاہے گی کہ عسکری اور سیاسی قیادت کی توجہ نہ بٹے، بہت کچھ کہا جاسکتا ہے اب موقعہ نہیں، اب تو مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف سے اپیل ہی کی جا سکتی ہے کہ مذاکرات کو کامیاب بناؤ، انا کو ترک کر دو اور ملک و قوم کی بہتری کا دعویٰ کرتے ہو تو عمل بھی کرکے دکھاؤ اور وہ ملک کے اندر استحکام اور امن سے ممکن ہے، اس سلسلے میں سکرپٹ رائٹر اور مہمان اداکار کا محاسبہ لازمی ہے اور چھپ کر بیٹھے ’’بھوت‘‘ سے بھی نجات ضروریہے، اب بھی اگر ان سے جان نہ چھڑائی گئی تو پھر پوری قوم کو ان کے عزائم اور چہروں سے آگاہ کیا جائے کہ قوم خود بھی مقابلہ کرے۔

ایک اہم افسر انچارج نے بتایا کہ لاہور میں تحریک انصاف کے سارے سلسلے کو ناکام بنانا مشکل نہیں تھا، کچھ سرگرم حضرات کو گھروں سے حراست میں لیا جا سکتا تھا اور صبح کے پہلے وقت جب ناکوں پر درجن دو درجن کارکن اور رہنما آئے تھے، اسی وقت ان کو گرفتار کرلیا جاتا تو بعد میں آنے والے آسانی سے قابو آتے رہتے جوابی طور پر پتھر بازی یا غلیل بازی ہوتی تو اس کا جواب بھی اسی شدت سے دیا جاتا۔ شام تک سب ٹھیک ہو جاتا، لیکن صوبائی حکومت کی ہدائت زیادہ واضح اور بہتر تھی کہ کوئی ایکشن نہیں اور اس پر عمل کیا گیا۔

مزید :

تجزیہ -