ایل پی جی 140 سے145روپے میں فروخت ہونے لگی

ایل پی جی 140 سے145روپے میں فروخت ہونے لگی

  

لاہور(خبر نگار) ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں اور لوکل پرڈیوسرز مافیا کی بلیک مارکیٹنگ نے زور پکڑ لیا ہے اور ایل پی جی اپنے اصل نرخوں 110روپے سے 115روپے کی بجائے 140روپے سے145روپے میں فروخت ہونے لگی ہے، جس پر صارفین نے شدید احتجاج کیا ہے ایل پی جی کی قیمتوں میں مسلسل تین مرتبہ اضافہ کے باوجود اوگرا نے تاحال نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا ہے اور ایل پی جی کی مارکیٹنگ کمپنیوں نے اوگرا سے اجازت حاصل کئے قیمتوں میں 25روپے فی کلو اضافہ کر رکھا ہے جس پر صارفین مہنگے داموں اور بلیک میں ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہیں اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایل پی جی کی بلیک مارکیٹنگ اور بلاوجہ قیمتوں میں اضافہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے، اس حوالے سے اوگرا نے کارروائی کے لئے ایکشن پلان ترتیب دے دیا ہے اور صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور آئی جی پولیس کو الگ الگ خطوط ارسال کر دیئے ہیں، وزارت پٹرولیم کے ترجمان کے مطابق ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے اوگرا نے کوئی نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے، جس پر ایل پی جی کی بلیک مارکیٹنگ کا سخت نوٹس لے لیا گیا ہے اور ایل پی جی مافیا کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کیلئے ایکشن پلان ترتیب دے دیا گیا ہے ۔ جس کے بعد اگلے 24گھنٹوں کے اندر تمام صوبوں میں ایل پی جی مافیا کے خلاف کارروائی کا آغاز شروع کر دیا جائے گا جبکہ اس حوالے سے ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن ک مرکزی چیئرمین محمد عرفان کھوکھر نے کہا ہے کہ ایل پی جی کی اصل قیمت 90سے 95روپے ہونی چاہئے اوگرا نے ایل پی جی کی قیمت 110روپے مقرر کر رکھی ہے جبکہ مارکیٹنگ کمپنیوں نے قیمت 115روپے مقرر کر رکھی تھی اور اب تین دنوں میں 25روپے اضافہ کر کے ایل پی جی کی قیمت 140روپے مقرر کر دی گئی ہے جو کہ غریب صارفین کے ساتھ ایک ظلم ہے۔ ایل پی جی کی قیمتوں میں کم سے کم 40سے 50روپے کمی ہونی چاہئے تاکہ اس کا عام صارف کو فائدہ حاصل ہو سکے۔

مزید :

علاقائی -