سانحہ پشاور پر بین الاقومی میڈیا بھی رو پڑا

سانحہ پشاور پر بین الاقومی میڈیا بھی رو پڑا
سانحہ پشاور پر بین الاقومی میڈیا بھی رو پڑا

  

لندن، نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) سانحہ پشاور میں معصوم جانوں کو جس بے دردی اور حیوانیت کے ساتھ گولیوں سے چھلنی کیا گیا اس بربریت نے پاکستان کے ساتھ ساتھ ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ دنیا بھر کے میڈیا نے اس ظلم کی پرزور مذمت کی ہے اور خصوصاً ممتاز مغربی اخبارات نے پاکستان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے ساتھ ساتھ حکومت اور افواج پاکستان کے دہشتگردی کے خلاف عزم کو سراہا ہے۔

سانحہ پشاور ، حملوں کا ماسٹر مائنڈ افغانستان سے مانیٹر کر رہا تھا ،جاننے کے لئے کلک کریں

امریکی اخبار ”واشنگٹن پوسٹ“ اپنے اداریے میں لکھتا ہے کہ پشاور حملہ پاکستان کی تاریخ میں دہشت گردی کا خونی ترین واقعہ ہے۔ حملہ آوروں کا واحد مقصد زیادہ سے زیادہ بچوں کو مارنا تھا۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اس حملے کے ذریعے دہشت گرد پاکستانی حکومت اور افواج کی دہشت گردی کے خلاف ٹھوس پیش قدمی کو روکنا چاہتے تھے۔ اخبار نے اس بات کو بھی سراہا ہے کہ پاکستانی وزیر اعظم اور آرمی چیف نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر دہشت گردی کے خلاف ڈٹے رہنے کے عزم کا بھرپور اظہار کیا۔ اس بات کو بھی نہایت اہم قرار دیا گیا ہے کہ پاکستانی قوم نے واشگاف انداز میں اعلان کردیا ہے کہ وہ دہشت گردی کے ساتھ نہیں بلکہ امن کے ساتھ ہیں۔ اخبار نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ دہشت گردوں کے خلاف کاری ضرب لگانے کیلئے خطے کے ممالک کو مضبوط اتحاد کی ضرورت ہے۔

معتبر برطانوی اخبار ”دی گارڈین“ نے پشاور میں معصوم بچوں کے قتل عام کو دہشت گردی کی بھیانک ترین شکل قرار دیا ہے۔ اخبار نے بچوں پر حملے کو ظلم عظیم قرار دیتے ہوئے اس بات پر خصوصی زور دیا ہے کہ یہ بچے متحارب گروپوں کے درمیان لڑائی میں غیر ارادی طور پر نشانہ نہیں بنے بلکہ دہشت گردوں نے نشانہ لے کر ان پر گولی چلائی۔ اخبار کا کہنا ہے کہ طالبان فوجی تنصیبات، پولیس کی بیرکوں یا سیکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کرنے نہیں آئے تھے بلکہ سوچ سمجھ کر بچوں کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کرکے آئے تھے۔ انہوں نے نہ ہی کسی اور جگہ حملہ کیا اور نہ ہی کسی کو یرغمال بنایا، وہ پشاور میں محض بچوں کے خون سے ہولی کھیلنے آئے تھے۔ اخبار کہتا ہے کہ اگرچہ دہشت گردوں نے معصوم بچوں پر حملہ کرکے پاکستانی قوم اور خصوصاً فوج کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس بات کی کوئی امید نہیں کہ اس واقعے کا وہ اثر ہوگا جو دہشت گرد چاہتے تھے، بلکہ حقیقت میں اس کے برعکس ہوا ہے اور پاکستانی قوم میں دہشت گردوں کے خلاف غیر معمولی نفرت پھیل گئی ہے اور اب کوئی اس بات کی حمایت نہیں کررہا کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کئے جائیں۔

اسی طرح امریکی اخبار ”نیویارک ٹائمز “ نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ دہشت گرد سمجھتے تھے کہ بچوں پر حملہ پاکستانی قوم میں خوف و ہراس پھیلا دے گا اور اسی لئے وہ اپنی غلیظ جنگ ایک سکول میں لے گئے۔ اخبار نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی طرف سے احتجاج ملتوی کرکے دہشت گردی کے خلاف حکومت کے ساتھ کھڑا ہونے کے فیصلے کو دانشمندانہ قرار دیا ہے، اور ملک کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کیلئے قومی قیادت کی یکسوئی کو لازمی قرار دیا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -