دہشت گردوں نے کئی بچوں کو ذبح کیا، زخمیوں کو قریب جاکر سروں میں گولیاں مارتے رہے

دہشت گردوں نے کئی بچوں کو ذبح کیا، زخمیوں کو قریب جاکر سروں میں گولیاں مارتے ...
دہشت گردوں نے کئی بچوں کو ذبح کیا، زخمیوں کو قریب جاکر سروں میں گولیاں مارتے رہے

  

پشاور (ویب ڈیسک) دہشت گردوں نے سکول پر حملے کے بعد درندگی کی ایسی مثال قائم کی جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ انٹیلی جنس اداروں کے مطابق دہشت گرد ایک سوزوکی کیری ڈبہ میں آئے جسے بعد ازاں انہوں نے اس لئے جلادیا تاکہ لوگوں کی توجہ اس جانب مرکوز ہوجائے، تمام لوگوں کی توجہ اس طرف مرکوز ہوئی اور وہ سکول میں داخل ہوگئے۔ ذرائع نے بتایا کہ دہشت گرد تہکال سے بہاری کالونی آئے اور اپنے ساتھ سیڑھی بھی لائے تھے جس کے بعد وہ سکول کے اندر داخل ہوئے۔ جس علاقے سے دہشت گرد آئے وہاں پر افغان مہاجر کیمپ بھی ہے۔ سکول کے اندر سے ملنے والی معلومات کے مطابق دہشت گردوں نے بعض بچوں کو ذبح بھی کیا تاہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کی جاسکتی۔ ذرائع کے مطابق دہشت گرد بچوں سے ان کے والدین کے بارے میں بھی پوچھتے رہے۔ ایک سیکیورٹی اہلکار کی بیوی کو بچوں کے سامنے جلادیا گیا، ایک میجر کی بیوی اور دو بچوں کو بھی شہید کیا گیا۔ سانحہ میں ایک اعلیٰ فوجی افسر کی بیوی جو سکول ٹیچر تھی کو بے دردی سے شہید کیا گیا، ایک صوبیدار کے بیٹے کو انتہائی قریب سے گولیاں ماری گئیں۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ بڑے بچوں کو خصوصی طور پر نشانہ بنایا گیا اور انہیں سروں اور چہروں پر گولیاں ماری گئیں، اگر کوئی بچہ فائرنگ سے بچ جاتا یا معمولی زخمی ہوجاتا تو اس کے بعد دہشت گرد ان بچوں کے قریب جاکر ان کے سینوں اور سروں میں گولیاں مارتے۔

مزید :

قومی -