عمران خان نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا

عمران خان نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا
عمران خان نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے آزادی دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں اور سانحہ پشاور کے بعد دھرنے کے خاتمے کا اعلان کرتے ہیں، مگر حکومت جوڈیشل کمیشن قائم کرے، اگر دھاندلی کی تحقیقات کی گئیں اور ذمہ داران کو سزائیں مل گئیں تو نیا پاکستان بن جائےگا، لیکن حکومت نے تحقیقات میں پیشرفت نہ کی تو دوبارہ احتجاج کیلئے سڑکوں پر نکل آ ئیں گے۔

ڈی چوک میں کارکنان سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ میں آزادی مارچ اور پھر دھرنے میں شامل رہنے والوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ہمارے احتجاج سے نئی تاریخ رقم ہو گئی ہے، دھرنے کے خاتمے سے ہماری محنت ضائع نہیں ہو رہی اور نہ ہی ہم اپنے مطالبات پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم سانحہ پشاور کے بعد دھرنا ختم کر کے حکومت کو موقع دے رہے ہیں تا کہ دہست گردوں کو قومی اتحاد کا پیغام جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہمارے ساتھ مذاکرات کرے اور دھاندلی کے معاملے پر جوڈیشل کمیشن قائم کر کے تحقیقات کرے تا کہ اس قوم کے ووٹ کی عزت قائم ہو سکے۔ انہوں نے آج ہونے والی آ ل پارٹیز کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف نے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی تو پہلے سوچا کہ میں دھرنے پر ہونے والے مظالم کے خلاف سے اس اجلاس میں شریک نہ ہوں مگر پھر خیال آ یا اس ملک کی اس وقت کیا آواز ہے اور اس وقت کا کیا مطالبہ ہے؟ اس وقت مطالبہ تھا کہ میں اپنی قوم کو ایک کروں اور ان دہشت گردوں کا مقابلہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اجلاس میں شریک ہوا اور دہشت گردی کے معاملے پر حکومت کی مکمل حمایت کا اعلان کیا، ایک کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ، ہمارا ممبر بھی اس کمیٹی میں شامل ہو گا۔

کپتان کا کہنا تھا کہ میں پاکستانیوں کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ ہم نے چار ماہ سے زائد عرصہ یہاں کیوں گزارا، ہم نے یہ محنت انصاف کیلئے کی، ہم نے دھرنا دینے سے پہلے ہی ہر دروازہ کھٹکھٹایا مگر ہمیں انصاف دینے سے انکار کر دیا گیا تو ہم نے سڑکوں پر آ نے کا فیصلہ کیا، یہ سب اس لئے کیا کہ دھاندلی کرنے والوں کو سزا مل سکے تا کہ ہمارا الیکشن کا نظام شفاف ہو سکے۔

انہوں نے شرکاءکو مخاطب کر کے کہا کہ 126دن پہلے دھرنا شروع کیا تو وزیر اعظم نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ کیاتھا مگر پھر اس مطالبے سے پیچھے ہٹ گئے، اس وقت ہمارا واحد مطالبہ جوڈیشل کمیشن کی تشکیل ہے، اسی معاملے پر ہم نے تین شہر بند کرنے تھے اور کل ہم پورا ملک بند کرنے والے تھے تا ہم قومی اتحاد دکھانے کیلئے ہم نے یہ فیصلہ واپس لے لیا۔

انہوں نے سانحہ پشاور کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کل میں سانحہ پشاور کے بعد فوری طور وہاں پہنچا ، صورتحال کا جائزہ لیا اور حملے میں زخمی ہونے والوںکی عیادت کی، میں نے کبھی ایسا کوئی سانحہ نہیں دیکھا، اس واقعے کے بعدمیں سوچتا ہوں کہ اگر کوئی میرے بچوں کو مارے تو کیا ہو گا؟ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ میں کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ ذہنی مریض ہوتا ہے مگر یہاں تو ان کی دشمنی ہماری قوم سے تھی مگر انہوں نے ہتھیار ہمارے بچوں کے خلاف اٹھائے۔ اس موقع پر سانحہ پشاور کے شہدءکیلئے دعا بھی کروائی گئی۔

مزید :

قومی -Headlines -