مشرقی پاکستان پربھارت کی ناجائز جارحیت (2)

مشرقی پاکستان پربھارت کی ناجائز جارحیت (2)
مشرقی پاکستان پربھارت کی ناجائز جارحیت (2)

  



بھارت کی یہ حکمت عملی کامیاب رہی ہے کہ مشرقی پاکستان جس کے ساتھ اس کا کچھ تعلق ،واسطہ نہ تھااسے نہ صرف اپنا مسئلہ بلکہ متنازع بھی بناڈالا اوردوسری طرف ہمارے حکمرانوں کی ناکامی ہے کہ مسئلہ کشمیر جوسوفیصد متنازع ہے اورپاکستان یقینی طورپراس کافریق بھی ہے،اسے دنیاسے منوانے اورتسلیم کروانے میں ناکام ہیں۔حالانکہ اگربدیہی نظر سے بھی دیکھاجائے تویہ حقیقت اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی بھارت کے لئے اتنی ضروری نہ تھی جتنا پاکستان کے لئے مسئلہ کشمیر کاحل ہوناضروری ہے۔جب ہم کشمیر کوپاکستان کی شہ رگ قراردیتے ہیں تواس کا مطلب یہ ہے کہ کشمیر ہمارے لئے زندگی اورموت کی حیثیت رکھتا ہے۔پاکستان کادفاع، استحکام، بقااورمستقبل مسئلہ کشمیر کے حل ہونے سے مشروط ہے۔پاکستان میں بہنے والے سارے دریاؤں کامنبع اورآکسیجن کشمیر ہے ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ اہل کشمیر کے ساتھ ہمارادین اورایمان کارشتہ ہے۔ان حقائق کا ادراک اورتقاضہ تھا کہ ہمارے سارے سیاستدان ،حکمران ،مذہبی رہنمااورافواج پاکستان پوری یکسوئی ،دلجمعی اورطاقت کے ساتھ کشمیر کویک نکاتی ایجنڈاقراردیتے ہوئے اس کی آزادی کیلئے نتیجہ خیز کوشش کرتے ،اپنے کشمیری بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے،بھارتی مظالم سے دنیا کوآگاہ کرتے اور مقبوضہ جموں کشمیر کی آزادی کے لئے اسی طرح اپنا خون بہاتے ،جان ومال قربان کرتے جس طرح کشمیری بھائیوں نے قیام پاکستان کے لئے جدوجہد کی تھی۔یہاں صورت حال یہ ہے کہ70سال کاعرصہ گزرنے کے باوجود ہمارے حکمرانوں اورسیاستدانوں کاپسندیدہ ومحبوب مشغلہ قراردادوں کی منظوری اوراخباری بیانات تک محدودرہا ہے۔آج تک پاس ہونے والی قراردادوں کے پلندے اکٹھے کئے جائیں تو یقیناان کے پہاڑ بن سکتے ہیں لیکن یہ کاغذی پہاڑ بھارتی مظالم کے سامنے ڈھال نہیں بن سکتے ،مظلوم کشمیری بچوں پربرسنے والی پیلٹ گنوں ،لاٹھیوں ، بندو قوں ،آنسوگیس،مرچی گیس کے شیلوں کارخ نہیں موڑسکتے ،پاکستان کی طرف بہنے والا وہ پانی جسے بھارت نے روک رکھا ہے اس میں روانی نہیں لاسکتے اورنہ ہمارے سیاستدانوں کے ٖفضاؤں میں اچھالے جانے والے بیانات، میزائل اور راکٹ کا روپ دھار سکتے ہیں۔ہم نہیں کہتے کہ جنگ برپا کی جائے اس لئے کہ جنگ کسی کے فائدے میں نہیں لیکن ہم یہ بھی پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ پاکستان کی شہ رگ پرقبضہ کس نے کررکھا ہے، پاکستان کا پانی کس نے روک رکھا ہے، 1971ء، میں جنگ کے شعلے کس نے بھڑکائے تھے ،پاکستان کی سالمیت کو کس نے داغ داغ کیا تھا،پاکستان میں دہشت گردی کون کروارہا ہے،افغانستان میں دہشت گردی کے اڈے کس نے بنارکھے ہیں ، کلبھوشن یادیو کس ملک کاایجنٹ ہے اوروہ پاکستان میں کس مقصد کی خاطرآیا تھا۔۔؟

ہمارے حکمران16دسمبرکاسانحہ بھول چکے، اپنے ماتھے پرلگے شکست کے داغ اوراپنے دشمن کو فراموش چکے ہیں لیکن بھارت کی ڈھٹائی اوردشمنی کی یہ حالت ہے کہ مودی اب علی الاعلان پاکستان کوتوڑنے کااقرارواعتراف کررہے اوردھمکیاں دے رہے ہیں۔امسال بھی بھارت میں سرکاری سطح پر 16دسمبرکادن جشنِ فتح کے طورپرمنایا جارہاہے۔یہ بات یقینی ہے کہ جب فتح کاجشن منایاجاتا ہے تواس موقع پر جہاں حریف کی تباہی کے تذکرے ہوتے وہا ں اس کی مزید بربادی کے منصوبے بھی بنتے ہیں۔ گویا اب بھارت باقیماندہ پاکستان کے درپے ہے۔جس کااظہارمودی بلوچستان میں مداخلت کی صورت میں کرچکے ہیں۔بھارتی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ بھی گذشتہ دنوں مقبوضہ جموں کشمیر کے دورے کے دوران مودی کی زبان بولتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ پہلے پاکستان کے دوٹکڑے کئے اب دس ٹکڑے کریں گے۔

یہاں یہ امر سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اقوام متحدہ نے بھارت کو مشرقی پاکستان کاوکیل ہرگزمقررنہیں کیا تھااورنہ بنگالی مسلمانوں نے بھارت کواپناوکیل بنایا تھا بلکہ بھارت زبردستی ان کا وکیل بن بیٹھا تھااس کے برعکس پاکستان کو اقوام متحدہ کی وساطت سے پوری دنیا نے کشمیر کاوکیل تسلیم کررکھا ہے ۔کشمیری مسلمان ’’پاکستان کامطلب کیا،لاالہ الااللہ ‘‘کے نعرے لگاکرسینوں پر گولیاں کھارہے اورہم لاالہ الا اللہ کے تقاضوں کوسمجھ رہے ،نہ پوراکررہے، نہ حقِ مسلمانی اداکررہے اورنہ اہل کشمیر کی محبت کی قدردانی کررہے ہیں۔سچی بات یہ ہے کہ اگر ہم نے کلمہ توحید کے تقاضوں کوسمجھاہوتا توہمارے کشمیری بھائی یوں کسمپرسی وبے بسی کاشکار ہوتے اور نہ وہاں سے روزانہ لاشے اٹھ رہے ہوتے۔مقبوضہ جموں کشمیر میں اس وقت قیامت صغری کا منظربرپا ہے،پانچ ماہ سے زندگی مفلوج ہے ،ہڑتال اورکرفیو ہے،بچے بھوک سے بلک رہے ہیں۔دوسال کے بچوں سے لے کر30سال کے جوانوں کوپیلٹ گن کانشانہ بناکر بینائی چھینی جارہی ہے۔26سال کی تاریخ میں پہلی دفعہ دوہفتوں میں 50سے زائد افرادجام شہادت نوش کرچکے ہیں۔ستم یہ ہے کہ جب بھارتی وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ سے سری نگر میں اس اندھے ظلم وستم کے بارے میں پوچھا گیاتوانہوں نے نہایت ہی لاپرواہی سے کندھے جھٹکتے ہوئے کہا ۔۔۔’’افسوس کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔‘‘سفاک بھارتی حکمرانوں کا رویہ بتاتا ہے کہ انہیں کشمیر کے باشندوں کی نہیں، صرف سرزمین کشمیر کی ضرورت ہے۔یہی وجہ ہے کہ بھارتی حکمران ہرصورت کشمیری مسلمانوں کے حوصلے توڑنا اوران کے دلوں سے پاکستان کی محبت نکالنا چاہتے ہیں لیکن کشمیری قوم کے بہادر وشجاع سپوت پاکستانی پرچم سینوں سے لگائے ستونِ دارپرسروں کے چراغ رکھتے چلے جارہے اوراپنی ہمت و استعداد سے بڑھ کرجانی ومالی قربانیاں پیش کررہے ہیں۔ان حالات میں دیکھنا یہ ہے کہ ہم کیا کررہے ہیں ۔کیا ہم بھی پاکستان سے بے لوث محبت کرنے والے اہل کشمیرکے مٹ جانے کاانتظارکررہے ہیں۔اللہ نہ کرے۔ایسا وقت آنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم اہل کشمیر کے مسائل ومصائب کوسمجھیں، ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں،اپنے اندر اتحاد واتفاق پیدا کریں ،تمام اختلافات کوبالائے طاق رکھ کرپوری قوت اوریکسوئی کے ساتھ بھارتی جارحیت کاجواب دیں اور مسئلہ کشمیرحل کروانے کی کوشش کریں۔ یہ بات طے ہے کہ مشرقی پاکستان پربھارتی جارحیت ناجائز اورغلط تھی اسی طرح مقبوضہ جموں وکشمیر پر بھی بھارتی قبضہ ناجائز اورغلط ہے۔ بھارت ہم پر جارحیت کرنے اوردھونس جمانے سے اب بھی بازنہیں آرہابلکہ اس کی جارحیت وتخریب کا سلسلہ بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔سو ان حالات میں اپنے وطن کے دفاع وبقا کے لئے ضروری ہے کہ بھارت کواس کی زبان میں جواب دیا جائے،سقوط مشرقی پاکستان کاقرض چکایا جائے اوراہل کشمیر کی جائز وکالت ومددکاحق اداکیا جائے۔(ختم شد)

مزید : کالم