نہیں نہیں، سب غلط ہے

نہیں نہیں، سب غلط ہے
نہیں نہیں، سب غلط ہے

  

نہیں نہیں، سب غلط ہے۔ معاملہ تحریک انصاف کی مخلوط حکومت کے صرف پہلے سو دنوں کا نہیں ہے، معاملہ بنیادی ہے۔ میں تحریک انصاف یا عمران خان کا مخالف نہیں ہوں لیکن آنکھیں بند کرکے اس کا حامی بھی نہیں ہوں۔

میں عمران خان کو نیک نیتی کا الاؤنس بھی دے دوں پھر بھی میں اپنی رائے پر قائم ہوں۔ اچھی نیت کا ہونا یقیناً ضروری ہے لیکن صحیح سمت میں صحیح عمل نہ ہوگا تو سب کچھ غلط ہو جائے گا۔

میں بغیر معذرت کے ان سے اختلاف کروں گا جو یہ کہتے ہیں کہ حکومت نے سو دن میں جو کچھ کیا وہ بہت بڑی کامیابی تھی، لیکن وہ ان کامیابیوں کی مناسب نشر و اشاعت کرنے میں ناکام رہی ہے۔ میں خود بھی ’’ ابلاغِ عامہ‘‘ کا طالب علم ہوں اس لئے سمجھ سکتا ہوں کہ تشہیر میں کوئی کمی یا کوتاہی رہ گئی ہو۔

لیکن پہلے تو یہ دیکھنا پڑے گا کہ حکومت نے واقعی ان سو دنوں میں اپنی آئندہ کی حکمت عملی کی جو جھلک دکھلائی ہے کیا اسے دیکھ کر ایک روشن مستقبل کی اُمید کی جاسکتی ہے۔میرے خیال میں گھسی پٹی سیاسی روایت کو چھوڑ کر اگر انقلابی تبدیلی کی راہ پر چلنے کا عزم موجود تھا تو اس کے لئے ابتدائی واضح اقدامات کرنے کے لئے سو نہیں صرف سات دن کافی تھے اور ابھی ٹھہر کے بتاؤں گا کہ صرف چند دنوں میں کیا کیا اقدامات کئے جاسکتے تھے۔

سیاست میرا بنیادی شعبہ نہیں ہے، سیاسی اتار چڑھاؤ پر تبصرے یادلچسپی میرے مشاغل میں شامل نہیں ہے۔ لیکن مظلوم محکوم اور فرسودہ حال خواتین، مردوں اور بچوں کے حالات کی بہتری کی کوئی صورت نظر آرہی ہے تو میں اس پر ضرور توجہ دیتا ہوں اور اس پرعمل ہونے کی ہر تدبیر میں شریک ہونے کو تیار ہوں۔

اب کوئی شُبہ نہیں ہے کہ تحریک انصاف کی صورت میں قدرت نے پاکستان کو کرپشن کی دلدل سے نکال کر ایسی ترقی کی راہ پر گامزن ہونے کا موقع فراہم کیا جو صرف خواص تک محدود نہ ہو بلکہ کم وسائل والے افراد اس سے زیادہ مستفید ہوں۔

اس حکومت پر اگر ایک فرد واحد عمران خان کی شکل میں چھایا ہے تو وہ اس لحاظ سے قابل قبول ہے کہ اس کا ریکارڈ سیاست کے دیگر کھلاڑیوں سے کہیں بہتر ہے، اب اگر عمران خان کے سرپر آن پڑے گی اور توپوں کا رخ اس کی طرف ہونے کا خدشہ پیدا ہوا تو شاید دہشت گردی کے حوالے سے اس کی سوچ میں تبدیلی آ جائے۔ ورنہ عمران خان ہمیشہ ان لوگوں میں شامل رہے ہیں جو دہشت گردوں کے ساتھ یا تو ہمدردی رکھتے ہیں اور یا چاہتے ہیں کہ وہ پاکستان کو چھوڑ کر اردگرد بلاشک جو کچھ مرضی کرتے رہیں۔

لیکن آستین میں سانپوں کو پالنا طویل عرصے تک محفوظ عمل نہیں ہے۔ اس لئے عمران خان کی حکومت کو ملک کی بہتری کے لئے ہمدردی کارویہ ترک کرکے جلد یا بدیر ان سانپوں کو کچل دینا چاہئے۔

سب سے پہلی بات:ان سو دنوں میں بلکہ پہلے سات دنوں میں تمام فوری طور پر ہتھیار ڈال کر اپنی پناہ گاہوں کو چھوڑ دیں۔ یہ پیغام آئندہ سو دنوں میں بلکہ پورے دور حکومت میں آنے کا امکان نہیں ہے۔

یہ سب اس لئے ضروری ہے کہ دہشت گردوں کا قلع قمع کئے بغیر امن امان قائم نہیں ہوسکتا، جو حقیقی ترقی کے لئے بہت ضروری ہے۔ لیکن اس حکومت کے ایجنڈے میں شاید یہ شامل نہیں۔

کچھ سرکاری اداروں کی طبعی صورت حال تبدیل کرنے کا تصور انتخابی مہم کے دوران بہت مقبول رہا ہے، لیکن سو دنوں میں اس پر مضحکہ خیز انداز میں عمل ہوا ہے لیکن جو کچھ ہوا ہے وہ بہر حال پہلے سے بہتر ہے۔ ایوان صدر، وزیر اعظم ہاؤس، گورنر ہاؤس اور وزرائے اعلیٰ سمیت تمام بڑے سرکاری دفاتر کو خالی کر کے سرکاری اعلیٰ عہدیداروں کو سادہ رہائش گاہیں دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

لیکن عملاً کیا ہوا،وزیراعظم نے وزیراعظم ہاؤس کو استعمال نہیں کیا، گورنر تو گورنر ہاؤس میں موجود رہے۔ ایوان صدر اور گورنر ہاؤس کو عوام کے لئے کھول کر تماشہ بنا دیا گیا، جنہوں نے وہاں گندگی مچانے کا ریکارڈ قائم کردیا۔ ایسا لگتا ہے کہ ان سارے کاموں کے پیچھے کسی ٹھوس منظم منصوبہ بندی کا فقدان ہے۔

گورنر ہاؤس کی دیواروں کو اڑتالیس گھنٹے میں توڑنے کا حکم وزیراعظم نے خود دیا جس پر عمل درآمد لاہور ہائی کورٹ نے رکوا دیا ہے لیکن دیواریں توڑ کر کیا حاصل ہوگا؟ اس سے عوام کو کیا فائدہ پہنچے گا؟ سب کچھ بے ترتیبی سے سوچ سمجھ کے بغیر ہو رہا ہے۔

عمران خان حلف اٹھانے کے فوراً بعد میڈیا کو اپنا منصوبہ بتاتے۔ جو اس طرح ہوتا، صدر، وزیر اعظم، گورنر اور وزرائے اعلیٰ پر تعیش رہائش گاہوں ایوانِ صدر، وزیر اعظم ہاؤس، گورنر ہاؤس اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کو استعمال نہیں کریں گے، بلکہ اس کی جگہ چھوٹے سائز کی سادہ رہائش گاہیں استعمال کریں گے۔ ان عمارتوں سے وابستہ قیمتی اشیاء فروخت ہوں گی، جو کچھ ہوئی بھی ہیں۔

ان عمارتوں کو درس گاہوں، ہسپتالوں یا سماجی بہود کے اداروں میں تبدیل کرنے کا باقاعدہ پلان پیش کیا جاتا اور ایک ہفتے کے اندر ان عمارتوں پر متعلقہ اداروں کے سائن بورڈ لگاکر ضرورت کے مطابق انہیں تبدیل کرنے کا کام شروع کردیا جاتا۔

عام لوگوں کے لئے اور بہت سی تفریح گاہیں ہیں۔مقبولیت حاصل کرنے کے لئے ان کا یہاں پکنک منانا اور گند مچانا ضروری نہیں تھا، گورنر ہاؤس کی مضبوط دیواروں کو محفوظ رکھ کر اسے اعلیٰ درجے کی یونیورسٹی میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

سوشل سروس کارڈ کے ذریعے طبی سہولت فراہم کرنے کا جو تجربہ خیبرپختونخوا میں کیا گیا ہے، اسے پورے ملک میں توسیع دینے کا منصوبہ ایک واحد بڑا خوش آئند کام ہے، جس کا نئی حکومت آغاز کررہی ہے۔ سب کے لئے یکساں تعلیم کا نعرہ اس جماعت کی طرف سے بلند ہوتا رہا ہے، لیکن پہلے سو دنوں میں اس کا کم از کم ایک خاکہ سامنے آنا چاہئے تھا کہ کس طرح سرکاری تعلیمی اداروں میں مفت یا انتہائی کم فیس کے ساتھ تعلیم کا معیار ان پرائیویٹ سکولوں کے برابر کیا جائے گا، جہاں مہنگی تعلیم کم آمدنی اورحتیٰ کہ متوسط طبقے کی استطاعت سے باہر ہے۔

نیب، ایف آئی اے، پولیس، سٹیٹ بینک، سرکاری ٹی وی، سرکاری ریڈیو، اطلاعاتی محکمے، عدلیہ اور دیگر خودمختار اداروں کو حقیقی معنوں میں پوری خود مختاری کے ساتھ کام کرنے کی تلقین کی جاتی اور پہلے سو دن میں اس کے لئے ضروری احکامات بھی سامنے آتے۔

سٹیٹ بینک کو آزادی اور خود مختاری کے ساتھ ڈالر کو مصنوعی شکنجے سے باہر نکالنے کا مظاہرہ ضرور ہوا۔ اسے التواء میں رکھ کر مقبولیت حاصل کی جاسکتی تھی، لیکن بالآخر دیر سویر ایسا ہونا ہی تھا معیشت کو بہتر بنانے کے دیگر اقدامات پر توجہ دی جاسکتی ہے۔ ڈالر اپنے قدرتی مقام پر آئے گا تو کاروباری طبقے کا اعتماد بحال ہوگا۔

کہنے کو تو بہت کچھ ہے، لیکن اس تحریر کی گنجائش کم ہو رہی ہے اس لئے میرے نقطہ نظر سے جو اہم اور بنیادی معاملہ ہے، آخر میں صرف اسے ہی واضح کرکے آپ سے اجازت لوں گا۔ وہ معاملہ ہے پاکستان کی ریاست کے اثاثوں کا، اگر عام لوگوں کی امیدیں پورا کرنے کے لئے اقتدار میں آنے کی دعویدار تحریک انصاف بھی ریاست کے اثاثوں کا تحفظ نہ کرسکی تو پھر آئندہ کسی سے امید نہیں کی جاسکے گی، سب سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ نجکاری کا تصور ہی بہت گمراہ کن ہے۔وہ تحریک انصاف کے منشور میں شامل مدینہ کے ماڈل پر قانون کی حکمرانی اور اقتصادی انصاف پر مبنی مساواتی معاشرے کے قیام کے تصور سے براہ راست متصادم ہے۔

سو دن گزر گئے جو کام بہت پہلے ہونا چاہئے تھا اور نہیں ہوا، وہ ملک کے چیف ایگزیکٹو کی طرف سے یہ عہد نامہ سامنے آنا چاہئے تھا، بلکہ اسے آئین میں شامل کرنا چاہئے اور اس کا باقاعدہ حلف اٹھانا چاہئے۔ وہ عہد ہے ریاست کی ملکیت میں موجود تمام اثاثوں کو محفوظ رکھنا اور جو اثاثے قبل ازیں فروخت کر دیئے گئے ہیں ان کو منسوخ کرنے اور واپس ریاست کے پاس لانے کی کوشش کرنی ہو گی۔

پاکستان کے جو اثاثے بھارت یا تاج برطانیہ کے پاس ہیں ان کو واپس لانے کے لئے تمام قانونی اور اخلاقی طریقے اختیار کرنا ضروری ہے۔ نجکاری کمیشن کو ختم کرکے نجکاری کی ممانعت کرکے قومی اثاثوں کے تحفظ کے لئے نیا کمیشن بننا چاہئے۔

یہ کمیشن کام کرے گا کہ ایک سٹیل مل اور پی آئی اے ہی نہیں ملک کے اندر اور باہر سرکار کے پاس اتنی عمارتیں اور اراضی ہے جن پر قبضے کو موثر کرکے استعمال میں لانا چاہئے۔ مطلب یہ کہ ان اثاثوں کو فروخت کرنے کی بجائے کاروباری استعمال میں لایا جاسکتا ہے۔

معاشی ماہرین شاید زیادہ بہتر جانتے ہوں، لیکن ملک میں اس طرح کی سرمایہ کاری کی دعوت دینا کہ ریاست کے اثاثے غیر ملکی کمپنیوں یا حکومتوں کے حوالے کر دئے جائیں یہ بھی اصل میں قومی مفاد کے خلاف ہے۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اس وقت تک اپنا سرمایہ لگا کر یہاں کاروبار کرنے کی اجازت ہونی چاہئے، جب تک وہ مقامی صنعتوں اور کاروباری اداروں کو نقصان نہیں پہنچاتے۔

نظام کے تصور کو سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ اقتصادی انصاف کے لئے صرف جمہوریت کافی نہیں ہے۔ اس کے لئے ’’پاپولزم‘‘ (POPULISM) پر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔ جمہوریت تمام شہریوں کے ساتھ ایک جیسا سلوک چاہتی ہے، چاہے وہ مزدور کسان ہو یا شوگر ملوں کا مالک ہو۔ جبکہ ’’پاپولزم‘‘ مزدوروں اور کسانوں جیسے محروم طبقے کونچلی سطح سے اٹھا کر دولت مند طبقے سے ان کا فاصلہ کم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

معروف سنگر اور سماجی کارکن جواد احمد نے ’’برابری‘‘ کے نام سے خصوصاً کسانوں اور مزارعوں کے حقوق کے لئے جو تحریک چلا رکھی ہے،وہ بھی ’’پاپولزم‘‘ کے تصور کے مطابق ہے۔

حکومت کو چاہئے کہ وہ اس سے یا اس طرح کے عام لوگوں کے حالات بہتر بنانے میں کوشاں تحریکوں سے استفادہ کرے، اگر کبھی موقع ملا تو ’’پاپولزم‘‘ کے حوالے سے مزید بات کروں گا۔

تحریک انصاف کی مخلوط حکومت کے بارے میں پوری طرح مایوس نہیں ہوں۔ لیکن ابھی تک جو کچھ ہوا ہے، اس سلسلے میں میں پورے زور سے ایک بار پھر کہوں گا کہ ’’نہیں نہیں، سب غلط ہے‘‘۔

مزید :

رائے -کالم -