ایسے دلائل نادیں کہ صدر پاکستان اپنے اختیارات سے رولز کیخلاف کچھ بھی کر سکتے ہیں: اسلام آباد ہائی کورٹ

        ایسے دلائل نادیں کہ صدر پاکستان اپنے اختیارات سے رولز کیخلاف کچھ بھی ...

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے دلائل نہ دیں کہ صدر پاکستان اپنے اختیارات سے رولز کیخلاف جا کر کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ابرارالحق کی بطور چیئرمین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی تعیناتی کے خلاف درخواست پر سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کی زیر صدارت ہوئی۔دوران سماعت ابرارالحق نے تحریری دلائل عدالت میں جمع کرائے جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ اپنا کیس خود لڑیں گے؟ابرارالحق نے جواب دیا کہ میرے وکیل آج لاہور عدالت میں مصروف ہیں، آپ ہمارے تحریری دلائل قبول فرما لیں۔عدالت نے کہا کہ اگر آپ مطمئن نہیں تو آپ کے وکیل کو سننے کے لیے تاریخ رکھ لیتے ہیں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے وفاق کی جانب سے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ابرارالحق کی تعیناتی صدر پاکستان نے کی ہے، جس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ صدر پاکستان کا آفس قابل احترام ہے، اْس پر کوئی بحث ہی نہیں، آپ قانونی پہلو پر دلائل دیں۔جسٹس اطہر من اللہ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ کیا مقررہ مدت مکمل ہونے سے پہلے کسی کو ہٹایا جاسکتا ہے؟ اس کیس میں اصول واضح ہے اور اس عہدے کے لیے مدت مقرر کی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کیا حکومت مدت مکمل ہونے سے پہلے قانون کے مطابق کسی کو ہٹا سکتی ہے؟ آپ زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ قانون اس بات پر خاموش ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہاں رول بالکل واضح ہے کہ چیئرمین کی تعیناتی 3 سال کے لیے ہو گی، اگر سعید الٰہی نے بطور چیئرمین کچھ غلط کیا تھا تو انہیں شوکاز دیا جاتا، ان کا مؤقف سنا جاتا اور پھر وہ قصوروار ہوتے تو بے شک ہٹا دیا جاتا۔ان کا کہنا تھا یہاں تو سعید الٰہی کو سیدھا عہدے سے ہی ہٹا دیا گیا، ایڈیشنل اٹارنی جنرل صاحب ایسے دلائل نا دیں کہ صدر پاکستان اپنے اختیار سے رولز کے خلاف جا کر کچھ بھی کر سکتے ہیں۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 26 دسمبر تک ملتوی کر دی۔

اسلام آباد

مزید :

صفحہ آخر -