جسٹس قاضی فائز عیسٰی کیس میں ریاستی جاسوسی کے ذریعے موا داکٹھا کیا گیا: منیر اے ملک 

جسٹس قاضی فائز عیسٰی کیس میں ریاستی جاسوسی کے ذریعے موا داکٹھا کیا گیا: منیر ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس کیخلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے کہا ہے کہ ان کے موکل کے کیس میں ریاستی جاسوسی کے ذریعے مواد اکٹھا کیا گیا۔ پیر کو عدالت عظمیٰ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی لارجر بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر دائر صدارتی ریفرنس کیخلاف درخواستوں پر سماعت کی۔اس دوران جسٹس عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے اپنے دلائل دینے کا سلسلہ جاری رکھا اور عدالت کو بتایا پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ قومی موو منٹ نے فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی درخواستیں دائر کیں۔ پی ٹی آئی کی نظرثانی کی درخواست ان کی ذہنی سوچ کی عکاس ہے، درخو ا ست میں واضح کیا گیا ہے کہ فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ جج کی برطرفی کیلئے واضح جواز ہے۔ ریفرنس میں یہ کہنا کہ جسٹس فائز عیسیٰ جج رہنے کہ اہل نہیں یہ اتفاق نہیں، 4بجے ریفرنس کے حوالے سے ٹوئٹ جاری ہوئی جبکہ ریفرنس کا علم صدر، وزیراعظم، اٹارنی جنرل، وزیر قانون اور چیف جسٹس کے سیکریٹری کو تھا، چیف جسٹس کے سیکریٹری نے خبر لیک نہیں کی، اس کی ذمہ داری باقی 4 افراد پر ہے۔صدر نے صرف اس حد تک کہا کہ خبر ان کے دفتر سے لیک نہیں ہوئی جبکہ ایک حکومتی رکن نے پریس کانفرنس میں کہا عدلیہ نے کریز سے نکل کر شاٹ کھیلی اور اب وہ احتساب کے شکنجے میں ہے۔منیر اے ملک کامزیدکہنا تھا کریز سے باہر نکل کر شاٹ ہونے کا مطلب فیض آباد دھرنا کیس کے فیصلے کے علاو ہ کچھ نہیں۔ اٹارنی جنرل کا ریاست میں کردار واضح ہے، وہ عدالت کی معاونت کرتا ہے حکومت کی نہیں، دریں اثناء اٹارنی جنرل نے جواب الجواب میں کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ذاتی تعریف اور سستی شہرت پر یقین رکھتے ہیں، یہ الزامات سپریم کورٹ کے جج کے بارے میں بدنیتی کا اظہار ہیں۔منیر اے ملک کے مطابق اٹارنی جنرل کے جواب الجواب میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر بیوی اور بچوں کی شناخت کے پیچھے چھپنے کا الزام ہے جبکہ ان کے موکل نے ان تمام الزامات کو مسترد کیا ہے۔عدالت میں بیان دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کونسل اٹارنی جنرل یا کسی بھی وکیل کو معاونت کیلئے مقرر کرسکتی ہے، اٹارنی جنرل کا یہ جواب خفیہ قوانین کی خلاف ورزی اور جج کی جاسوسی سے متعلق میرے دلائل کی تصدیق ہے۔ یہ جواب 5 حکومتی افسران نے ایک ہی روز میں تیار کیا، حکومت کو ایک ہی روز میں 5 مختلف ذرائع سے رپورٹ موصول ہونا اچانک نہیں سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔اس موقع پر عدالت عظمیٰ میں منیر اے ملک نے اپنے بنیادی دلائل دہراتے ہوئے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر بیرون ملک جائیدادوں کی بے نامی ملکیت، بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کا الزام نہیں لگایا گیا۔انہوں نے کہا کہ اثاثہ جات برآمدگی یونٹ (اے آر یو) کے چیئرمین اور وزیرقانون کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اعلیٰ عدالتوں کے جج کیخلاف تحقیقات کرے۔جسٹس عیسیٰ کے وکیل کے مطابق ان کے موکل کے کیس میں ریاستی جاسوسی کے ذریعے مواد اکٹھا کیا گیا، ہم ایک طرف یہ چاہتے ہیں کہ تمام ادارے قانون کے مطابق کام کریں، دوسری جانب یہ بھی چاہتے ہیں کہ غیرقانونی کام کرنیوالوں کیخلاف کارروائی ہو۔احتساب اور قانون کی خلاف ورزی کرکے مواد جمع کرنے میں توازن ہونا چاہیے، غیر قانونی اقدام کی اجازت دینے سے ایگزیکٹو (مقننہ) کو یہ لائسنس مل جائیگا کہ وہ عدلیہ کو بلیک میل کرے، ساتھ ہی انہوں نے کہا اعلیٰ عدالتوں کی ایسی کئی مثالیں موجود ہے جن میں غیر قانونی طریقے سے اکٹھے کیے گئے مواد کو الگ کیا گیا۔وکیل کے مطابق پوری دنیا کے سمندر بھی جج پر عائد الزام کو نہیں دھوسکتے، اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے پوچھا کہ جج کیخلاف ریفرنس خارج کر دینے سے کیا یہ الزام ختم ہو جائے گا؟ جس پر انہیں جواب دیا گیا کہ الزام نہ بھی ختم ہو لیکن داغ مٹ جائیگا۔منیر اے ملک نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ الزام ختم کرنے کیلئے یہ ضروری نہیں کہ جج کو بالوں سے پکڑ کر کھینچا جائے، اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ افتخار چوہدری کیس میں اس وقت ایک فوجی آمر کی حکومت تھی، اس کیس میں ججوں کو گھروں میں نظر بند کیا گیا اور چیف جسٹس کو عدالت سے باہر پھینک دیا گیا۔ افتخار چوہدری اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے کیس الگ الگ ہیں، جس پر منیر اے ملک نے کہا کہ کیا عدالت کے جج کی جاسوسی کرنا کوئی معمولی بات ہے؟ اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ نے بہت کچھ کہہ دیا ہے ہمیں سوچنا پڑیگا۔اسی دوران منیر اے ملک نے کہا طبی بنیادوں پر بدھ کو چھٹی چاہیے، جس پر عدالت عظمیٰ کے جج نے کہا ہم دیگر وکلا کو سن لیتے ہیں، ہم چھٹیوں پر نہیں جارہے۔بعد ازاں مذکورہ کیس کی سماعت آج منگل تک ملتوی کردی گئی۔

جسٹس قاضی عیسیٰ کیس

مزید :

صفحہ آخر -