کراچی، فشری میں آتشزدگی، 8لانچیں، 2ہوٹل اور 30دکانیں جل کر خاکستر

کراچی، فشری میں آتشزدگی، 8لانچیں، 2ہوٹل اور 30دکانیں جل کر خاکستر

  

کراچی(کرائم رپورٹر)کراچی فش ہاربر میں کالا پانی کے مقام پر بورڈ بلڈنگ یارڈ میں خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں کروڑوں روپے مالیت کی 8لانچیں، دو ہوٹل اور 30 دکانیں جل گئیں تاہم خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، فائر بریگیڈ کی 12 گاڑیوں کی مدد سے آگ پر قابو پالیا گیا۔تفصیلات کے مطابق ڈاکس کے علاقے فش ہاربر(فشری)میں رات گئے اچانک ایک ریسٹورنٹ پر آگ بھڑک اٹھی جو دیکھتے ہی دیکھتے شدت اختیار کر گئی۔ آگ نے قریب واقع کباڑ کے گودام، موبائل لوڈ کی دکان، مچھلی پکڑنے کے جال کے گودام اور پھر لانچوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔فشرمین کوآپریٹنگ ہاؤسنگ سوسائٹی کے سیکیورٹی انچارج ناصر بونیری نے بتایا کہ ریسٹورنٹ پر سلنڈر دھماکے سے پھٹا اور آگ کا گولا نکل کر برابر میں کباڑ کے گودام میں جا گرا اور آگ لگ گئی جہاں کالے تیل کے ڈرم رکھے تھے۔ تیز ہوا اور اور فائربریگیڈ کی گاڑیوں میں پانی کی کمی کے باعث آگ نے قریب کھڑی لانچوں کو بھی اپنے لپیٹ میں لے لیا۔بورڈ بلڈنگ یارڈ کے ایک چوکیدار سلطان حسین کے مطابق نصف شب کو ایک بج کر17 منٹ پر علی زر خان ریسٹورنٹ میں ایل پی جی کے 45 کلو گرام وزنی بڑے سلینڈر میں خوفناک دھماکے کے بعد آگ لگ گئی، ہوٹل سے متصل پرانے کپڑوں کے ایک کیبن نے بھی آگ پکڑ لی جسے اپنی مدد آپ کے تحت بجھانے کی کوشش کی گئی مگر سمندر کنارہ کی وجہ سے ہوا تیز تھی، جس سے ساتھ ہی واقع لانچوں کے انجن سے نکالے گئے استعمال شدہ تیل کے ڈرموں نے بھی آگ پکڑ لی، تیل کے ڈرم پھٹنے سے آگ کے شعلے آسمان سے باتیں کرنے لگے۔تیز ہوا کی وجہ سے آس پاس کارخانوں میں کھڑی نئی لانچوں کو آگ لگ گئی، فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے سیکیورٹی انچارج ناصر بونیری کے مطابق رات ایک بج کر 35 منٹ پر سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ، کے پی ٹی اور نیول فائر بریگیڈ کو اطلاع دی گئی مگر بروقت کوئی نہ پہنچ سکا جس سے بہت زیادہ تباہی ہوئی۔سیکیو رٹی اہلکاروں کے مطابق فائر بریگیڈ کی گاڑیاں آگ لگنے کے ایک گھنٹے بعد پہنچنا شروع ہوئیں، سب سے پہلے کے پی ٹی فائر بریگیڈ کا عملہ پہنچا مگر شدید آگ ان کے قابو سے باہر تھی۔ جس کے بعد نیول فائر بریگیڈ آئی اور سب سے آخر میں سٹی ڈسٹرکٹ فائر بریگیڈ کا عملہ پہنچا تاہم اس وقت تک بہت کچھ راکھ ہوچکا تھا۔فشری سیکیو رٹی انچارج ناصر بونیری کے مطابق آتشزدگی کے نتیجے میں نظر رسان، طارق، ظفر، ثنا، ارشاد، علی خان واہڈا اور جمشید واہڈا کی ملکیت 7 بڑی اور نئی زیر تعمیر لانچیں جل کر تباہ ہوگئیں، لانچیں جلنے سے مالکان اور کارخانوں کے نقصانات کا ابتدائی تخمینہ 10 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔فشرمین سوسائٹی کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق اس خوفناک آتشزدگی کا سبب بننے والا علی زر خان ریسٹورنٹ اور اس سے متصل سپرمارکیٹ کی 18 دکانیں، ہوٹل سند باد اور اس سے متصل 12 دکانیں آتشزدگی سے مکمل جل گئی ہیں۔انجن آئل، لنڈے کے پرانے کپڑے، موبائل فون اور اس کے سامان، چائے کے ہوٹل، ایزی لوڈ اور سبزی و فروٹس کی دکانیں جل کر تباہ ہوئی ہیں۔فائر رپورٹ کے مطابق ایک دکان میں پڑا 10 لاکھ روپے کیش اور 15 لاکھ روپے مالیت کے بینکوں کے چیکس بھی جل گئے ہیں جبکہ دیگر کاروبار کے نقصانات کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے۔بورڈ بلڈنگ یارڈ ذرائع کے مطابق سالانہ اربوں روپے کا ریونیو دینے والے اس ہاربر پر حکومتی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہاربر پر سگریٹ لائٹر، آگ لگانے والی کوئی چیز یا آتش گیر مادہ لانے کی سخت ممانعت ہے مگر کراچی فش ہاربر پر کچھ بھی لایا یا لیجایا جاسکتا ہے۔کے پی ٹی، پاک بحریہ اور کے ایم سی کی گاڑیوں نے تقریبا 4 گھنٹے کی مسلسل جدو جہد کے بعد آگ پر قابو پالیا۔ آتش زدگی میں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔سیکیورٹی آفیسر ناصر بونیری نے اعلی حکام سے اپیل کی کہ فش ہاربر میں ایسے گودام جہاں آئل کا ذخیرہ ہوتا ہے ان کا فوری طور پر خاتمہ کیا جائے تاکہ آئندہ اتنے بڑے نقصانات سے بچا جا سکے۔

فشری میں آتشزدگی

مزید :

صفحہ آخر -