جسٹس گلزا ر بہتری کی شمع آگے لیکر چلیں گے،ضرورت پڑی تو میں بھی دستیاب ہونگا: چیف جسٹس

جسٹس گلزا ر بہتری کی شمع آگے لیکر چلیں گے،ضرورت پڑی تو میں بھی دستیاب ہونگا: ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) چیف جسٹس سپریم کورٹ آصف سعید خان کھوسہ نے پولیس اکیڈمی میں منعقدہ ظہرانہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنیادی حقوق کے نفاذ میں پولیس کا کردار ہے ِپولیس ریفارمز کمیٹی بنائی گئی بدقسمتی سے کئی رپورٹس ایسی ہیں جن پر عملدرآمد نہیں ہواِامید ہے پولیس ریفارمز کمیٹی پر عمل ہوگاجسٹس گلزار احمد بہتری کی شمع آگے لیکر چلیں گے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی جب ضرورت پڑی میں دستیاب ہوں گا،پولیس اصلاحات میں ایس پی شکایات سیل کا قیام عمل میں لایا گیا،پورے ملک میں اس کے قیام سے شکایات میں 33 فیصد کمی آئی،ہائیکورٹ میں لوگ پولیس کیخلاف درخواستیں دائر کرتے تھے، ان میں بھی کمی آئی،عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کی تعداد میں کمی آئی ہے،تمام انسپکٹر جنرلز کا شکر گزار ہوں جنہوں نے انتھک محنت سے کام کیا،پولیس ریفارمز کمیٹی نے ایک جامع رپورٹ بھی مرتب کی ہے،رپورٹ میں پولیس کو مزید بہتر بنانے سے متعلق سفارشات موجود ہیں،کچھ مہینوں کی محنت میں ہم نے بہت کچھ حاصل کیا،مجھے یقین ہے کہ جسٹس گلزار احمد اس کام کو مزید آگے بڑھائیں گے،ہمیں دیکھنا ہو گا اتنے سالوں کے بعد ہم نے کیا ترقی کی،ہم کوشش کرے گے تو چیزیں بہتر بھی ہو گی،سپریم کورٹ نے لاء کمیشن کے ذریعے پولیس ریفامرز کمیٹی بنائی،پولیس ریفارمز کمیٹی کا مقصد لوگوں کی خدمت کرنا ہے،پولیس ریفامرز کمیٹی میں تمام آئی جیز نے مکمل سپورٹ فرایم کی،پولیس ریفارمز کمیٹی کے ذریعے پولیس کے کام میں بہتری لانے کے لیے اضافی بجٹ نہیں لگا،پولیس کا غیر سیاسی رہنا بہت ضروری ہے،اگر آپ غیر سیاسی رہنا چاہتے ہیں تو سفارش کو کبھی نا مانیں،اگر کوئی ناظم یا رکن اسمبلی آپ سے کسی کی سفارش کرتا ہے تو اس کیخلاف کاروائی کریں،ایسے لوگوں کی شکایت کریں دیکھیں جلد حالات بہتر ہوں گے،آپ کو سیاست سے پاک کوئی نہیں بنائے گا بلکہ آپ خود بنا سکتے ہیں،پولیس میں اصلاحات کا مقصد پولیس کو غیر سیاسی کرنا تھا،پولیس کو غیر سیاسی کرنے کا آسان ٹوٹکا ہے،ایم پی اے، ایم این اے کسی کی سفارش کرے تو مس کنڈیکٹ کی کاروائی کریں،پولیس کو حکومت جو حکم دیں وہ مانیں،پولیس کسی کی سفارش نہ مانے،پولیس اپنے فیصلے خود کرے،پولیس کو اپنی آزادی کیلئے خود کوشش کرنا ہوگی،جب کوئی حقوق کیلئے کھڑا ہوتا ہے تو اسکو حقوق مل جاتے ہیں،پولیس نے فیصلہ کرنا ہے اس نے آپریشنلی خود کو آزاد کرنا ہے یا نہیں،کوئی سفارش کرے تو اس کیخلاف نیب کو خط لکھ دینا چاہئے،دیکھنا ڈرامائی تبدیلی خود بخود آجائیگی۔پولیس کا تفتیشی آفیسر تربیت یافتہ ہونا چاہیے،ہجوم کو منتشر کیسے کرنا ہے اس کی ٹریننگ بھی ہونی چاہیے،فوجداری مقدمہ میں تفتیشی کو پتہ ہو تفتیش کیسے کرنی ہے،تفتیشی آفیسر مکمل ٹرینڈ نہیں ہونگے تو اپنی ذمہ داری سر انجام نہیں دیں پائیں گے،تفتیشی آفیسر تربیت یافتہ ہونگے تو ملزمان کو سزا بھی ہوگی،آج ایک تاریخ رقم کی گئی ہے،کسی چیف جسٹس کو پولیس کیجانب سے کبھی ریفرنس یا فیئر ویل نہیں دی گئی،تقریب میں نامزد چیف جسٹص جسٹس گلزار احمد کے علاوہ تمام صوبوں کے انسپکٹر جنرلز سمیتریٹائرڈ انسپکٹر جنرلز کی بھی شرکت کی۔

چیف جسٹس

مزید :

صفحہ اول -