سانحہ پی آئی سی سے شعبہ وکالت بد نام ہوا، بار کونسلر، ایسوسی ایشنز کا مذمت نہ کرنا افسوسناک: سینئر وکلاء

سانحہ پی آئی سی سے شعبہ وکالت بد نام ہوا، بار کونسلر، ایسوسی ایشنز کا مذمت نہ ...

  

لاہور،اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) سپریم کورٹ کے 54سینئر وکلاء نے پاکستان بار کونسل کو خط لکھا ہے جس میں پی آئی سی پر وکلاء کے حملے کی پُرزور الفاظ میں مذمت کی گئی ہے،خط میں کہا گیا ہے کہ پی آئی سی حملے کے واقعے نے وکالت کے شعبے کو بدنام کیا، بار کونسلز اور ایسوسی ایشن کی ہڑتال کی کال افسوسناک ہے،وقت آگیا ہے وکلاء فوری پر اپنا محاسبہ کریں، واقعے میں ملوث وکلاء کیخلاف فوری تادیبی کاروائی کی جائے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کے روز سپریم کورٹ کے 54سینئروکلاء نے پاکستا ن بار کونسل کے نام مشترکہ خط میں پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی (پی آئی سی) پر وکلاء کی جانب سے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے پبلک پراپرٹی او رہسپتال پر حملے کو کوئی جواز پیش نہیں کیا جاسکتا۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکلاء عابد حسن منٹو، رضا کاظم، مخدوم علی خان، بابر ستار اور سلمان اکرم راجہ سمیت 54وکلاء نے پاکستان بار کونسل کے نام اپنے خط میں کہا ہے کہ یہ بات ناقابل فہم اور باعث اذیت ہے کہ جنہیں قانون کی پریکٹس کا لائسنس دیا گیا ہو وہ ہسپتال پر حملہ کردیں، خواہ اس حملے کی اشتعال انگیزی سمیت کوئی بھی وجہ ہو۔ خط میں مزید کہا گیا ہے بد قسمتی سے واقعے نے وکالت کے پیشے کو بدنام کیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں بطور قانون دان ہم پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ واقعہ کے بعد بار کو نسلز اور ایسوسی ایشنز کی ہڑتال کی کال بھی افسوسناک ہے۔ احتجاج کے حق کا مطلب عدالتی امور کا بائیکاٹ ہر گز نہیں،افسوس پاکستان بار کونسل اور دیگر ایسوسی ایشنز نے حملے کی مذ مت نہیں کی۔ خط میں مطالبہ کیا گیا ہے معذرت خواہانہ رویے کی بجائے سخت ایکشن لیا جائے اور حملے میں ملوث وکلاء کیخلاف فوری تادیبی کاروائی کی جائے۔ وکالت کی ساکھ اور عظمت کی بحالی کیلئے پاکستان بار کونسل اور دیگر کونسلز اقدامات کریں۔ وقت آگیا ہے ہم اپنا فوری محاسبہ کریں۔ واقعے میں ملوث افراد کا احتساب اشتعال انگیزی سے بچنے کے اصولوں کا تعین کرنا ہوگا۔سپریم کورٹ کے54سینئر وکلا کی طرف سے پاکستان بار کونسل کو لکھے مذمتی خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پی آئی سی حملہ وکلا کا غیرذمہ دارانہ اور ناقابل یقین فعل ہے، وکلا کے حملے سے شدید دھچکا پہنچا ہے۔ قانون پر سختی سے عملدرآمد ہماری ذمہ داری ہے۔ احتجاج کے حق کا مطلب عدالتی امور کابائیکاٹ نہیں ہوتا۔خط پر جن وکلا کے دستخط موجود ہیں،ان میں عابد حسن منٹو، لاہور،رضا کاظم، لاہور،مخدوم علی خان، کراچی،علی سبطین فاضلی، لاہور،طارق محمود، کوئٹہ،محمد علی رضا، لاہور،ارشد طیب علی، کراچی،بلال حسن منٹو، لاہور،قمر افضل، اسلام آباد،سلمان اکرم راجا، لاہور،سردار اعجاز اسحاق، اسلام آباد،بابر ستار، اسلام آباد،اعجاز احمد، کراچی ستار پیرزادہ، کراچی،زاہد ابراہیم، کراچی،ساجد زاہد، کراچی،افضل صدیقی، اسلام آباد،عامر جاوید، پشاور،چوہدری عمر، لاہور،طارق عزیز، اسلام آباد،خالد اسحاق، لاہور،افضل خان، لاہور،آزاد نفیس، اسلام آباد،ارشد مرزا، لاہور،منور غنی، کراچی،فاروق امجد میر، کراچی،جمشید ملک، کراچی،ثنا منہاس، کراچی،مرتضیٰ وہاب، کراچی،محمد انس مخدوم، کراچی،ڈاکٹر امجد بخاری، کراچی،نوین مرچنٹ، کراچی،محمود اعوان، اسلام آباد،فیصل غنی، کراچی،عاصم منصور، کراچی،ثمن امتیاز، کراچی،خلیل خان، پشاور،مصطفی رمدے، لاہور،راشد حفیظ، لاہور،عمر لاکھانی، کراچی،چوہدری محمد عتیق، لاہور،فیصل اسلام، لاہور،شاذب مسعود، لاہور،عمران محمد سرور، لاہور،منصور عثمان اعوان، لاہور،تفضل رضوی، کراچی،محمد انصر اعوان، لاہور،فیصل حسین نقوی، لاہور،عزیر کرامت بھنڈاری، لاہور،افتخار الدین ریاض، لاہور،میاں محمد کاشف، لاہورحنا حفیظ اللہ اسحاق، لاہور،عبدالرحمان، کراچی اورشبیر شاہ، کراچی شامل ہیں۔

سینئر وکلا

مزید :

صفحہ اول -