حکومت کا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر کابینہ سے مشاورت کا فیصلہ 

      حکومت کا آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر کابینہ سے مشاورت ...

  

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) حکومت نے آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے بارے کابینہ سے مشاورت کا فیصلہ کر لیا، نظرثانی کی اپیل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ وزیراعظم کی وطن واپسی پر ہوگا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے زیر صدارت تحریک انصاف کے ترجمانوں کا ہنگامی اجلاس ہوا۔ قانونی ٹیم نے سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے پر حکومتی ترجمانوں کو بریفنگ دی۔ذرائع کے مطابق حکومتی ٹیم نے ترجمانوں کو بتایا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت سے متعلق سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے میں گنجائش موجود ہے، حکومت پہلے ہی فیصلے کے خلاف نظر ثانی کا اصولی فیصلہ کر چکی ہے تاہم حتمی فیصلہ وزیراعظم کی بیرون ملک واپسی پر کیا جائے گا۔اجلاس میں چیف الیکشن کمشنر اور ممبران کا معاملہ پارلیمنٹ میں ہی حل کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ حکومتی لیگل ٹیم کی بریفنگ کی روشنی میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ترجمانوں کو حکومتی بیانیے سے متعلق ہدایات دیں۔دوسری جانب ماہر قانون بابر ستار کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کیلئے پارلیمینٹ کو قانون سازی کرنا ہوگی۔انہوں نے کہا کہ آئین میں ترمیم کی ضرورت نہیں، حکومت نے خود عدالت میں یقین دہانی کرائی تھی کہ 6 ماہ میں قانون سازی کرلی جائے گی اس لیے اب نظر ثانی میں جانے کا جواز نہیں رہتا۔ماہر قانون فیصل چودھری کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں پارلیمنٹ چاہے تو قانون سازی کرسکتی ہے اور چاہے تو نہیں بھی کرے۔انہوں نے کہا کہ 1973 کے آئین اور بعد میں اٹھارویں ترمیم میں ایکسٹینشن کے معاملے کو وزیراعظم کی صوابدید پر چھوڑا گیا جو سویلین بالادستی کیلئے ضروری ہے۔تحریک انصاف کے سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی قومی مفاد کی قانون سازی ہے، سکیورٹی معاملات سے جڑی ہے، تمام قانون سازوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنا کردار ادا کریں۔ آرمی چیف کے عہدے کا اہم پہلوکسی قانون کے دائرے میں نہ آنا آئین کی روح کے منافی ہے۔فیصل جاوید نے کہا کہ پارلیمنٹ میں قانون سازی میں مشکل پیش نہیں آئے گی، بہت آسانی سے قانون سازی ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ ایکٹ آف پارلیمنٹ سے بھی ہوجائے گا اور دو تہائی اکثریت کی طرف معاملہ گیا تو وہاں بھی ہوجائے گا، یہ انتہائی قومی مفاد کا معاملہ ہے، اس میں سیاسی معاملات نہیں آئیں گے۔

آرمی چیف/مدت ملازمت

مزید :

صفحہ اول -