چیف الیکشن کمشنر اور 2ممبران کی تقرری کا معاملہ، حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈ لاک برقرار

      چیف الیکشن کمشنر اور 2ممبران کی تقرری کا معاملہ، حکومت اور اپوزیشن میں ...

  

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) چیف الیکشن کمشنر اور2ا رکان کی تقرری کا معاملہ مزید لٹک گیا، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک ختم نہ ہوسکا،سپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں ہونے والا ایک اور غیر رسمی مشاورتی اجلاس بے نتیجہ ختم ہو گیا جبکہ حکومت نے معاملے پر مشاورت کے لئے عدالت سے مزید وقت مانگنے کا فیصلہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور2 ارکان الیکشن کمیشن کی تقرری کے حوالے سے سپیکر قومی اسمبلی کے چیمبر میں غیر رسمی مشاورتی اجلاس ہوا، جس میں حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر برائے انسانی حقو ق شیریں مزاری، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیرمنصوبہ بندی وترقی اسد عمر، وفاقی برائے پارلیمانی امور اعظم خان سواتی، وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی  محمد خان اور سید فخر امام نے شرکت کی جبکہ اپوزیشن کی جانب سے سینیٹر مشاہداللہ خان، سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، سیدنوید قمر، شاہدہ اختر علی، شزا فاطمہ خواجہ،سینیٹر سکندر میندھرو اور نثار چیمہ شریک ہوئے، اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر مشاہداللہ خان نے کہا کہ مشاورتی اجلاس میں معاملے پر کافی مشاورت ہوئی، ہمیں امید ہے کہ پیش رفت ہو جائے گی کیونکہ اس بات پر تمام جماعتوں کا اتفاق ہے کہ یہ فیصلہ پارلیمنٹ کو خود کرنا چاہئے۔سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ غیر رسمی مشاورت میں بہت سارے  پہلوؤں پر غور کیا گیا۔راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ یہ سیاست میں ایک صحت مند رحجان ہے کہ ہم لوگ بیٹھ کر ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں، سب کی خواہش ہے کہ بہترین نام سامنے آئیں، جو نام بھی ہمارے سامنے ہیں سارے ہی بہترین ہیں،موجودہ سیکرٹری الیکشن کمیشن کے نام سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کی ذات پر تو کسی کو کوئی اعترض نہیں، باقی ناموں پر بھی بات ہو رہی ہے، پارلیمانی کمیٹی  میں ہی اس معاملے کا حل نکل آئے گا۔

ڈیڈ لاک برقرار

مزید :

صفحہ اول -