عالم اسلام میں بد اعتمادی

عالم اسلام میں بد اعتمادی

  

ہفتے کی رات دورۂ سعودی عرب پر گئے وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی۔ وزیراعظم کے اس دورے کے حوالے سے گزشتہ چند روز سے میڈیا میں طرح طرح کی چہ میگوئیاں جاری تھیں۔ اس دورے کی ضرورت وزیراعظم کی جانب سے 18سے 20دسمبر تک ملائیشیا میں منعقد کی جانے والی مسلمان ممالک کی کانفرنس میں شرکت کے فیصلے کی وجہ سے محسوس کی گئی۔ یہ سمٹ ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد کی خواہش پر ان ہی کی میزبانی میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ مہاتیر محمد نے چند روز قبل بیان دیا کہ مسلمان ممالک کی یہ بیٹھک آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز (او آئی سی) کا متبادل ہے، جس سے بہت سے مسلمانوں کو شکایت ہے کہ وہ ان کا موقف موثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش نہیں کر پا رہی۔

یہ بات سعودی عرب کو ایک آنکھ نہ بھائی۔ کوالالمپور میں منعقد کی جانے والی اس کانفرنس میں ملائیشیا، پاکستان، ایران، ترکی، قطر اور انڈونیشیا کے سربراہان کی شرکت متوقع تھی۔ اب خبر آئی ہے کہ سعودی عرب کے دباؤ کی وجہ سے انڈونیشیا کے سربراہ نے اس میں شرکت سے معذرت کر لی اور اب ان کی جگہ ان کا نمائندہ شرکت کرے گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کچھ اسی قسم کا دباؤ پاکستان پر بھی ڈالا گیا اور یہی دباؤ وزیراعظم عمران خان کے دورۂ سعودی عرب اور آرمی چیف کے دورۂ متحدہ عرب امارات کی وجہ بنا۔ ایک معتبر انگریزی اخبار کی خبر کے مطابق وزیراعظم عمران خان کو بدھ کے روز سعودی عرب روانہ ہونا تھا، تمام تیاریاں مکمل اور مصروفیات ترک کر دی گئیں لیکن سعودی عرب سے جس اشارے کا انتظار تھا وہ موصول نہیں ہو رہا تھا۔ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے تو میڈیا پر یہ تک کہہ دیا کہ سعودی دورے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔بالآخر ہفتے کے روز وزیراعظم سعودی عرب روانہ ہوئے اور اسی دن شام کو ان کی سعودی ولی عہد سے ملاقات ہوئی۔ اس سے قبل آرمی چیف نے بھی ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے ولی عہد سے ملاقات کی۔

منظر عام پر آنے والی اس تفصیل سے واضح ہے کہ سعودی عرب ملائیشیا میں بڑے مسلمان ممالک کی بیٹھک سے خوش نہیں۔ رپورٹس کے مطابق سعودی حکام کا خیال ہے کہ یہ عالمی سطح پر مسلمانوں کے معاملات میں سعودی عرب کا کردار محدود کرنے کی کوشش ہے۔ سعودی عرب کے ایران اور قطر سے تعلقات کی نوعیت کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں اور یہی وجہ ہے کہ اسے ملائیشیا میں منعقد کی جانے والی اس کانفرنس کا آئیڈیا کچھ پسند نہ آیا۔ مسلم ممالک کے درمیان اس قدر بداعتمادی یقینا افسوسناک اور مسلم امہ کے لئے تشویش اور پریشانی کا باعث ہونی چاہیے۔

سعودی عرب کے پاکستان کے ساتھ دہائیوں پر محیط برادرانہ تعلقات ہیں، دونوں ممالک نے مشکل وقت میں متعدد مرتبہ ایک دوسرے کی مدد کی۔ یہ تعلق ہمارا اثاثہ ہے اور ہماری قیادت کی ذمہ داری پر کسی بھی طرح اسے بگڑنے نہ دے۔جاری کی جانے والی پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد سے ملاقات میں انہیں اس بات کا یقین دلایا ہے کہ پاکستان ہر قیمت پر سعودی مفادات کا تحفظ کرے گا۔ دوسری جانب شاہ محمود قریشی نے میڈیا میں وضاحت دی کہ او آئی سی کو کمزور کرنا پاکستان کے ایجنڈے میں تھا نہ ہے، ان کا کہنا تھا کہ ہم مسلم امہ کو اکٹھا کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں چند حلقے سعودی عرب کی جانب سے ناراضی کے اظہار کے بعد سیخ پا ہیں کہ یہ ہماری خود مختاری پر حملہ ہے، کسی ملک کو یہ اختیار نہیں کہ وہ پاکستان کو ڈکٹیشن دے کہ کس کے ساتھ بیٹھنا ہے یا کس کے ساتھ نہیں۔ اصولی طور پر شائد ان کا موقف درست ہو لیکن انہیں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی نوعیت بھی معلوم ہونی چاہیے۔ جہاں تعلق زیادہ ہوتا ہے، وہاں توقعات بھی زیادہ ہوتی ہیں۔ زیادہ دور نہ بھی جائیں تو موجودہ حکومت جب ڈالرز کی تلاش میں ہر در کھٹکھٹا رہی تھی تو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے ہی پہل کی، گزشتہ برس روپے کی قدر میں گراؤ روکنے کے لئے دونوں ممالک کی جانب سے جو 5 ارب ڈالرز کے ڈیپازٹس پاکستان کو فراہم کئے گئے، اب انہیں قرض میں بدلنے کی خبر بھی آرہی ہے۔ ممالک ہوں یا انسان دونوں دوستوں سے ہی توقعات قائم کرتے ہیں، ان پر غصہ کرنے کی بجائے ٹھنڈے دل سے ان کا احترام کرنا چاہئے۔

موجودہ صورتحال پاکستان کے لئے ایک سنہری موقع بھی ہے کہ بڑے مسلمان ممالک کے ساتھ بیٹھ کر انہیں قریب لانے کی کوشش کرے ناکہ کسی ایک فریق کے ساتھ مل کر دوسروں سے بھی قطع تعلق کرلے۔ امید ہے اس حوالے سے جاری کاوشوں کا مثبت نتیجہ ہی نکلے گا۔

یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ سعودی عرب کا اعتراض اپنی جگہ لیکن او آئی سی واقعی کسی بھی ایشو پر کوئی فعال کردار ادا کرتی نظر نہیں آئی۔ چاہے فلسطین کی خودمختاری کا معاملہ ہو، عرب ممالک میں جاری خانہ جنگی ہو، کشمیر میں بھارتیوں کے مظالم ہوں یا مغربی ریاستوں کی جانب سے مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک، کسی بھی مسئلے پر او آئی سی کا کوئی کردار نظر نہیں آیا۔ مسلمانوں کو درپیش سنگین ترین مسائل پر آج تک او آئی سی میں شامل ممالک یک آواز نہیں ہو سکے۔ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران درجن سے زائد مسلمان ممالک پر جنگیں مسلط کی گئیں اور پوری مسلم دنیا خاموش تماشائی بنی رہی۔ او آئی سی کا پلیٹ فارم مسلسل چند ممالک کی آپس کی چپقلش اور سیاست کا شکار ہوتا رہا اور آج بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں۔

پاکستان کے پاس موقع ہے کہ سعودی عرب، عرب ممالک اور پوری دنیا کے مسلمان ممالک کو اس بات کا بھی احساس دلائے کہ اگر دنیا میں مسلمانوں کو ان کا جائز مقام دلانا ہے تو مل بیٹھ کر مسائل کا مقابلہ کرنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں۔ ماضی کی طرح اگر اب بھی ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتے رہے، اپنی تمام توانائیاں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر ہی صرف کرتے رہے تو پھر مستقبل، حال سے زیادہ بھیانک ہوگا۔ ان حکمرانوں کے اقتدار رہیں گے، نہ ریاستیں، عرب دنیا پر ہی نظر دوڑائیں تو گزشتہ چند سال کے دوران اس انجام سے دو چار ہونے والے کئی حکمران اور ممالک نظر آ جائیں گے۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو جو بچ گئے، ان کا انجام بھی کچھ زیادہ مختلف نہ ہوگا۔

مزید :

رائے -اداریہ -