کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے جانے کا عزم!

کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے جانے کا عزم!

  

ملتان میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سید فخر امام نے کہا ”ہم کوشش کر رہے ہیں کہ تنازعہ کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورت حال کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے کر جائیں“، سید فخر امام سینئر سیاست دان اور اب اہم کمیٹی کے سربراہ ہیں، ان کی طرف سے جو کہا گیا اسے تسلیم کرنا چاہیے۔یوں بھی برسراقتدار حضرات اور حکومت کی طرف سے کبھی بھی یہ ارادہ ظاہر نہیں کیا گیا حالانکہ ضرورت اس امر کی تھی اور ہے کہ موثر لابنگ کرکے مقبوضہ کشمیر کی حالیہ صورت حال کے حوالے سے سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کی سعی کی جائے تاکہ بھارت پر دباؤ آئے اور وہ ظالمانہ رویہ ترک کرکے تنازعہ کشمیر کا حل کرنے پر آمادہ ہو، جو اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ہے اور خود بھارتی وزیراعظم آنجہانی پنڈت جواہر لال نہرو کی درخواست پر بلائے گئے اجلاس میں یہ طے پایا تھا کہ کشمیریوں کو حق خود ارادیت دیا جائے گا مگر بھارت نہ صرف مکر گیا بلکہ بعدازاں شملہ معاہدہ اور اعلان لاہور کو بھی پس پشت ڈال دیا۔ بھارت کے وزیراعظم مودی نے اپنا ہندوتوا کا ایجنڈا پورا کرنے کے لئے 5اگست کو خود اپنے آئین کی خلاف ورزی کی اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے اسے بھارت میں ضم کر لیا جو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور پاک بھارت باہمی معاہدوں کی بھی خلاف ورزی ہے۔ الٹا بھارت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں ذرائع مواصلات منقطع اور مسلسل کرفیو جاری ہے۔مقبوضہ کشمیر کی اس صورت حال کے ہوتے ہوئے مودی حکومت اور آگے بڑھ گئی اور ایک مسلم دشمن قانون منظور کراکے نافذ کر دیا جس کے خلاف پورے بھارت میں خونریز مظاہرے ہو رہے ہیں۔کشمیریوں کی مظلومیت نے تو دنیا کی آنکھیں نہ کھولیں لیکن اب نئے اقدام کی ہر طرف سے مذمت کی جا رہی ہے ور بھارتی حکمران دنیا میں ننگے اور اکیلے نظر آ رہے ہیں، یہ وقت یقینا بہت بہتر ہے کہ بھارت کے متعصبانہ، متشددانہ اور یکطرفہ انسان دشمن اقدامات کے خلاف عالمی رائے عامہ سے رجوع کیا جائے۔ ہم سید فخر امام کی تائید کرتے اور توقع کرتے ہیں کہ پاکستان حالیہ حالات سے فائدہ اٹھا کر بھرپور سفارتی مہم کے ذریعے راہ ہموار کرے گا اور سلامتی کونسل سے بھارت کے خلاف سخت کارروائی کی منظوری حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -