مغرب میں ناموس قرآن و ناموس رسالت ؐ کا تحفظ (2)

مغرب میں ناموس قرآن و ناموس رسالت ؐ کا تحفظ (2)
مغرب میں ناموس قرآن و ناموس رسالت ؐ کا تحفظ (2)

  

مغرب میں کچھ لوگ ہمارے پیارے رسول ؐ کی توہین کرتے ہیں۔ گیرٹ وائلڈرز نے الزام عائد کیا ہے کہ مَیں گستاخانہ خاکے اس لئے شائع کر رہا ہوں، کیونکہ مسلمانوں کے رسول (ﷺ) یہودیوں اور عیسائیوں کے دُشمن ہیں۔ہمارے لئے لمحہء فکریہ ہے کہ اہل مغرب کے الزام کی تردید کیسے کرنی ہے، اس کا سدباب کیا ہے اور ان واقعات کو کیسے روکا جا سکتا ہے کہ آئندہ ایسانہ ہو؟ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم سوچ بچار کریں کہ اس سلسلے میں ہمارے پیارے رسولؐ کا وژن(دوربیں فراست) کیا ہے؟ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اہل مغرب (اہل کتاب) کو آگاہ کریں کہ ہمارے پیارے رسول ؐ یہودیوں اور عیسائیوں کے دشمن نہیں۔ ایک مغربی مصنف نے اپنی کتاب……Fundamentals of Islam ……میں غصے کا اظہار کیا ہے کہ مسلمانوں کے رسول(ﷺ) نے وفات سے چند روز قبل یہودیوں اور عیسائیوں پر لعنت بھیجی تھی۔ یہ درست ہے کہ ہمارے پیارے رسول ؐ نے وفات سے پانچ دن پہلے فرمایا تھا: ”یہودو نصاریٰ پر اللہ کی مار کہ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا“۔ ہمارے پیارے رسول ؐ نے مسلمانوں کو بھی مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا:”تم لوگ میری قبر کو بت نہ بنانا کہ اس کی پوجا کی جائے……(الرحیق المختوم)…… مغرب میں اپنے پیارے رسول ؐ کی ناموس کا تحفظ کرنے کے لئے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اہل مغرب کو درج ذیل واقعہ سے بھی آگاہ کریں۔ عیسائی عالم ورقہ بن نوفل نے ہمارے پیارے رسول ؐ سے غار حرا میں پہلی وحی کے نازل ہونے کا واقعہ سن کر کہا: ”آپؐ کو مبارک ہو، آپ کو بہت بہت مبارک ہو۔ اللہ نے آپؐ کو نبوت کے مقام پر فائز کر دیا ہے۔ آپؐ اللہ کے نبیؐ ہیں۔ آپ کے پاس حضرت جبریل ؑ تشریف لائے ہیں۔ یہ اللہ کا وہی فرشتہ ہے جو پہلے حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ ؑ کے پاس اللہ کا پیغام لا چکا ہے“۔

اس ملاقات کے بعد ورقہ بن نوفل ملک ِ شام چلے گئے اور پانچ سال بعد90برس کی عمر میں وفات پا گئے۔ صحابہ کرامؓنے رسول اللہ ؐ سے عیسائی عالم ورقہ بن نوفل کے انجام کے بارے میں پوچھا تو رسول اللہ ؐ نے جواب دیا: ”ورقہ بن نوفل کو بُرا نہ کہو۔ مَیں نے حالت خواب میں اُسے جنت میں سفید لباس میں ملبوس دیکھا ہے“……(البدایہ والنہایہ)…… مجھے یقین ہے کہ مغرب میں موجود گیرٹ وائلڈرز جیسے لوگ، جو یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے رسول (ﷺ) یہودیوں اورعیسائیوں کے دشمن ہیں، عیسائی عالم ورقہ بن نوفل کے لئے رحمت للعالمین ؐ کی طرف سے جنت کا اعلان سن کر عاجز ا ٓجائیں گے۔ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ ہم اہل مغرب کو آگاہ کریں کہ ہمارے پیارے رسول ؐ نے نجران سے آنے والے عیسائی وفد کو مسجد ِ نبویؐ میں ٹھہرایا تھا اور انہیں اپنے طریقے کے مطابق خدا کی عبادت کرنے کی اجازت دی تھی۔ مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ ہم اہل مغرب کو آگاہ کریں کہ فارس (ایران) کے آتش پرست بادشاہ خسرو پرویز نے شہنشاہ روم کو شکست دے کر اردن، شام، فلسطین اور مصر پر قبضہ کر لیا تھا۔ ہمارے پیارے رسول ؐ کو شہنشاہ روم سے ہمدردی تھی، کیونکہ وہ اہل کتاب (عیسائی) تھا۔ ہمارے پیارے رسول ؐ کی ہمدردی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے قرآن میں سورۂ روم نازل فرمائی اور شہنشاہ روم کی فتح کا اعلان کر دیا۔ تاریخ شاہد ہے کہ خسروپرویز کے بیٹے شیرویہ نے اپنے باپ کو قتل کر دیا تھا اور مقبوضہ ممالک سے اپنی افواج کو واپس بلوا لیا تھا۔ اس کے بعد شہنشاہ روم نے دوبارہ اردن، شام، فلسطین اور مصر پر قبضہ کر لیا تھا، (تفسیر سورۂ روم از تفہیم القرآن)۔

وزیر اعظم پاکستان عمران خان کا وژن ہے کہ اہل مغرب ہمارے قرآن کی توہین نہ کریں اور نہ ہمارے پیارے رسول ؐ کی توہین کریں۔ وزیر اعظم کی ہدایت پر پاکستان اقوام متحدہ میں بین المذاہب ہم آہنگی کے حق میں قرار داد بھی جمع کروا چکا ہے۔ وزیر اعظم پاکستان کا وژن ہے کہ مغرب میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کا تدارک کیا جائے اور اس سلسلے میں وزیر اعظم پاکستان نے ترکی اور ملائیشیا کے تعاون سے ایک انگلش چینل شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے،جس پر اسلام کا صحیح تشخص اجاگر کیا جائے گا اور چینل پر ناموس رسالتؐ کو صحیح پیرائے میں پیش کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نے اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ کے سالانہ کنونشن منعقدہ ہیوسٹن سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کو نہیں پتہ کہ ہم اپنے نبی ﷺ سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم تمام انبیاء کا احترام کرتے ہیں اور ہم تمام انبیاء پر ایمان رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 9/11کے بعد دنیا بھر میں اسلامو فوبیا بڑھتا جا رہا ہے، ہمیں اسلاموفوبیا کے خلاف کام کرنا ہو گا۔ وزیر اعظم نے اقوام متحدہ، جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ اسلامو فوبیا کا آغاز 9/11کے بعد ہوا اور بد قسمتی سے اسلامو فوبیا مغربی ممالک کے چند رہنماؤں کی وجہ سے پھیل رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ آزادی اظہار کو ہمارے نبی ﷺ کی تضحیک اور توہین کے لئے استعمال نہ کیا جائے،کیونکہ اس سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔ وزیر اعظم نے ناروے میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ مسلم ممالک کو اسلاموفوبیا کے خلاف کھڑے ہونا ہو گا۔وزیر اعظم نے ایک یونیورسٹی کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغرب میں ناموس رسالتؐ کا تحفظ کرنے کے لئے پاکستان میں سکالرز نہیں اور ساتھ یہ بھی کہا کہ اس سلسلے میں مولانا فضل الرحمن بھی ہماری مدد نہیں کر رہے۔

وزیر اعظم نے سعودی عرب میں او آئی سی کی سربراہی کانفرنس میں اپنے خطاب کے دوران کہا کہ او آئی سی کو مغرب میں ناموس رسالت ؐ کا تحفظ کرنے کے لئے اقدامات کرنے چاہئیں۔ ہم جانتے ہیں کہ پریذیڈنٹ آف یونائیٹڈ سٹیٹس مسٹر باراک حسین اوباما نے 4جون2009ء کو قاہرہ یونیورسٹی مصر میں مسلم دنیا کو ایڈریس کیا تھا۔ انہوں نے اپنی تقریر کا آغاز السلام علیکم سے کیا تھا۔ انہوں نے قرآنی آیات کی تعریف کی تھی اور ہمارے پیارے رسولؐ کی تعریف کی تھی۔ اشتیاق بیگ نے روزنامہ ”جنگ“ میں اپنے آرٹیکل میں مشورہ دیا تھا کہ مسلمانوں کو پریذیڈنٹ اوباما کی تقریر کا جواب دینا چاہیے اور مسلمانوں کو واضح کرنا چاہیے کہ ہمارے دلوں میں بھی دوسرے مذاہب کے لئے عزت و احترام موجود ہے۔ مغرب اُن دنوں ہمارے پیارے رسول ؐ کی توہین کر رہا تھا۔ مَیں نے ارادہ کیا اور دعا کی یا رب!مَیں پریذیڈنٹ اوباما کی تقریر کا جواب دوں گا اور مغرب میں اپنے پیارے رسول ؐ کی ناموس کا تحفظ بھی کروں گا۔

جب مَیں نے ارادہ کیا تو ہمارے پیارے رسول ؐ نے مجھے حالت خواب میں اشارہ دیا کہ پریذیڈنٹ اوباما کی تقریر کا جواب دو اور مغرب میں میری ناموس کا تحفظ بھی کرو۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ رب العالمین اپنے آخری رسول ؐ کو رحمت للعالمین ؐ،یعنی تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجے،مگر مغرب میں رحمت للعالمین ؐ کی ناموس کا تحفظ کرنے کا کوئی انتظام نہ کرے۔ مَیں ان شاء اللہ جلد ہی وزیر اعظم پاکستان کو تقریر لکھ کر دوں گا جس میں پریذیڈنٹ اوباما کی تقریر کا جواب دیا جائے گا، مغرب میں اپنے پیارے رسول ؐ کی ناموس کا بھی تحفظ کیا جائے گا اور قرآن کی ناموس کا بھی تحفظ کیا جائے گا۔ مَیں وزیر اعظم پاکستان سے درخواست کروں گا کہ آپ واشنگٹن یونیورسٹی یا نیویارک یونیورسٹی میں مسلمان+یہودی +مسیحی طلباء کو ایڈریس کریں۔ مجھے یقین ہے کہ جس طرح قاہرہ یونیورسٹی میں مسلمان طلباء نے پریذیڈنٹ اوباما کی تقریر پر بار بار تالیاں بجائی تھیں، اسی طرح یہودی اور مسیحی طلباء بھی وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی تقریر پر یونیورسٹی ہال میں بار بار تالیاں بجائیں گے۔ (ختم شد)

مزید :

رائے -کالم -